تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 38

وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ ؕ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ یُحۡشَرُوۡنَ ﴿۳۸﴾
اور زمین میں نہ کوئی چلنے والا ہے اور نہ کوئی اڑنے والا، جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے مگر تمھاری طرح امتیں ہیں، ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی، پھر وہ اپنے رب کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔ En
اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے ان کی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے
En
اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح کے گروه نہ ہوں، ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی پھر سب اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

زمین میں رہنے والے، ہوا میں اڑنے والے، بہائم، جنگلوں میں رہنے والے وحشی جانور اور پرندے سب تمھاری طرح گروہ ہیں ان کو بھی ہم نے اسی طرح پیدا کیا ہے جس طرح تمھیں پیدا کیا ہے، اسی طرح ہم ان کو بھی رزق عطا کرتے ہیں جس طرح تمھیں عطا کرتے ہیں۔ ہماری قدرت اور مشیت ان پر بھی اسی طرح نافذ ہے جس طرح تم پر نافذ ہے۔ ﴿ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ہم نے کتاب میں کسی چیز میں کوتاہی نہیں کی۔ یعنی ہم نے کسی چیز کو لوح محفوظ میں لکھنے میں کوتاہی اور غفلت نہیں کی بلکہ تمام چھوٹی بڑی چیزیں جیسی بھی وہ ہیں لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں۔ پس تمام حوادث اس کے مطابق واقع ہوتے ہیں جو قلم سے لکھے جاچکے ہیں۔
یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ سب سے پہلے لوح محفوظ میں تمام کائنات کی تقدیر لکھ دی گئی۔ یہ قضا و قدر کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے۔ قضا و قدر کے چار مراتب ہیں۔
(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم تمام اشیا کو شامل ہے۔
(۲) اس کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) تمام موجودات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
(۳) اس کی مشیت اور قدرت عامہ ہر چیز پر نافذ ہے۔
(۴) تمام مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، حتی کہ بندوں کے افعال کا خالق بھی وہی ہے۔
اس آیت مبارکہ میں یہ احتمال ہو سکتاہے کہ کتاب سے مراد قرآن ہو، تب اس کے معنی قرآن کریم کی اس آیت کی مانند ہوں گے ﴿ وَنَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّ٘كُ٘لِّ شَیْءٍ (النحل: 16؍89) اور ہم نے تم پر کتاب نازل کی جس میں ہر چیز بیان کر دی گئی ہے۔
﴿ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ پھر سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ یعنی تمام امتوں کو قیامت کے میدان میں اللہ تعالیٰ کے حضور جمع کیا جائے گا۔ یہ انتہائی ہولناک مقام ہو گا۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے عدل و احسان سے سب کو جزا دے گا اور ان پر اپنا فیصلہ نافذ کرے گا، جس کی تعریف اولین و آخرین، آسمانوں والے اور زمین والے سب کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: جميع الحيوانات الأرضية والهوائية من البهائم والوحوش والطيور كلُّها أممٌ أمثالُكم، خلَقْناها كما خلَقْناكم، ورزقْناها كما رزقناكم، ونفذتْ فيها مشيئتُنا وقدرتُنا كما كانت نافذة فيكم. {ما فرَّطْنا في الكتاب من شيء}؛ أي: ما أهملنا ولا أغفلنا في اللوح المحفوظ شيئاً من الأشياء، بل جميعُ الأشياء ـ صغيرها وكبيرها ـ مثبتةٌ في اللوح المحفوظ على ما هي عليه، فتقع جميع الحوادث طِبْقَ ما جرى به القلم. وفي هذه الآية دليلٌ على أن الكتاب الأول قد حوى جميع الكائنات، وهذا أحدُ مراتب القضاء والقدر؛ فإنها أربعُ مراتب: علمُ الله الشامل لجميع الأشياء، وكتابُهُ المحيط بجميع الموجودات، ومشيئتُهُ وقدرتُهُ النافذة العامَّة لكلِّ شيءٍ، وخَلْقُه لجميع المخلوقات حتى أفعال العباد. ويُحتمل أنَّ المراد بالكتاب هذا القرآن، وأنَّ المعنى كالمعنى في قوله تعالى: {ونَزَّلْنا عَلَيْكَ الكِتابَ تِبيْاناً لِكُلِّ شيءٍ}. وقوله: {ثمَّ إلى رَبِّهِمْ يُحْشَرونَ}؛ أي: جميع الأمم تُحشر وتُجمع إلى الله في موقف القيامة، في ذلك الموقف العظيم الهائل، فيجازيهم بعدلِهِ وإحسانِهِ، ويُمضي عليهم حُكمَهُ الذي يَحْمَدُه عليه الأولون والآخرون؛ أهل السماء وأهل الأرض.