تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اَوْفُوا الْكَيْلَ:} اس میں انصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیتے وقت ماپ تول میں کمی نہ کرنا اور لیتے وقت زیادہ نہ لینا دونوں شامل ہیں۔ دیکھیے سورۂ مطففین (۱تا۳) سورۂ رحمان (۹) اور سورۂ بنی اسرائیل (۳۵)۔
➌ {لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا:} یعنی اگر پورا تولنے اور ماپنے کی کوشش کرے مگر بھول چوک کی وجہ سے غلطی کر بیٹھے تو اس سے باز پرس نہیں ہو گی۔ {” اِلَّا وُسْعَهَا “} کا یہی مطلب ہے۔
➍ {وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا ……:} جب بات کرو، خواہ فیصلہ کر رہے ہو یا حکم دے رہے ہو یا شہادت دے رہے ہو، تو ہر حال میں عدل و انصاف سے کام لو، کوئی رشتہ داری یا قرابت یا دوستی انصاف میں رکاوٹ نہ بننے پائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۳۵) اور سورۂ مائدہ (۸)۔
➎ { وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا:} یعنی تم نے اسلام قبول کر کے اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کا جو عہد کیا ہے وہ پورا کرو۔ اس سے مراد قرآن و سنت کے تمام احکام پر عمل کرنا ہے۔ لوگوں سے کیے ہوئے عہد پورا کرنے کا بھی اﷲ نے حکم دیا ہے۔
➏ { لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ:} اس آیت میں مذکور چیزیں ایسی ہیں جو معاشرے میں معروف ہیں، ان کی تاکید اس لیے کی ہے کہ تمھیں یاد آ جائے اور تمھیں نصیحت ہو جائے۔ {” ذِكْرٌ “} کا معنی ”یاد“ اور ”نصیحت “ دونوں ہیں، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِذَا نَسِيْتُ فَذَكِّرُوْنِيْ] [بخاری، الصلوۃ، باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان: ۴۰۱] ”جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دو۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[172] ناپ تول میں کمی بیشی کے ذریعہ دوسروں کا مال کھانا اتنا بڑا جرم ہے کہ جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے سیدنا شعیبؑ کی قوم کو تباہ و برباد کر ڈالا تھا۔ قرآن کریم میں ایک سورۃ کا نام ہی المطففین ہے یعنی وہ لوگ جو ناپ تول کرتے وقت اپنا حق تو دوسروں سے زیادہ وصول کرتے ہیں اور دیتے وقت دوسروں کو ان کے اصل حق سے کم دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے کام فریب کاری سے ہی ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ایسا کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہیں روز آخرت اور اللہ کے حضور باز پرس کا خوف نہ ہو۔ پھر ان کا انجام یہ بتایا کہ ایسے لوگوں کے لیے تباہی ہی تباہی ہے۔
اور آیت کا مفہوم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جب بھی تم بات کرو تو انصاف کی کرو سچے کو سچا کہو اور جھوٹے کو جھوٹا۔ خواہ اس کی زد تمہاری اپنی ذات پر پڑتی ہو یا کسی قریبی سے قریبی رشتہ دار یا دوست پر۔ کوئی بات گول مول یا ہیرا پھیری سے بھی نہ کرو جس سے کسی دوسرے کی توہین کا پہلو نکلتا ہو یا اس کا کوئی حق تلف ہوتا ہو۔ یا اس سے متکلم کی ذات کو کسی قسم کا فائدہ پہنچتا ہو۔
[174] عہد کو بہرحال پورا کرنا فرض ہے خواہ یہ عہد انسان نے اللہ سے کیا ہو جیسے کوئی نذر یا منت ماننا یا اللہ کا نام لے کر دوسروں سے کیا ہو اور اس میں عقد نکاح اور بیوع بھی شامل ہیں۔ یا وہ عہد جسے عہد الست کہا جاتا ہے اور وہ انسان کی فطرت میں داخل ہے۔
[175] یعنی اے مشرکین اور یہود! کرنے کا کام تو یہ نو قسم کے احکام ہیں جن کی علمی سند ہر کتاب اللہ میں موجود ہے۔ ان کا تو تم خیال نہیں رکھتے اور خلاف ورزیاں کیے جاتے ہو اور جن شرکیہ افعال کو تم بجا لا رہے ہو۔ وہ تمہارے اپنے ہی خود ساختہ ہیں جن کی کوئی علمی سند موجود نہیں۔ لہٰذا اگر ہدایت مطلوب ہے تو اپنی سابقہ روش چھوڑ کر یہ طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔ واضح رہے کہ سیدنا موسیٰؑ کو کوہ طور پر لکھی لکھائی تختیاں دی گئیں۔ ان میں دس احکام مذکور تھے جنہیں احکام عشرہ کہتے ہیں۔ یہ احکام بعد میں تورات میں شامل کر دیئے گئے۔ ان دس احکام میں سے ایک حکم سبت کے دن کی تعظیم تھا۔ اگر اسے نکال دیا جائے تو باقی یہی نو احکام رہ جاتے ہیں جو ان آیات میں مذکور ہیں۔ یہود کو بالخصوص تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ تمہارے لیے جو بنیادی احکام تھے ان میں سے ایک ایک حکم کی تم نے خلاف ورزی کی اور اس کی دھجیاں اڑا دیں اور ان کے بجائے ایسے کاموں میں لگ گئے ہو جن کا تمہاری کتاب میں کہیں اشارہ تک نہیں ملتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ حکم ان کے سن بلوغ تک پہنچنے تک ہے گو بعض نے تیس سال بعض نے چالیس سال اور بعض نے ساٹھ سال کہے ہیں لیکن یہ سب قول یہاں مناسب نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے ’ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ہم نہیں لادتے ‘ یعنی اگر کسی شخص نے اپنی طاقت بھر کوشش کرلی دوسرے کا حق دے دیا، اپنے حق سے زیادہ نہ لیا، پھر بھی نادانستگی میں غلطی سے کوئی بات رہ گئی ہو تو اللہ کے ہاں اس کی پکڑ نہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے یہ دونوں جملے تلاوت کرکے فرمایا کہ { جس نے صحیح نیت سے وزن کیا، تولا، پھر بھی واقع میں کوئی کمی زیادتی بھول چوک سے ہو گئی تو اس کا مؤاخذہ نہ ہوگا } }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:105/3:مرسل] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
اللہ کے عہد کو پورا کرو، اس کے احکام بجا لاؤ، اس کی منع کردہ چیزوں سے الگ رہو، اس کی کتاب اس کے رسول کی سنت پر چلتے رہو، یہی اس کے عہد کو پورا کرنا ہے، انہی چیزوں کے بارے اللہ کا تاکیدی حکم ہے، یہی فرمان تمہارے وعظ و نصیحت کا ذریعہ ہیں تاکہ تم جو اس سے پہلے نکمے بلکہ برے کاموں میں تھے، اب ان سے الگ ہو جاؤ۔ بعض کی قرأت میں «تَذَّكَـرُوْنَ» بھی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا تقربوا مال اليتيم}: بأكل أو معاوضة على وجه المحاباة لأنفسكم أو أخذ من غير سبب، {إلا بالتي هي أحسنُ}؛ أي: إلاَّ بالحال التي تصلُحُ بها أموالهم وينتفعون بها، فدل هذا على أنه لا يجوز قربانها والتصرُّف بها على وجه يضرُّ اليتامى أو على وجه لا مضرَّة فيه ولا مصلحة. {حتى يبلغَ}: اليتيم {أشدَّه}؛ أي: حتى يبلغ ويرشد ويعرف التصرف؛ فإذا بلغ أشُدَّه؛ أعطي حينئذ ماله، وتصرف فيه على نظره. وفي هذا دلالة على أن اليتيم قبل بلوغ الأشدِّ محجورٌ عليه، وأن وليَّه يتصرَّف في ماله بالأحظ، وأنَّ هذا الحجر ينتهي ببلوغ الأشدِّ. {وأوفوا الكيلَ والميزان بالقسْط}؛ أي: بالعدل والوفاء التامِّ؛ فإذا اجتهدتم في ذلك؛ فلا {نُكَلِّفُ نفساً إلَّا وُسْعَها}؛ أي بقدر ما تسعه ولا تضيق عنه؛ فمن حرص على الإيفاء في الكيل والوزن، ثم حصل منه تقصيرٌ؛ لم يفرِّط فيه ولم يعلَمْه؛ فإن الله غفور رحيم. وبهذه الآية [ونحوها] استدل الأصوليون بأن الله لا يكلِّف أحداً ما لا يطيق، وعلى أنَّ من اتَّقى الله فيما أمر وفَعَلَ ما يمكِنُهُ من ذلك؛ فلا حرج عليه فيما سوى ذلك.
{وإذا قلتُم}: قولاً تحكمون به بين الناس، وتفصلون بينهم الخطاب، وتتكلَّمون به على المقالات والأحوال، {فاعدِلوا}: في قولكم بمراعاة الصدق فيمن تحبُّون ومَنْ تكرهون والإنصافِ وعدم كتمان ما يلزمُ بيانُهُ؛ فإنَّ الميل على من تكره بالكلام فيه أو في مقالته من الظلم المحرم، بل إذا تكلَّم العالم على مقالات أهل البدع؛ فالواجبُ عليه أن يعطي كلَّ ذي حقٍّ حقَّه وأن يبيِّن ما فيها من الحقِّ والباطل، ويعتبرَ قربَها من الحقِّ وبعدها منه، وذكر الفقهاء أنَّ القاضي يجب عليه العدلُ بين الخصمين في لحظِهِ ولفظِهِ. {وبعهد الله أوفوا}: وهذا يشملُ العهد الذي عاهده عليه العباد؛ من القيام بحقوقه والوفاء بها، ومن العهد الذي يقع التعاهد به بين الخلق؛ فالجميع يجب الوفاءُ به، ويحرُم نقضُه والإخلال به. {ذلكم}: الأحكام المذكورة، {وصَّاكُم} [الله] {به لعلَّكم تَذَكَّرونَ}: ما بيَّنه لكم من الأحكام، وتقومون بوصية الله لكم حقَّ القيام، وتعرفون ما فيها من الحِكم والأحكام.