تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ ایسا کرنے پر قادر ہے، مگرا س کی حکمت اور مصلحت یہ ہے کہ اگر صاف کھلی نشانی آجائے، جیسے اونٹنی جو صالح علیہ السلام کے عہد میں بھیجی گئی تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ان کی مدت مہلت ختم ہو جائے گی اور فوراً عذاب آجائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ ان کو ہلاک نہ کیا جائے، مگر ان کے اکثر اس بات کو نہیں جانتے۔ (رازی) دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۵۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [11-هود:6] یعنی ’ جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں ‘۔
اور مقام پر ارشاد ہے آیت «وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [29۔العنکبوت:60] ’ بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک سے باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے ‘۔
آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہو گی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:10132/7:موضوع]
جیسے فرمایا آیت «وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ» [81۔ التکویر:5]
مسند احمد میں ہے کہ { دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ { جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ } جواب ملا کہ میں کیا جانوں؟ فرمایا: { لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1588:صحیح]۔
ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13227:حسن بالشواهد]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا ’ تم مٹی ہو جاؤ ‘۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ «يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» ۱؎ [78-النبأ:40] ’ کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے ‘ }۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔
پھر کافروں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ ’ وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آ سکتے ہیں؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں ‘۔
جیسے سورۃ البقرہ کی ابتداء میں ہے کہ «مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّـهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [2-البقرة:17-18] ’ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہو جائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے ‘۔
اور آیت میں ہے «اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ» ۱؎ [24-النور:40] یعنی ’ مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آ سکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بے نور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کردے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا}؛ أي: المكذبون بالرسول تعنُّتاً وعناداً: {لولا نُزِّلَ عليه آيةٌ من ربِّه}؛ يعنون بذلك آيات الاقتراح التي يقترِحونها بعقولهم الفاسدة وآرائهم الكاسدة؛ كقولهم: {وقالوا لن نؤمنَ لك حتى تَفْجُرَ لنا من الأرض يَنبوعاً. أو تكون لك جنَّةٌ من نخيل وعنبٍ فتفجِّرَ الأنهار خلالها تفجيراً. أو تُسْقِطَ السماءَ كما زعمتَ علينا كِسَفاً أو تأتي بالله والملائكة قبيلاً ... } الآيات. {قل}: مجيباً لقولهم: {إن الله قادرٌ على أن ينزِّل آيةً}: فليس في قدرته قصور عن ذلك، كيف وجميع الأشياء منقادةٌ لعزَّته مذعنة لسلطانه. ولكنَّ أكثر الناس لا يعلمونَ، فهم لجهلهم وعدم علمهم يطلبون ما هو شرٌّ لهم من الآيات، التي لو جاءتهم فلم يؤمنوا بها؛ لَعوجِل {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ (38)} وا بالعقاب؛ كما هي سنة الله التي لا تبديل لها، ومع هذا؛ فإنْ كان قصدُهم الآيات التي تبيِّن لهم الحقَّ وتوضِّح السبيل؛ فقد أتى محمدٌ - صلى الله عليه وسلم - بكلِّ آية قاطعةٍ، وحُجَّةٍ ساطعةٍ، دالَّةٍ على ما جاء به من الحق، بحيث يتمكَّن العبدُ في كل مسألة من مسائل الدين أن يَجِدَ فيما جاء به عدَّة أدلَّة عقليَّة ونقليَّة؛ بحيث لا تبقي في القلوب أدنى شكٍّ وارتياب، فتبارك الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحقِّ وأيَّده بالآيات البيِّنات لِيَهْلِكَ من هَلَكَ عن بينة ويحيا من حَيَّ عن بينةٍ، وإن الله لسميعٌ عليمٌ.