تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت جیسے اہم موقع پر کسی عورت سے مصافحہ نہیں کیا تو کسی اور کے لیے غیر محرم عورت سے مصافحہ کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ کفار کی تقلید میں غیر محرم عورتوں سے مصافحے کا رواج اور تقدس کے پردے میں پیروں کا اجنبی عورتوں سے مصافحہ دونوں حرام ہیں، کیونکہ نیت کے خلل کے ساتھ وہ زنا کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں اور سد ذرائع (گناہ کے ذریعوں سے روکنا) شریعت کا مسلّم اصول ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الْاِسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا وَالْقَلْبُ يَهْوٰی وَيَتَمَنّٰی وَيُصَدِّقُ ذٰلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ] [مسلم، القدر، باب قدر علی ابن آدم حظہ من الزنی وغیرہ: ۲۱ /۲۶۵۷] ”پس آنکھیں، ان کا زنا دیکھنا ہے اور کان، ان کا زنا توجہ سے سننا ہے اور زبان، اس کا زنا کلام ہے اور ہاتھ، اس کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں، اس کا زنا چلنا ہے اور دل خواہش کرتا ہے اور تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا اس کی تکذیب کر دیتی ہے۔“
➌ جاہلی معاشرے میں اللہ کے ساتھ شرک، چوری، زنا، قتل اولاد اور بہتان کا رواج عام تھا، اس لیے ان کا خاص طور پر ذکر کر کے ان سے منع فرمایا، جیسا کہ وفد عبدالقیس کو خاص طور پر ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا جن میں شراب بنائی جاتی تھی، کیونکہ وہ مسلمان ہو چکے تھے مگر ابھی تک ان میں شراب نوشی کا رواج باقی تھا۔ رہی دوسری منع کردہ چیزیں یا وہ چیزیں جن پر عمل کا حکم دیا ہے، تو وہ سب {” وَ لَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ “} میں آگئی ہیں۔ یہاں چونکہ عورتوں کی آمد کا ذکر ہے اس لیے ان کا نام لیا، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں سے بھی انھی باتوں پر بیعت لیتے تھے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر جب آپ کے گرد آپ کے اصحاب کی ایک جماعت موجود تھی فرمایا: [بَايِعُوْنِيْ عَلٰی أَنْ لاَ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوْا، وَلاَ تَزْنُوْا، وَلاَ تَقْتُلُوْا أَوْلاَدَكُمْ، وَلاَ تَأْتُوْا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُوْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيْكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُوْا فِيْ مَعْرُوْفٍ، فَمَنْ وَفٰی مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَی اللّٰهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِكَ شَيْئًا فَعُوْقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللّٰهُ فَهُوَ إِلَی اللّٰهِ، إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَ إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ، فَبَايَعْنَاهُ عَلٰی ذٰلِكَ] [بخاري، الإیمان، باب علامۃ الإیمان حب الأنصار: ۱۸] ”مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور زنا نہیں کرو گے اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور کوئی بہتان نہیں لاؤ گے جسے تم اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ کر لا رہے ہو گے اور کسی نیک کام میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ پھر تم میں سے جس نے اس عہد کو پورا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ان میں سے کوئی کام کر لیا، پھر اسے دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے گناہ دور کرنے کا باعث ہے اور جس نے ان میں سے کوئی کام کیا، پھر اللہ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو وہ اللہ کے سپرد ہے، اگر چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے سزا دے۔“ تو ہم نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔“
حدیبیہ اور فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے ان باتوں پر بیعت لی ہے۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے موقع پر مردوں کو خطبہ دینے کے بعد عورتوں کی طرف آئے اور فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ …» پھر جب آپ آیت کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا: [آنْتُنَّ عَلٰی ذٰلِكَ؟] ”کیا تم اس پر قائم ہو؟“ ان میں سے ایک عورت نے کہا، جس کے سوا کسی نے جواب نہیں دیا: [نَعَمْ] ”جی ہاں!“ [بخاري، العیدین، باب موعظۃ الإمام النساء یوم العید: ۹۷۹]
➍ { وَ لَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ:} اس میں حمل گرانا بھی شامل ہے، خواہ جائز ہو یا ناجائز۔
➎ { وَ لَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ: ”بُهْتَانٌ“} کسی کے ذمے گھڑ کر لگایا ہوا جھوٹ جسے سن کر وہ مبہوت اور ششدر رہ جائے۔ اکثر مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ کوئی عورت کسی دوسری عورت کا بچہ لا کر خاوند اور دوسرے لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرے کہ اس کی ولادت اس کے شکم سے ہوئی ہے، خواہ وہ کوئی گرا ہوا بچہ اٹھا کر لے آئی ہو یا کسی اور طرح سے لے آئی ہو۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب خاوند مدت تک غائب رہا ہو، یا خاوند کے بجائے کسی اور سے بچے کو جنم دے کر اسے خاوند کا بچہ ظاہر کرے۔ {” بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ “} (ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان) کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی ولادت عورت کے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان ہوتی ہے۔ مگر ”بہتان“ کو انھی صورتوں کے ساتھ خاص کرنا مشکل ہے، کیونکہ ایک تو بہتان کا لفظ عام ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے بیعت لی تو ان کے لیے بھی یہ الفاظ استعمال فرمائے: [وَلاَ تَأْتُوْا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُوْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيْكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ] [بخاري: ۱۸] ”اور نہ تم کوئی بہتان لاؤ گے جو اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے درمیان گھڑ رہے ہوں۔“ جیسا کہ پچھلے فائدے میں یہ حدیث گزری ہے۔ ظاہر ہے بہتان کی یہ صورتیں مردوں سے متعلق تصور نہیں کی جا سکتیں۔ عربی زبان میں {”بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ“} کا معنی ”سامنے“ ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ» [البقرۃ: ۲۵۵] ”وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے۔“ {” وَأَرْجُلِهِمْ“} کا لفظ اس کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے اس کا سادہ مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس بات کا وجود ہی نہیں اسے گھڑ کر پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے سامنے لا کر پیش نہ کر دیا کریں۔ اور یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ اس بات کی پروا نہ کرتے ہوئے کہ قیامت کے دن ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف شہادت دیں گے، وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے سامنے کسی پر بہتان نہ لگا دیا کریں، بلکہ انھیں چاہیے کہ اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ چار گواہوں کی موجودگی میں بہتان لگا رہی ہیں۔ اس مطلب کی تائید دوسری جگہ بہتان باندھنے والوں کے ملعون ہونے کے سلسلے میں ہاتھوں اور پاؤں کی شہادت کے ذکر سے ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ (23) يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَيْدِيْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (24) يَوْمَىِٕذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ وَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ» [النور: ۲۳ تا ۲۵] ”بے شک وہ لوگ جو پاک دامن، بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کیے گئے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ اس دن اللہ انھیں ان کا صحیح بدلا پورا پورا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے، جو ظاہر کرنے والا ہے۔“ الغرض آیت میں بہتان کی ایک صورت نہیں بلکہ ہر قسم کے بہتان سے اجتناب کا عہد لیا گیا ہے۔
➏ { وَ لَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ:} اس جملے میں پوری شریعت پر عمل کا اقرار آگیا۔ اس اقرار میں {” فِيْ مَعْرُوْفٍ “} کی شرط لگانے کی کئی توجیہیں ہیں، ایک یہ کہ اس سے اس بات کی صراحت مقصود ہے کہ رسول حکم ہی معروف کا دیتا ہے، پھر اس کی معصیت کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے۔ دوسری یہ کہ اگرچہ یہ بات ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم معروف کے سوا ہو ہی نہیں سکتا، مگر اس کے ساتھ {” مَعْرُوْفٍ “} (نیک) ہونے کی قید اس لیے لگائی تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ مخلوق کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام میں جائز نہیں، یہاں تک کہ رسول کی اطاعت بھی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ تیسری یہ کہ یہاں معاملہ عورتوں کا ہے، ان کو مطلق اطاعت کے حکم سے کہ وہ آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کریں گی، شیطان کسی کے دل میں گمراہی کا وسوسہ پیدا کر سکتا تھا، اس کا راستہ روکنے کے لیے یہ قید لگا دی۔
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کئی صورتیں مروی ہیں، جن میں سے ایک اسلام کی بیعت ہے، ایک جہاد کی، ایک بعض باتوں کی پابندی کی، مثلاً یہ کہ وہ کسی سے سوال نہیں کریں گے اور ایک کبائر سے توبہ اور اطاعت کے عہد کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام سے یہ تو ثابت ہے کہ انھوں نے لوگوں سے اسلام لانے کی بیعت لی اور امراء سے اطاعت کی بیعت کی، مگر خلیفہ یا امیر کے علاوہ کسی اور شخص کا لوگوں سے اپنا مرید بنانے کی بیعت لینا، جیسا کہ صوفیہ کا طریقہ ہے، صحابہ کرام کے دور بلکہ پورے خیر القرون میں ثابت نہیں، کیونکہ اس سے مسلمانوں میں فرقے اور گروہ پیدا ہوتے ہیں۔ پھر یہ معاملہ نقشبندی، سہروردی، چشتی اور قادری تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ہر ایک اپنی الگ گدی اور الگ حلقہ قائم کر لیتا ہے جو صرف اس کے حکم کا پابند ہوتا ہے اور ہر پیر و مرشد کا تقاضا ہوتا ہے کہ مرید کا علم چونکہ ناقص ہے اس لیے اگر اس کا مرشد اسے شریعت کے صریح خلاف حکم دے تو وہ بھی اس کے لیے ماننا ضروری ہے، کیونکہ اس میں بھی کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ان حضرات نے {” فِيْ مَعْرُوْفٍ “} کی قید بھی اڑا دی، چنانچہ ان کے لسان الغیب حافظ شیرازی کہہ گئے ہیں:
بمے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نبود زراہ و رسم منزلہا
”اگر پیر مغاں تمھیں حکم دیتا ہے تو مصلے کو شراب سے رنگ لو، کیونکہ سالک منزلوں کے راہ و رسم سے بے خبر نہیں ہوتا۔“ حقیقت یہ ہے کہ پیری مریدی کا یہ سلسلہ امت کے کتاب و سنت سے دوری اور اس کے باہمی افتراق کا خوف ناک باعث ہے۔ آپ لاکھ قرآن و سنت سنائیں، پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والا یہی کہے گا کہ کیا ہمارے پیر کو یہ معلوم نہیں۔ رہی یہ بات کہ ہم بطور استاذ اور ہادی پیر کی بیعت کرتے ہیں، تو ایک تو اس کے لیے بیعت کی ضرورت نہیں، پھر اپنے آپ کو ایک ہی استاذ اور ہادی کے حکم کا پابند بنانا کہاں سے ثابت ہوا؟ آپ متعدد اساتذہ اور رہنماؤں سے تعلیم اور رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں اور کرنی چاہیے۔ ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہر صورت ہی درست تھی، کیونکہ وہ نبی تھے، ان کے ہوتے کسی اور کی بیعت نہ تھی اور نہ ہی اس سے افتراق یا انتشار پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ پھر خلیفہ اور امیر کی بیعت درست ہے، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے اور ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے کسی اور کی بیعت جائز نہیں۔
➑ { فَبَايِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی اگر وہ ان باتوں کا عہد کریں تو آپ ان کی بیعت قبول کر لیں اور اس سے پہلے ان سے جو لغزشیں ہوئیں یا آئندہ بشری کمزوری کی بنا پر ہوں گی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[26] جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا کہ رسمی ننگ و عار کی وجہ سے لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ یا فقر و فاقہ کے خوف کی وجہ سے لڑکیوں کے علاوہ لڑکوں کو بھی مار ڈالتے تھے۔ نیز اس میں اسقاط حمل بھی شامل ہے۔ خواہ یہ جائز حمل کا اسقاط ہو یا ناجائز حمل کا۔
[28] بیعت کا سلسلہ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ امت کا امیر اور دوسرے بزرگ حضرات بھی بیعت لے سکتے ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اطاعت کے ساتھ معروف کی شرط بھی لگا دی۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ناممکن تھا کہ آپ کسی غیر معروف یا معصیت کے کام پر بیعت لیں اس سلسلہ میں آپ نے ایک واضح قانون ان الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ:
﴿لا طاعة فى معصية انما الطاعة فى المعروف﴾ [متفق عليه]
یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا کام ہو تو کسی کی بھی اطاعت ضروری نہیں۔
اطاعت صرف بھلائی کے کاموں میں ہوتی ہے۔ اس آیت سے دوسری بات جو مستنبط ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی ہر بات واجب الاتباع ہے خواہ اس کا ذکر قرآن میں موجود ہو یا نہ ہو۔
2۔
3۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ میں نے عید کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ سب کے ساتھ پڑھی۔ آپ خطبہ سے پہلے نماز پڑھاتے پھر اس کے بعد خطبہ سناتے تھے۔ خطبہ کے بعد آپ منبر سے اترے گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے۔ پھر ان کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے عورتوں کے پاس آئے۔ بلالؓ آپ کے ساتھ تھے۔ اور ان کے سامنے یہ (بیعت والی) پوری آیت پڑھی۔ اس سے فراغت کے بعد عورتوں سے پوچھا: ”کیا ان شرطوں پر قائم ہوتی ہو؟“ ایک عورت کے سوا کسی نے کوئی جواب نہ دیا (شرما گئیں) اس عورت (اسما بنت یزید) نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد آپ نے ان سے کہا کہ وہ صدقہ کریں۔ بلالؓ نے اپنا کپڑا بچھا دیا۔ اور وہ چھلے اور انگوٹھیاں بلالؓ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ [حواله ايضاً]
4۔ سیدنا عبادہ بن صامتؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لیلۃ العقبہ) میں ہم سے فرمایا: تم مجھ سے ان باتوں پر بیعت کرتے ہو۔ ﴿أنْ لاَ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ شَيْئًا وَلاَ تَزْنُوْا وَلاََ تَسْرِقُوْا﴾ پھر جو ان شرطوں کو پورا کرے اس کا ثواب اللہ پر ہے اور جو کوئی کام کر بیٹھے پھر اس پر حد لگ جائے تو وہ اس کے گناہ کا کفارہ ہو جائے گا اور اگر کوئی گناہ کر بیٹھے اور اللہ اس کا گناہ چھپا دے تو پھر قیامت کے دن اللہ اگر چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ [حواله ايضاً]
بیعت کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوا کہ آپ ان بیعت کرنے والیوں کے حق میں دعائے مغفرت بھی کیا کریں۔ کہ ان امور میں ان سے جو کوتاہیاں پہلے ہو چکی ہیں۔ یا آئندہ اس عہد کی تعمیل میں کچھ تقصیر رہ جائے تو اللہ انہیں معاف فرما دے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ سیدہ امیمہ، خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خالہ ہیں، مسند احمد میں سیدہ سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ تھیں اور دونوں قبلوں کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی تھی، جو بنو عدی بن نجار کے قبیلہ میں سے تھیں، فرماتی ہیں: انصار کی عورتوں کے ساتھ خدمت نبوی میں بیعت کرنے کے لیے میں بھی آئی تھی اور اس آیت میں جن باتوں کا ذکر ہے ان کا ہم نے اقرار کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کا بھی اقرار کرو کہ اپنے خاوندوں کی خیانت اور ان کے ساتھ دھوکہ نہ کرو گی“، ہم نے اس کا بھی اقرار کیا بیعت کی اور جانے لگیں پھر مجھے خیال آیا اور ایک عورت کو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ دریافت کر لیں کہ خیانت و دھوکہ نہ کرنے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ اس کا مال چپکے سے کسی اور کو نہ دو۔“ [مسند احمد:6/379ضعیف]
مسند کی حدیث میں ہے { سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنی والدہ رایطہ بنت سفیان نزاعیہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والیوں میں تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں پر بیعت لے رہے تھے اور عورتیں ان کا اقرار کرتی تھیں میری والدہ کے فرمان سے میں نے بھی اقرار کیا اور بیعت والیوں میں شامل ہوئی }، [صحیح بخاری:4892]
صحیح بخاری میں { سیدہ ام عطیہ سے منقول ہے کہ ہم نے ان باتوں پر اور اس امر پر کہ ہم کسی مرے پر نوحہ نہ کریں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، اسی اثناء میں ایک عورت نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور کہا میں نوحہ کرنے سے باز رہنے پر بیعت نہیں کرتی اس لیے کہ فلاں عورت نے میرے فلاں مرے پر نوحہ کرنے میں میری مدد کی ہے تو میں اس کا بدلہ ضرور اتاروں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے سن کر خاموش ہو رہے اور کچھ نہ فرمایا وہ چلی گئیں لیکن پھر تھوڑی ہی دیر میں واپس آئیں اور بیعت کر لی۔
بخاری کی اور روایت میں ہے کہ { پانچ عورتوں نے اس عہد کو پورا کیا، ام سلیم، ام علام، ابوسبرہ کی بیٹی جو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور دو عورتیں اور یا ابوسبرہ کی بیٹی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی اور ایک عورت اور، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید والے دن بھی عورتوں سے اس بیعت کا معاہدہ لیا کرتے تھے }، [صحیح بخاری:1306]
صحیح بخاری میں ہے { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رمضان کی عید کی نماز میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ پڑھی ہے سب کے سب خطبے سے پہلے نماز پڑھتے تھے، پھر نماز کے بعد خطبہ کہتے تھے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبے سے اترے گویا وہ نقشہ میری نگاہ کے سامنے ہے کہ لوگوں کو بٹھایا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان سے تشریف لا رہے تھے، یہاں تک کہ عورتوں کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے یہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [الممتحنہ:12] کی تلاوت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تم اپنے اس اقرار پر ثابت قدم ہو ایک عورت نے کھڑے ہو کر جواب دیا کہ ہاں، اے اللہ کے رسول! اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہیں کسی اور نے جواب نہیں دیا، راوی حدیث حسن رحمہ اللہ کو یہ معلوم نہیں کہ یہ جواب دینے والی کون سی عورت تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا خیرات کرو“ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا چنانچہ عورتوں نے اس پر بےنگینہ کی اور نگینہ دار انگوٹھیاں راہ اللہ ڈال دیں }۔ [صحیح بخاری:4895]
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے بھی ایک مجلس میں فرمایا کہ مجھ سے ان باتوں پر بیعت کرو جو اس آیت میں ہیں، جو شخص اس بیعت کو نبھا دے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جو اس کے خلاف کر گزرے اور وہ مسلم حکومت سے پوشیدہ رہے اس کا حساب اللہ کے پاس ہے اگر چاہے بخش دے اور اگر چاہے عذاب کرے }۔ [صحیح بخاری:18]
ابن جریر کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عورتوں سے کہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے اس بات پر بیعت لیتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، ان کی بیعت کے لیے آنے والیوں میں سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا تھیں، عقبہ بن ربیعہ کی بیٹی اور سفیان کی بیوی یہی تھیں جنہوں نے اپنے کفر کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چیر دیا تھا اس وجہ سے یہ ان عورتوں میں ایسی حالت سے آئی تھیں کہ کوئی انہیں پہچان نہ سکے اس نے جب فرمان سنا تو کہنے لگی میں کچھ کہنا چاہتی ہوں لیکن اگر بولوں گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پہچان لیں گے اور اگر پہچان لیں گے تو میرے قتل کا حکم دے دیں گے، میں اسی وجہ سے اس طرح آئی ہوں کہ نہ پہچانی جاؤں، مگر اور عورتیں سب خاموش رہیں اور ان کی بات اپنی زبان سے کہنے سے انکار کر دیا، آخر ان ہی کو کہنا پڑا کہ یہ ٹھیک ہے جب شرک کی ممانعت مردوں کو ہے تو عورتوں کو کیوں نہ ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہ فرمایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ان سے کہہ دو کہ دوسری بات یہ ہے کہ یہ چوری نہ کریں، اس پر ہندہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں ابوسفیان کی معمولی سی چیز کبھی کبھی لے لیا کرتی ہوں کیا یہ بھی چوری میں دخل ہے یا نہیں؟ اور میرے لیے یہ حلال بھی ہے یا نہیں؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بھی اسی مجلس میں موجود تھے، یہ سنتے ہی کہنے لگے، میرے گھر میں جو کچھ بھی تو نے لیا ہو خواہ وہ خرچ میں آ گیا ہو یا اب بھی باقی ہو وہ سب میں تیرے لیے حلال کرتا ہوں، اب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف پہچان لیا کہ یہ میرے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قاتلہ اور اس کے کلیجے کو چیرنے والی پھر اسے چبانے والی عورت ہندہ رضی اللہ عنہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہچان کر اور ان کی یہ گفتگو دیکھ کر مسکرا دیئے اور انہیں اپنے پاس بلایا انہوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام کر معافی مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہی ہندہ ہو؟“ انہوں نے کہا: گزشتہ گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے اور بیعت کے سلسلہ میں پھر لگ گئے اور فرمایا: ”تیسری بات یہ ہے کہ ان عورتوں میں سے کوئی بدکاری نہ کرے“، اس پر سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا کوئی آزاد عورت بھی بدکاری کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، اللہ کی قسم آزاد عورتیں اس برے کام سے ہرگز آلود نہیں ہوتیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”چوتھی بات یہ ہے کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں“ ہندہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے انہیں بدر کے دن قتل کیا ہے، آپ جانیں اور وہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچویں بات یہ ہے کہ خود اپنی ہی طرف سے جوڑ کر بےسر پیر کا کوئی خاص بہتان نہ تراش لیں اور چھٹی بات یہ ہے کہ میری شرعی باتوں میں میری نافرمانی نہ کریں“ اور ساتواں عہد آپ نے ان سے یہ بھی لیا کہ وہ نوحہ نہ کریں اہل جاہلیت اپنے کسی کے مر جانے پر کپڑے پھاڑ ڈالتے تھے منہ نوچ لیتے تھے بال کٹوا دیتے تھے اور ہائے وائے کیا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34013:ضعیف] یہ اثر غریب ہے اور اس کے بعض حصے میں نکارت بھی ہے اس لیے کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا کے اسلام کے وقت انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی اندیشہ نہ تھا بلکہ اس سے بھی آپ نے صفائی اور محبت کا اظہار کر دیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ جب سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا بیعت کرنے آئیں تو ان کے ہاتھ مردوں کی طرح سفید تھے، آپ نے فرمایا: ”جاؤ ان کا رنگ بدل لو“ چنانچہ وہ مہندی لگا کر حاضر ہوئیں، ان کے ہاتھ میں دو سونے کے کڑے تھے انہوں نے پوچھا کہ ان کی نسبت کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”جہنم کی آگ کے دو انگارے ہیں“، [مسند ابویعلیٰ194/8:ضعیف] (یہ حکم اس وقت ہے جب ان کی زکوٰۃ نہ ادا کی جائے)
اس بیعت کے لینے کے وقت آپ کے ہاتھ میں ایک کپڑا تھا، جب اولادوں کے قتل کی ممانعت پر ان سے عہد لیا گیا تو ایک عورت نے کہا، ان کے باپ دادوں کو تو قتل کیا اور ان کی اولاد کی وصیت ہمیں ہو رہی ہے، یہ شروع شروع میں صورت بیعت کی تھی لیکن پھر اس کے بعد آپ نے یہ دستور کر رکھا تھا کہ جب بیعت کرنے کے لیے عورتیں جمع ہو جاتیں تو آپ یہ سب باتیں ان پر پیش فرماتے، وہ ان کا اقرار کرتیں اور واپس لوٹ جاتیں۔
پس فرمان اللہ ہے کہ جو عورت ان امور پر بیعت کرنے کے لیے آئے تو اس سے بیعت لے لو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، غیر لوگوں کے مال نہ چرانا، ہاں اس عورت کو جس کا خاوند اپنی طاقت کے مطابق کھانے پینے پہننے اوڑھنے کو نہ دیتا ہو جائز ہے کہ اپنے خاند کے مال سے مطابق دستور اور بقدر اپنی حاجت کے لے گو خاوند کو اس کا علم نہ ہو اس کی دلیل ہندہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرے خاوند ابوسفیان بخیل آدمی ہیں وہ مجھے اتنا خرچ نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولادوں کو کافی ہو سکے تو کیا میں اگر ان کی بےخبری میں اور ان کے مال میں لے لوں تو مجھے جائز ہے؟ آپ نے فرمایا بطریق معروف اس کے مال سے اتنا لے لے جو تجھے اور تیرے بال بچوں کو کفایت کرے۔ [صحیح بخاری:2211]
مسند احمد میں ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت عقبہ رضی اللہ عنہا جب بیعت کے لیے آئیں اور اس آیت کی تلاوت ان کے سامنے کی گئی تو انہوں نے شرم سے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا آپ کو ان کی یہ حیاء اچھی معلوم ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا انہی شرطوں پر ہم سب نے بیعت کی ہے یہ سن کر انہوں نے بھی بیعت کر لی، [مسند احمد:151/6:صحیح]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کے طریقے اوپر بیان ہو چکے ہیں، اولاد کو قتل نہ کرنے کا حکم عام ہے، پیدا شدہ اولاد کو مار ڈالنا بھی اسی ممانعت میں ہے جیسے کہ جاہلیت کے زمانے والے اس خوف سے کرتے تھے کہ انہیں کہاں سے کھلائیں گے پلائیں گے، اور حمل کا گرا دینا بھی اسی ممانعت میں ہے خواہ اس طرح ہو کہ ایسے علاج کئے جائیں جس سے حمل ٹھہرے ہی نہیں یا ٹھہرے ہوئے حمل کو کسی طرح گرا دیا جائے۔
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ «ملاعنہ» کی آیت کے نازل ہونے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت کسی قوم میں اسے داخل کرے جو اس قوم کا نہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی گنتی شمار میں نہیں اور جو شخص اپنی اولاد سے انکار کر جائے حالانکہ وہ اس کے سامنے موجود ہو اللہ تعالیٰ اس سے آڑ کر لے گا اور تمام اگلوں پچھلوں کے سامنے اسے رسوا و ذلیل کرے گا“، [سنن ابوداود:2263،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں یعنی آپ کے احکام بجا لائیں اور آپ کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک جایا کریں، یہ شرط یعنی معروف ہونے کی عورتوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے لگا دی ہے، میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی اطاعت بھی فقط معروف میں رکھی ہے اور معروف ہی طاعت ہے۔
سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دیکھ لو کہ بہترین خلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کا حکم بھی معروف میں ہی ہے، اس بیعت والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے نوحہ نہ کرنے کا اقرار بھی لیا تھا جیسے سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں پہلے گزر چکا، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس بیعت میں یہ بھی تھا کہ عورتیں غیر محرموں سے بات چیت نہ کریں، اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم گھر پر موجود نہیں ہوتے اور مہمان آ جاتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”میری مراد ان سے بات چیت کرنے کی ممانعت سے نہیں، میں ان سے کام کی بات کرنے سے نہیں روکتا“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34014:مرسل]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیعت کے موقعہ پر عورتوں کو نامحرم مردوں سے باتیں کرنے سے منع فرمایا [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] اور فرمایا بعض لوگ وہ بھی ہوتے ہیں کہ پرائی عورتوں سے باتیں کرنے میں ہی مزہ لیا کرتے ہیں یہاں تک کہ مذی نکل جاتی ہے۔
اوپر حدیث بیان ہو چکی ہے کہ نوحہ نہ کرنے کی شرط پر ایک عورت نے کہا فلاں قبیلے کی عورتوں نے میرا ساتھ دیا ہے تو ان کے نوحے میں میں بھی ان کا ساتھ دے کر بدلہ ضرور اتاروں گی چنانچہ وہ گئیں بدلہ اتارا پھر آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جن کا نام ان عورتوں میں ہے جنہوں نے نوحہ نہ کرنے کی بیعت کو پورا کیا یہ ملحان کی بیٹی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ [صحیح بخاری:4892]
اور روایت میں ہے کہ جس عورت نے بدلے کے نوحے کی اجازت مانگی تھی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دی تھی یہی وہ معروف ہے جس میں نافرمانی منع ہے، بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ایک کا بیان ہے کہ معروف میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں اس سے مطلب یہ ہے کہ مصیبت کے وقت منہ نہ نوچیں، بال نہ منڈوائیں، کپڑے نہ پھاڑیں، ہائے وائے نہ کریں۔
پھر حکم ہوا کہ دونوں عیدوں میں ہم اپنی خانضہ عورتوں اور جوان کنواری لڑکیوں کو لے جایا کریں، ہم پر جمعہ فرض نہیں، ہمیں جنازوں کے ساتھ نہ جانا چاہیئے۔ اسماعیل راوی حدیث فرماتے ہیں میں نے اپنی دادی صاحبہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ عورتیں معروف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں اس سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا یہ کہ نوحہ نہ کریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34029:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں، جو گلا پھاڑ پھاڑ کر ہائے وائے کرے، بال نوچے یا منڈوائے اور کپڑے پھاڑے یا دامن چیرے }۔ [صحیح مسلم:104]
ابویعلی میں ہے کہ { میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جنہیں وہ نہ چھوڑیں گے، حسب نسب پر فخر کرنا، انسان کو اس کے نسب کا طعنہ دینا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور میت پر نوحہ کرنا اور فرمایا: ”نوحہ کرنے والی عورت اگر بغیر توبہ کئے مر جائے تو اسے قیامت کے دن گندھک کا پیراہن پہنایا جائے گا اور کھجلی کی چادر اڑھائی جائے گی“ }۔ [صحیح مسلم:934]
ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والیوں پر اور نوحے کو کان لگا کر سننے والیوں پر لعنت فرمائی }، [سنن ابوداود:3128،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { معروف میں نافرمانی نہ کرنے سے مراد نوحہ کو کان لگا کر سننے والیوں پر لعنت فرمائی }، ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { معروف میں نافرمانی نہ کرنے سے مراد نوحہ نہ کرنا ہے، یہ حدیث ترمذی کی کتاب التفسیر میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں }۔ [سنن ابن ماجہ:1579،قال الشيخ الألباني:حسن]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الشروط المذكورة في هذه الآية تسمَّى مبايعة النساء، اللاتي كنَّ يبايِعْنَّ على إقامة الواجبات المشتركة التي تجب على الذُّكور والنساء في جميع الأوقات، وأما الرجال؛ فيتفاوتُ ما يلزمُهم بحسب أحوالهم ومراتبهم وما يتعيَّن عليهم، فكان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - يمتثل ما أمره الله [به]، فكان إذا جاءته النساءُ يبايِعْنَه والتزمن بهذه الشروط؛ بايَعَهُنَّ وجَبَرَ قلوبَهُنَّ، واستغفر لهنَّ الله فيما يحصل منهنَّ من التقصير وأدخلهنَّ في جملة المؤمنين، {على أن لا يُشْرِكنَ بالله شيئاً}: بل يفرِدْنَ الله وحده بالعبادة، {ولا يَقْتُلْنَ أولادهنَّ}: كما يجري لنساء الجاهليَّة الجهلاء، {ولا يَزْنينَ}: كما كان ذلك موجوداً كثيراً في البغايا وذوات الأخدان، {ولا يأتين ببُهتانٍ يفترينَه بين أيديهنَّ وأرجُلهنَّ}: والبهتان الافتراء على الغير؛ أي: لا يفترين بكلِّ حالة، سواءً أتعلَّقت بهنَّ مع أزواجهنَّ أو تعلَّق ذلك بغيرهم، {ولا يَعْصينَكَ في معروفٍ}؛ أي: لا يعصينك في كلِّ أمرٍ تأمرهنَّ به؛ لأنَّ أمرك لا يكون إلاَّ بمعروفٍ، ومن ذلك طاعتهنَّ لك في النهي عن النياحة وشقِّ الجيوب وخمش الوجوه والدُّعاء بدعوى الجاهلية، {فبايِعْهُنَّ}: إذا التزمنَ بجميع ما ذُكِر، {واستَغْفِرْ لهنَّ اللهَ}: عن تقصيرهنَّ وتطييباً لخواطرهنَّ. {إنَّ الله غفورٌ}؛ أي: كثير المغفرة للعاصين والإحسان إلى المذنبين التائبين. {رحيمٌ}: وسعت رحمتُه كلَّ شيءٍ وعمَّ إحسانُه البَرايا.