اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں، اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں، جسے اللہ چاہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھے راستے پر لگا دیتا ہے۔
En
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اس کے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے
اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں وه تو طرح طرح کی ﻇلمتوں میں بہرے گونگے ہو رہے ہیں، اللہ جس کو چاہے بے راه کردے اور وه جس کو چاہے سیدھی راه پر لگا دے
En
(آیت 39) ➊ {وَالَّذِيْنَكَذَّبُوْابِاٰيٰتِنَا …:} یعنی ہماری آیات کو جھٹلانے والے چونکہ حق بات نہ سنتے ہیں، نہ ان کی زبانوں سے حق بات نکلتی ہے، اس لیے وہ بہرے اور گونگے ہیں اور کفر و شرک اور نفس کی بے جا خواہشوں کے اندھیروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہی بات سورۂ بقرہ (۱۷، ۱۸) اور سورۂ نور (۴۶) میں بیان ہوئی ہے۔ ➋ {مَنْيَّشَاِاللّٰهُيُضْلِلْهُ …:} مگر وہ گمراہ انھی کو کرتا ہے جو اپنی صلاحیتوں کو صحیح استعمال نہیں کرتے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶، ۲۷) اور سورۂ اعراف (۱۷۶) اور ہدایت انھی کو دیتا ہے جو اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ شوریٰ (۱۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
39۔ 1 آیات الٰہی کو جھٹلانے والے چونکہ اپنے کانوں سے حق بات سنتے نہیں اور اپنی زبانوں سے حق بات بولتے نہیں، اس لئے وہ ایسے ہی ہیں جیسے گونگے اور بہرے ہوتے ہیں، علاوہ ازیں یہ کفر اور ضلالت کی تاریکیوں میں بھی گھرے ہوئے ہیں۔ اس لئے انھیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جس سے ان کی اصلاح ہو سکے۔ پس ان کے حواس گویا مسلوب ہوگئے جن سے کسی حال میں وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے پھر فرمایا تمام اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ جسے چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھی راہ پر لگا دے لیکن اس کا یہ فیصلہ یوں ہی الل ٹپ نہیں ہوجاتا بلکہ عدل وانصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے گمراہ اسی کو کرتا ہے جو خود گمراہی میں پھنسا ہوتا ہے اس سے نکلنے کی وہ سعی کرتا ہے نہ نکلنے کو وہ پسند ہی کرتا ہے مزید دیکھئے سورة بقرہ آیت 26 کا حاشیہ
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
39۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں جو اندھیروں [45] میں ہیں (کہ حق کو دیکھ بھی نہیں سکتے) اللہ جسے چاہے اسے گمراہ کرتا ہے اور جس کے متعلق چاہتا ہے اسے راہ راست پر لگا دیتا ہے
[45] جو شخص اللہ کی آیات کو جھٹلا دے اس پر ہدایت کی سب راہیں مسدود ہو جاتی ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی گوں گا۔ بہرا شخص گہرے اندھیروں میں ہو۔ وہ اندھیروں کی وجہ سے خود کچھ دیکھ نہیں سکتا۔ بہرا ہونے کی وجہ سے ہدایت کی بات سن نہیں سکتا اور گوں گا ہونے کی وجہ سے کسی سے پوچھ نہیں سکتا۔ ایسا شخص گمراہ نہ ہو گا تو کیا ہو گا؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنا رویہ بدل لے اور آیات الٰہی میں غور کرنا شروع کر دے تو پھر اللہ اسے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا حال بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر کے ہلاکت کے دروازے کھول لیے۔ اور وہ ﴿ صُمٌّ ﴾”بہرے“ یعنی حق سننے سے بہرے ہیں ﴿ بُكْمٌ ﴾”گونگے“ یعنی حق بولنے سے گونگے ہیں، پس باطل کے سوا کچھ نہیں بولتے ﴿ فِیالظُّلُمٰتِ ﴾”اندھیروں میں “ یعنی جہالت، کفر، ظلم، عناد اور نافرمانی کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا ان کو گمراہ کر دینا ہے۔ کیونکہ ﴿ مَنْیَّشَاِاللّٰهُیُضْلِـلْهُ١ؕوَمَنْیَّشَاْیَجْعَلْهُعَلٰىصِرَاطٍمُّسْتَقِیْمٍ ﴾”وہ جس کو چاہتا ہے، گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے“ کیونکہ وہی اکیلا اپنی حکمت اور فضل و کرم کے تقاضوں کے مطابق ہدایت دیتا یا گمراہ کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا بيانٌ لحال المكذِّبين بآيات الله المكذِّبين لرسله: أنَّهم قد سدُّوا على أنفسهم باب الهُدى، وفتحوا باب الرَّدى، وأنهم {صُمٌّ} عن سماع الحقِّ، {بُكْمٌ} عن النُّطق به؛ فلا ينطِقون إلا بالباطل ، {في الظُّلمات}؛ أي: منغمِسون في ظلمات الجهل والكفر والظُّلم والعناد والمعاصي، وهذا من إضلال اللهِ إيَّاهم؛ فمن {يَشَإِ اللهُ يُضْلِلْهُ ومن يَشَأ يَجْعَلْهُ على صراطٍ مستقيم}؛ لأنَّه المنفرد بالهداية والإضلال بحسبِ ما اقتضاه فضله وحكمته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔