تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا: } یہاں بیان تو وہ چیزیں کرنی تھیں جو اﷲ تعالیٰ نے حرام فرمائی ہیں، مگر بیان وہ چیزیں فرمائی ہیں جن کا نہایت تاکید کے ساتھ حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے حرام کرنے سے تمھارے لیے جو حکم تاکید کے ساتھ ثابت ہوتے ہیں وہ یہ ہیں۔ گویا یہ مفہوم {” حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ “} کے ضمن ہی میں شامل ہے کہ یہاں {” وَصَّاكُمْ بِهِ “} محذوف ہے، یعنی اس نے تمھیں تاکیداً حکم دیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اس کی دلیل یہاں مذکور تینوں آیات کے آخری الفاظ ہیں: «ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ» یعنی یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمھیں دیا ہے۔ اگر مراد ہوتا کہ یہ چیزیں حرام کی ہیں تو آخر میں یہ الفاظ ہونے چاہیے تھے: {” ذٰلِكُمْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ “ } یعنی یہ ہیں وہ چیزیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلا تاکیدی حکم یہ دیا کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نہ کسی انسان کو، نہ کسی جن کو، نہ کسی فرشتے کو، نہ کسی پہاڑ، پتھر، دریا یا درخت کو۔ غرض کوئی چیز کتنی بھی عظیم الشان ہو اسے اﷲ کا کسی بھی چیز میں شریک مت بناؤ، کیونکہ سب اﷲ کے پیدا کردہ ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اﷲ کا شریک بناؤ، حالانکہ اس نے تمھیں پیدا کیا۔“ [بخاری، التفسیر، باب: ۴۴۷۷]
اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: ”بے شک اﷲ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے جسے چاہے گا۔“ [النساء: ۱۱۶] اور اﷲ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کا قول ذکر فرمایا کہ جو بھی اﷲ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اﷲ نے اس پر جنت حرام کر دی۔ [المائدۃ: ۷۲]
➌ { وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا: ” اِحْسَانًا “} فعل محذوف {” اَحْسِنُوْا “ } کا مفعول مطلق ہے جس سے مقصود تاکید ہے، اس لیے ترجمہ ”خوب احسان کرو“ کیا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں جہاں اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور شرک سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ والدین کو اﷲ تعالیٰ نے تکلیف پر تکلیف اٹھا کر ولادت اور دلی محبت کے ساتھ پالنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بندوں کے حقوق میں سے سب سے مقدم حق انسان پر اس کے والدین کا ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۲۳) اور سورۂ لقمان (۱۴، ۱۵)
➍ {وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ……: } پیدا ہو چکنے کے بعد یا جب کہ وہ ماؤں کے پیٹ میں ہوں، مثلاً کوئی دوا کھلا کر قبل از وقت حمل گرا دینا۔ سورۂ بنی اسرائیل (۳۱) میں بھی یہی حکم دیا گیا ہے، مگر یہاں اور وہاں دو فرق ہیں، یہاں {”مِنْ اِمْلَاقٍ“} (مفلسی کی وجہ سے) ہے اور وہاں{” خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ “ } (مفلسی کے ڈر سے) ہے۔ اسی طرح یہاں {” نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِيَّاهُمْ “} (ہم ہی تمھیں رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی) ہے اور وہاں{ ” نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِيَّاكُمْ “} ”ہم ہی انھیں رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی“ ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس مقام پر ان لوگوں کی بات ہے جو مفلسی میں گرفتار ہیں۔ فرمایا کہ اس مفلسی میں انھیں قتل مت کرو، ہم مفلسی کے باوجود تمھیں جو روزی دیتے ہیں انھیں بھی دیں گے، جبکہ بنی اسرائیل میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو مفلسی میں مبتلا تو نہیں مگر بچوں کے پیدا ہونے پر مفلسی سے ڈر رہے ہیں، فرمایا کہ ڈرو نہیں ہم انھیں بھی روزی دیں گے، تمھیں بھی تو دے رہے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ تمھارا یہ سمجھنا کہ روزی کے مالک تم خود ہو، بالکل غلط ہے، یہ ہمارا کام اور ہمارا ذمہ ہے۔ (دیکھیے ہود: ۶) کفار کا تو کہنا ہی کیا ہے، اس وقت مسلم حکومتیں اسی بہانے سے ضبطِ و ولادت یا خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر منظم طریقے سے قتل اولاد کا جرم کر رہی ہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، ہم زیادہ آبادی کی خوراک کا بندوبست نہیں کر سکتے، حالانکہ یہ کفر کا کلمہ ہے۔ خوراک کا بندوبست تو اﷲ تعالیٰ کے ذمے ہے، بلکہ ان حکمرانوں کا تمام عیش ان مفلسوں کی محنت ہی کا نتیجہ ہے، جن کی خوراک کے وہ ذمہ دار بن رہے ہیں۔ ہر بچے کو اﷲ تعالیٰ کھانے کے لیے ایک منہ اور کمانے کے لیے دو ہاتھ دے کر بھیجتا ہے اور جیسے جیسے آبادی بڑھ رہی ہے زمین کے خزانوں کے منہ کھلتے جا رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ حجر (۱۹ تا ۲۲)۔
➎ {وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ ……: ” اَلْفَاحِشَةُ “}، {” اَلْفَحْشَاءُ “} اور {” اَلْفَحْشُ“} کا معنی ہے ہر وہ قول یا فعل جو قباحت میں بہت بڑھا ہوا ہو، مثلاً زنا، شدید بخل وغیرہ۔ (راغب) اس لیے اس کا ترجمہ بے حیائی کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے ایسے ہر کام کو خواہ ظاہر ہو، جیسے سب کے سامنے زنا یا قوم لوط کی حرکتیں کرنا، یا پوشیدہ، مثلاً چھپ کر زنا اور چوری وغیرہ کرنا، انھیں حرام قرار دیا۔ اس مقام پر ایسے ہر کام کے قریب جانے کو بھی حرام قرار دیا، جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل (۳۲) میں زنا کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا، کیونکہ قریب جانا ہی گناہ کے ارتکاب کا باعث بنتا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نہیں، اسی لیے اس نے بے حیائی کی ظاہر اور پوشیدہ تمام شکلوں کو حرام قرار دیا ہے۔“ [بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالٰی: «ولا تقربوا الفواحش ……» : ۴۶۳۴]
➏ {وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ ……:} عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کا خون، جو اس بات کی شہادت دیتا ہو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک میں اﷲ کا رسول ہوں، تین صورتوں کے سوا کسی بھی صورت میں حلال نہیں:(1) جان کے بدلے جان (2) شادی شدہ زانی (3) دین سے جدا ہو کر (مسلمانوں کی) جماعت کو ترک کر دینے والا۔“ [بخاری، الدیات، باب قول اﷲ تعالٰی: «إن النفس بالنفس والعين بالعين……» : ۶۸۷۸] یا ان تینوں کے علاوہ جس کے قتل کرنے کا واضح حکم قرآن یا حدیث میں موجود ہو، مثلاً محارب (ڈاکو، باغی) یا محرم سے نکاح کرنے والا، انھیں قتل کرنا ناحق نہیں بلکہ حق ہے۔
➐ {لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ:} تاکہ تم سمجھو، عقل کرو، کیونکہ یہ ایسے کام ہیں کہ ان کا ارتکاب عقل کی خست کی دلیل ہے اور ان کاموں کی قباحت عقل بھی محسوس کرتی ہے، نصیحت اس لیے ہے کہ تم عقل کے تقاضے کے مطابق چلو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) شرک فی الذات (2) شرک فی الصفات (3) شرک فی العبادات
اور یہ تینوں قسمیں ان مشرکوں اور یہودیوں میں موجود تھیں۔ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ پھر اپنے دیوی دیوتاؤں کی پوری نسل کو اللہ کی نسل بنا دیا تھا اور اس سے منسلک کر رکھا تھا۔ یہود عزیرؑ کو ابن اللہ کہتے تھے یعنی ان کے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ عزیرؑ کے جسم میں حلول کر گیا تھا۔ شرک فی الصفات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرح کسی دوسری ہستی کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جائے۔ یعنی جو کسی کی بگڑی بنا بھی سکتا ہو اور مشکلات میں پھنسا بھی سکتا ہو۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اس ہستی کو عالم الغیب اور حاضر و ناظر اور صاحب تصرف و اختیار بھی سمجھا جائے۔ شرک کی یہ قسم بھی ان لوگوں میں عام تھی۔ اور شرک فی العبادات یہ ہے کہ جس ہستی کو مشکل کشا یا حاجت روا سمجھتا ہو اسے فریاد کے طور پر پکارے اس کی قربانی اور نذر و نیاز دے اور ان کی پرستش و تعظیم اس طرح کرے جیسے اللہ تعالیٰ کی کی جاتی ہے۔
والدین سے بہتر سلوک کے لیے دیکھئے۔ [سورة بني اسرائيل آيت نمبر 23، 24 كے حواشي نمبر 25 تا 28]
[169] یعنی ایسے وسائل بھی اختیار نہ کرو جو تمہیں بے حیائی کے کاموں کے قریب لے جائیں اور انسان کے جنسی جذبات میں تحریک پیدا کریں۔ جیسے بے حجابی۔ غیر محرم عورت کی طرف دیکھنا، تماش بینی، سینما، ٹی وی، جنسی لٹریچر کا مطالعہ، عورتوں کی تصاویر کی عام نشر و اشاعت سب کچھ اس ضمن میں آتا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آنکھوں کا زنا (غیر عورتوں کو دیکھنا ہے) کانوں کا زنا (فحاشی کی باتیں سننا ہے) زبان کا زنا (فحاشی کی بات چیت کرنا ہے) ہاتھ کا زنا (پکڑنا ہے) اور پاؤں کا زنا (چلنا ہے) دل کا زنا، اس کی خواہش اور تمنا کرنا ہے۔ پھر شرمگاہ، ان سب کی یا تو تصدیق کر دیتی ہے۔ یا تکذیب۔“ [مسلم۔ كتاب القدر۔ باب قدر على ابن آدم حظه الزنا]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نہیں۔ اسی لیے تو اس نے بے حیائی کے تمام کاموں کو حرام کر دیا۔“ نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کو سب سے زیادہ غیرت اس بات پر آتی ہے جب وہ اپنے کسی بندے یا بندی کو زنا کرتے دیکھتا ہے۔“ [بخاري۔ كتاب النكاح۔ باب الغيرة]
(1) قتل عمد کے قصاص کی صورت میں (2) میدان میں کفار کا قتل (3) بغاوت یعنی دیار اسلام میں بدامنی پھیلانے والے اور اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے والے کا قتل۔
اور سنت کی رو سے دو صورتیں ہیں (1) شادی شدہ جو زنا کرے اور (2) جو شخص ارتداد کا مرتکب ہو یعنی اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کر لے۔ یہ کل پانچ صورتیں ہوئیں۔ ان کے علاوہ کسی بھی صورت میں کسی کو قتل کرنا قتل ناحق کہلاتا ہے۔ اور اس گناہ کو رسول اللہ نے سات بڑے ہلاک کرنے والے گناہوں میں سے تیسرے نمبر پر شمار کیا ہے۔ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب رمي المحصنات]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورۃ الأنعام میں محکم آیتیں ہیں“ پھر یہی آیتیں [الأنعام:151تا153] آپ رضی اللہ عنہ نے تلاوت فرمائیں۔
{ ایک مرتبہ حضور نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: { تم میں سے کوئی شخص ہے جو میرے ہاتھ پر ان تین باتوں کی بیعت کرے }، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا: { جو اسے پورا کرے گا، وہ اللہ سے اجر پائے گا اور جو ان میں سے کسی بات کو پورا نہ کرے گا تو دنیا میں ہی اسے شرعی سزا دے دی جائے گی اور اگر سزا نہ دی گئی تو پھر اس کا معاملہ قیامت پر ہے اگر اللہ چاہے تو اسے بخش دے چاہے تو سزا دے} }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:318/2:صحیح]
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی سلام علیہ سے فرماتا ہے کہ ’ ان مشرکین کو جو اللہ کی اولاد کے قائل ہیں اللہ کے رزق میں سے بعض کو اپنی طرف سے حلال اور بعض کو حرام کہتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہیں کہہ دیجئیے کہ سچ مچ جو چیزیں اللہ کی حرام کردہ ہیں انہیں مجھ سے سن لو جو میں بذریعہ وحی الٰہی بیان کرتا ہوں تمہاری طرح خواہش نفس، توہم پرستی اور اٹکل و گمان کی بناء پر نہیں کہتا ‘۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جس کی وہ تمہیں وصیت کرتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، یہ کلام عرب میں ہوتا ہے کہ ایک جملہ کو حذف کر دیا پھر دوسرا جملہ ایسا کہہ دیا جس سے حذف شدہ جملہ معلوم ہو جائے اس آیت کے آخری جملے «ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم» سے «أَلَّا تُشْرِكُوا» اس سے پہلے کے محذوف جملے «وَصَّاكُمْ» پر دلالت ہوگئی۔ عرب میں یوں بھی کہہ دیا کرتے ہیں «أَمَرْتُكَ أَلَّا تَقُومَ»
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے وہ داخل جنت ہوگا تو میں نے کہا { گو اس نے زنا کیا ہو، گو اس نے چوری کی ہو؟ } آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ہاں گو اس نے زنا اور چوری کی ہو۔“ میں نے پھر یہی سوال کیا مجھے پھر یہی جواب ملا پھر بھی میں نے یہ بات پوچھی اب کے جواب دیا کہ گو شراب نوشی بھی کی ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6443]
سنن میں مروی ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے ابن آدم تو جب تک مجھ سے دعا کرتا رہے گا اور میری ذات سے امید رکھے گا میں بھی تیری خطاؤں کو معاف فرماتا رہوں گا خواہ وہ کیسی ہی ہوں کوئی پرواہ نہ کروں گا تو اگر میرے پاس زمین بھر کر خطائیں لائے گا تو میں تیرے پاس اتنی ہی مغفرت اور بخشش لے کر آؤں گا بشرطیکہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو گو تونے خطائیں کی ہوں یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ گئی ہوں پھر بھی تو مجھ سے استغفار کرے تو میں تجھے بخش دوں گا ‘ }۔ [مسند احمد:172/5:حسن لغیره]
اس حدیث کی شہادت میں یہ آیت آسکتی ہے «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:48] یعنی ’ مشرک کو تو اللہ مطلق نہ بخشے گا باقی گنہگار اللہ کی مشیت پر ہیں جسے چاہے بخش دے ‘۔
اس بارے میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں -ابن مردویہ میں ہے کہ { اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گو تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں یا تمہیں سولی چڑھا دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے } -
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا [١] اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا گو تم جلا دیئے جاؤ یا کاٹ دیئے جاؤ یا سولی دے دیئے جاؤ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:8058/5:اسنادہ فیہ جھالتہ]
اس آیت میں توحید کا حکم دے کر پھر ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا حکم ہوا «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23] بعض کی قرأت «وَوَصَّى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» بھی ہے۔
قرآن کریم میں اکثر یہ دونوں حکم ایک ہی جگہ بیان ہوئے ہیں جیسے آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [31-لقمان:14-15] میں مشرک ماں باپ کے ساتھ بھی بقدر ضرورت احسان کرنے کا حکم ہوا ہے۔
اور آیت «وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» ۱؎ [2-البقرۃ:83]، میں بھی دونوں حکم ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں اور بھی بہت سی اس مفہوم کی آیتیں ہیں۔
ابن مردویہ میں عبادہ بن صامت اور ابودرداء سے مروی ہے کہ { مجھے میرے خلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی کہ اپنے والدین کی اطاعت کر اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو ان کیلئے ساری دنیا سے الگ ہو جائے تو بھی مان لے }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:5589/5:حسن] اس کی سند ضعیف ہے۔
باپ داداؤں کی وصیت کرکے اولاد اور اولاد کی اولاد کی بات وصیت فرمائی کہ انہیں قتل نہ کرو جیسے کہ شیاطین نے اس کام کو تمہیں سکھا رکھا ہے لڑکیوں کو تو وہ لوگ بوجہ عار کے مار ڈالتے تھے اور بعض لڑکوں کو بھی بوجہ اس کے کہ ان کے کھانے کا سامان کہاں سے لائیں گے، مار ڈالتے تھے۔
{ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کے ساتھ شریک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے پیدا کیا ہے }۔ پوچھا پھر کون سا گناہ ہے؟ فرمایا: { اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ یہ میرے ساتھ کھائے گی }۔ پوچھا پھر کون سا ہے؟ فرمایا: { اپنی پڑوس کی عورت سے بدکاری کرنا } پھر حضور نے آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68] کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7420]
اور آیت میں ہے «وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:31] ’ اپنی اولاد کو فقیری کے خوف سے قتل نہ کرو ‘، اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ ہم انہیں روزی دیتے ہیں اور تمہاری روزی بھی ہمارے ذمہ ہے ‘۔
یہاں چونکہ فرمایا تھا کہ ’ فقیری کی وجہ سے اولاد کا گلا نہ گھونٹو ‘ تو ساتھ ہی فرمایا ’ تمہیں روزی ہم دیں گے اور انہیں بھی ہم ہی دے رہے ہیں ‘۔
صحیح حدیث میں ہے { اللہ سے زیادہ غیرت ولا کوئی نہیں اسی وجہ سے تمام بے حیائیاں اللہ نے حرام کردی ہیں خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4634]
{ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو میں تو ایک ہی وار میں اس کا فیصلہ کر دوں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کا یہ قول بیان ہوا تو فرمایا: { کیا تم سعد کی غیرت پر تعجب کر رہے ہو؟ واللہ میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور میرا رب مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے، اسی وجہ سے تمام فحش کام ظاہر و پوشیدہ اس نے حرام کر دیئے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7316]
اس کے بعد کسی کے ناحق قتل کی حرمت کو بیان فرمایا گو وہ بھی فواحش میں داخل ہے لیکن اس کی اہمیت کی وجہ سے اسے الگ کرکے بیان فرما دیا۔
مسلم میں ہے { اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کسی مسلمان کا خون حلال نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1676]
ابوداؤد اور نسائی میں تیسرا شخص وہ بیان کیا گیا ہے { جو اسلام سے نکل جائے اور اللہ کے رسولوں سے جنگ کرنے لگے اسے قتل کر دیا جائے گا یا صلیب پر چڑھا دیا جائے گا یا مسلمانوں کے ملک سے جلا وطن کردیا جائے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4502،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حربی کافروں میں سے جو امن طلب کرے اور مسلمانوں کے معاہدہ امن میں آجائے اس کے قتل کرنے والے کے حق میں بھی بہت وعید آئی ہے اور اس کا قتل بھی شرعاً حرام ہے۔
بخاری میں ہے { معاہدہ امن کا قاتل جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کے راستے تک پہنچ جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3166]
اور روایت میں ہے { کیونکہ اس نے اللہ کا ذمہ توڑا اس میں ہے پچاس برس کے راستے کے فاصلے سے ہی جنت کی خوشبو پہنچی ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1403،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے ’ یہ ہیں اللہ کی وصیتیں اور اس کے احکام تاکہ تم دین حق کو، اس کے احکام کو اور اس کی منع کردہ باتوں کو سمجھ لو ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه - صلى الله عليه وسلم -: {قل}: لهؤلاء الذين حرَّموا ما أحلَّ الله: {تعالَوْا أتلُ ما حرَّمَ ربُّكم عليكم}: تحريماً عامًّا شاملاً لكل أحد، محتوياً على سائر المحرَّمات من المآكل والمشارب والأقوال والأفعال، {أن لا تشركوا به شيئاً}؛ أي: لا قليلاً ولا كثيراً. وحقيقة الشرك بالله أن يُعْبَدَ المخلوق كما يُعْبَدُ الله أو يعظَّمَ كما يعظَّمُ الله أو يصرفَ له نوعٌ من خصائص الربوبيَّة والإلهيَّة، وإذا تَرَكَ العبدُ الشرك كلَّه؛ صار موحِّداً مخلصاً لله في جميع أحواله؛ فهذا حقُّ الله على عباده: أن يعبُدوه ولا يشرِكوا به شيئاً. ثم بدأ بآكد الحقوق بعد حقه، فقال: {وبالوالدينِ إحساناً}: من الأقوال الكريمة الحسنة والأفعال الجميلة المستحسنة؛ فكلُّ قول وفعل يحصُلُ به منفعة للوالدين أو سرور لهما؛ فإنَّ ذلك من الإحسان، وإذا وُجِدَ الإحسان؛ انتفى العقوق، {ولا تقتلوا أولادكم}: من ذكور وإناث {من إملاق}؛ أي: بسبب الفقر وضيقكم من رزقهم؛ كما كان ذلك موجوداً في الجاهلية القاسية الظالمة، وإذا كانوا منهيِّين عن قتلهم في هذه الحال وهم أولادهم؛ فنهيهم عن قتلهم لغير موجب أو قتل أولاد غيرهم من باب أولى وأحرى. {نحن نرزُقُكم وإياهم}؛ أي: قد تكفَّلنا برزق الجميع، فلستم الذين ترزقون أولادكم، بل ولا أنفسكم، فليس عليكم منهم ضيق. {ولا تقرَبوا الفواحش}: وهي الذنوب العظام المستفحشة {ما ظهر منها وما بطن}؛ أي: لا تقربوا الظاهر منها والخفي أو المتعلق منها بالظاهر والمتعلق بالقلب والباطن، والنهي عن قربان الفواحش أبلغ من النهي عن مجرَّد فعلها؛ فإنه يتناول النهي عن مقدِّماتها ووسائلها الموصلة إليها. {ولا تقتُلوا النفس التي حرَّم الله}: وهي النفس المسلمة من ذكر وأنثى صغير وكبير بَرٍّ وفاجر: والكافرة التي قد عُصِمَتْ بالعهد والميثاق، {إلَّا بالحقِّ}: كالزاني المحصن والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة. {ذلكم}: المذكور، {وصَّاكم} [الله] {به لعلَّكم تعقِلون}: عن الله وصيَّته ثم تحفظونها ثم تراعونها وتقومونَ بها. ودلَّت الآية على أنه بحسب عقل العبد يكون قيامه بما أمر الله به.