ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 150

قُلۡ ہَلُمَّ شُہَدَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ یَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا ۚ فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَلَا تَشۡہَدۡ مَعَہُمۡ ۚ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ وَ ہُمۡ بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱۵۰﴾٪
کہہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو شہادت دیں کہ اللہ نے یہ چیزیں حرام کی ہیں، پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو توُ ان کے ساتھ شہادت مت دے اور ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے مت چل جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ساتھ برابر ٹھہراتے ہیں۔ En
کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آ کر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں
En
آپ کہیے کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس بات پر شہادت دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کردیا ہے، پھر اگر وه گواہی دے دیں تو آپ اس کی شہادت نہ دیجئے اور ایسے لوگوں کے باطل خیاﻻت کا اتباع مت کیجئے! جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور وه جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وه اپنے رب کے برابر دوسروں کو ٹھہراتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 150) ➊ {فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ:} کیونکہ جو بھی یہ گواہی دے گا وہ کبھی سچا نہیں ہو سکتا۔
➋ {وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ:} یعنی وہ مخلوق کو رب کے برابر ٹھہرا کر شرک جیسے ظلم عظیم کے مرتکب ہوتے ہیں، خواہ کسی طرح برابر ٹھہرائیں، حالانکہ رب تعالیٰ کے ساتھ کسی کی برابری ہو ہی نہیں سکتی، نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ علم میں، نہ حقوق و اختیار میں اور نہ کسی اور چیز میں، تو پھر ایسے جاہلوں کی خواہشات کی پیروی آپ کیوں اختیار کریں؟ دیکھیے سورۂ رعد (۱۶) اور سورۂ شعراء (۹۱ تا ۹۸)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

150۔ 1 یعنی وہ جانور، جن کو مشرکین حرام قرار دیے ہوئے تھے۔ 150۔ 2 کیونکہ ان کے پاس سوائے کذب و افترا کے کچھ نہیں۔ 150۔ 3 یعنی اس کا عدیل (برابر کا) ٹھہرا کر شرک کرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

150۔ آپ ان سے کہئے: اپنے وہ گواہ تو لاؤ جو یہ [164] گواہی دیں کہ اللہ نے فی الواقع ان چیزوں کو حرام کیا ہے۔ پھر اگر وہ گواہی دے بھی دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دینا، نہ ہی ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے لگنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور دوسروں کو اپنے پروردگار کا ہمسر بناتے ہیں
[164] یہود سے شہادت طلب کرنے کی وجہ:۔
یہاں شہادت سے مراد یقین کی بنا پر شہادت ہے اور وہ یہ شہادت دیں کہ واقعی فلاں فلاں چیزیں اللہ نے فلاں فلاں کے لیے حرام یا حلال قرار دی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی شہادت وہ دے نہیں سکتے تھے۔ تاہم اگر کچھ لوگ ڈھیٹ بن کر جھوٹی شہادت دینے پر آمادہ ہو ہی جائیں تو آپ ان کے ہمنوا نہ بن جائیں۔ ان سے یہ شہادت اس لیے نہیں طلب کی جا رہی کہ اگر وہ شہادت دیں تو آپ ان کی بات مان لیں بلکہ اس لیے طلب کی جا رہی ہے کہ جب وہ ایسی شہادت پیش نہ کر سکیں گے تو ممکن ہے کہ بعض صحیح عقل رکھنے والے لوگ ایسی مشرکانہ رسوم سے باز آجائیں جو سراسر توہمات اور ظن و تخمین پر مبنی ہیں۔ اور اس قسم کی جھوٹی شہادت دینے پر ایسے لوگ ہی آمادہ ہو سکتے ہیں جنہیں آخرت کے دن پر اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جواب دہی پر ایمان ہی نہ ہو۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے اور حلت و حرمت کے احکام اپنے ہاتھ میں لے کر اللہ کے ہمسر بنتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا، کہ وہ اپنے ان گواہوں کو لے آئیں جو یہ گواہی دیں کہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ جب ان سے یہ بات کہی جائے گی تو مندرجہ ذیل دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہو گی:
(۱) یا تو وہ اس پر کسی کو گواہ کے طورپر پیش ہی نہیں کر سکیں گے، تب اس صورت میں ان کا دعویٰ باطل اور دلیل اور گواہوں سے محروم ہو گا۔
(۲) یا وہ کسی ایسے گواہ کو پیش کر دیں گے جو ان کے لیے گواہی دے مگر کسی جھوٹے اور بہتان طراز کے سوا کوئی شخص اس پر گواہی نہیں دے سکتا اور ایسے جھوٹے اور بہتان طراز شخص کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔
یہ معاملہ ایسے امور میں شمار نہیں ہوتا جس پر کسی عادل گواہ کا گواہی دینا جائز ہو، بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کو اس گواہی سے روکتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَلَا تَ٘تَّ٘بِـعْ اَهْوَآءَؔ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ اگر وہ گواہی دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور وہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہراتے ہیں یعنی وہ بتوں اور اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ چونکہ وہ یوم آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل نہیں اس لیے ان کی خواہشات ان کے اس عقیدے کے مطابق ہیں جو شرک اور تکذیب پر مبنی ہے۔ جن کا یہ معاملہ ہو تو مناسب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے بہترین ہستی کو ان کی اتباع کرنے اور ان کے ساتھ گواہی دینے سے روک دے۔ تب معلوم ہوا کہ ان کا اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانا ان کی گمراہ کن خواہشات نفس کی پیداوار ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قل لمن حرَّم ما أحل الله ونسب ذلك إلى الله: أحضِروا شهداءكم الذين يشهدون أن الله حرَّم هذا! فإذا قيل لهم هذا الكلام؛ فهم بين أمرين: إما أن لا يحضروا أحداً يشهدُ بهذا، فتكون دعواهم إذاً باطلةً خليةً من الشهود والبرهان. وإما أن يحضِروا أحداً يشهد لهم بذلك، ولا يمكن أن يشهد بهذا إلا كلُّ أفاكٍ أثيم غير مقبول الشهادة، وليس هذا من الأمور التي يصحُّ أن يشهد بها العدولُ، ولهذا قال تعالى ناهياً نبيَّه وأتباعه عن هذه الشهادة: {فإن شهدوا فلا تَشْهَدْ معهم ولا تتَّبِعْ أهواء الذين كذَّبوا بآياتنا والذين لا يؤمنون بالآخرة وهم بربِّهم يعدِلون}؛ أي: يسوون به غيره من الأنداد والأوثان؛ فإذا كانوا كافرين باليوم الآخر غير موحدين لله؛ كانت أهويتهم مناسبة لعقيدتهم، وكانت دائرة بين الشرك والتكذيب بالحق، فحريٌّ بهوىً هذا شأنه أن ينهى الله خيارَ خلقه عن اتِّباعه، وعن الشهادة مع أربابه، وعُلِمَ حينئذٍ أن تحريمهم لما أحلَّ اللهُ صادرٌ عن تلك الأهواء المضلَّة.