کہہ دے آئو میں پڑھوں جو تمھارے رب نے تم پر حرام کیا ہے، (اس نے تاکیدی حکم دیا ہے) کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائو اور ماں باپ کے ساتھ خوب احسان کرو اور اپنی اولاد کو مفلسی کی وجہ سے قتل نہ کرو، ہم ہی تمھیں رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی اور بے حیائیوں کے قریب نہ جائو، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے مگر حق کے ساتھ۔ یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمھیں دیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔
En
کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے ﴿قُ٘لْ ﴾”کہہ دیجیے“ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ﴿ تَعَالَوْااَتْلُمَاحَرَّمَرَبُّكُمْعَلَیْكُمْ ﴾”آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمھارے رب نے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لیے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ ﴿ اَلَّاتُ٘شْرِكُوْابِهٖ ﴾”یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔ یا مخلوق کی تعظیم اسی طرح کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے۔ یا ربوبیت اور الوہیت کی صفات مخلوق میں ثابت کی جائیں۔ جب بندہ ہر قسم کا شرک چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے تمام احوال میں موحد اور اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص بندہ بن جاتا ہے۔ پس بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد سب سے زیادہ موکد حق سے ابتدا کی اور فرمایا ﴿ وَّبِالْوَالِدَیْنِ۠اِحْسَانًا ﴾”اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔“ یعنی اقوال حسنہ اور افعال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ہر وہ قول و فعل جس سے والدین کو کوئی منفعت حاصل ہو یا اس سے مسرت حاصل ہو تو یہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور حسن سلوک کا وجود نافرمانی کی نفی کرتا ہے۔ ﴿ وَلَاتَقْتُلُوْۤااَوْلَادَؔكُمْ ﴾”اور نہ قتل کرو تم اپنی اولاد کو“ یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو ﴿ مِّنْاِمْلَاقٍ ﴾”ناداری کے (اندیشے) سے۔“ یعنی فقر اور رزق کی تنگی کے سبب سے۔ جیسا کہ جاہلیت کے ظالمانہ دور میں ہوتا تھا۔ جب اس حال میں ان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ وہ ان کی اپنی اولاد ہو تو پھر ان کو بغیر کسی موجب کے قتل کرنا یا دوسروں کی اولاد کو قتل کرنا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہو گا۔
﴿ نَحْنُنَرْزُقُكُمْوَاِیَّ٘اهُمْ ﴾”ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو“ یعنی ہم نے تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ یہ تم نہیں ہو جو اپنی اولاد کو رزق عطا کرتے ہو بلکہ تم خود اپنے آپ کو بھی رزق عطا نہیں کر سکتے، پھر تم ان کے بارے میں تنگی کیوں محسوس کرو۔ ﴿وَلَاتَقْرَبُواالْفَوَاحِشَ ﴾”اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ“ یہاں فواحش سے مراد بڑے بڑے اور فحش گناہ ہیں ﴿ مَاظَهَرَمِنْهَاوَمَابَطَنَ ﴾”جو ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔“ یعنی کھلے گناہوں کے قریب جاؤ نہ چھپے ہوئے گناہوں کے۔ نہ کھلے گناہوں کے متعلقات کے قریب پھٹکو اور نہ قلب و باطن کے گناہوں کے متعلقات کے قریب جاؤ۔ فواحش کے قریب جانے کی ممانعت فواحش کے مجرد ارتکاب کی ممانعت سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ یہ فواحش کے مقدمات اور ان کے ذرائع اور وسائل سب کو شامل ہے۔ ﴿وَلَاتَقْتُلُواالنَّ٘فْ٘سَالَّتِیْحَرَّمَاللّٰهُ ﴾”اور نہ قتل کرو اس جان کو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے“ اس سے مراد مسلمان جان ہے خواہ مرد ہو خواہ عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، نیک ہو یا بد۔ اسی طرح اس کافر جان کو قتل کرنا بھی قتل ناحق ہے جو عہد و میثاق کی وجہ سے معصوم ہو ﴿ اِلَّابِالْحَقِّ ﴾”مگر حق کے ساتھ“مثلاً: شادی شدہ زانی، قاتل، مرتد ہو کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔
﴿ذٰلِكُمْ ﴾”یہ“ مذکورہ بالاتمام امور ﴿ وَصّٰؔىكُمْبِهٖلَعَلَّكُمْتَعْقِلُوْنَ ﴾”اس کے ساتھ تم کو حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو“ یعنی شاید تم اللہ تعالیٰ کی وصیت کو سمجھو، پھر تم اس کی حفاظت کرو، اس کی رعایت کرو اور اس کو قائم کرو۔ یہ آیتِ کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق ان امور کو قائم کرتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه - صلى الله عليه وسلم -: {قل}: لهؤلاء الذين حرَّموا ما أحلَّ الله: {تعالَوْا أتلُ ما حرَّمَ ربُّكم عليكم}: تحريماً عامًّا شاملاً لكل أحد، محتوياً على سائر المحرَّمات من المآكل والمشارب والأقوال والأفعال، {أن لا تشركوا به شيئاً}؛ أي: لا قليلاً ولا كثيراً. وحقيقة الشرك بالله أن يُعْبَدَ المخلوق كما يُعْبَدُ الله أو يعظَّمَ كما يعظَّمُ الله أو يصرفَ له نوعٌ من خصائص الربوبيَّة والإلهيَّة، وإذا تَرَكَ العبدُ الشرك كلَّه؛ صار موحِّداً مخلصاً لله في جميع أحواله؛ فهذا حقُّ الله على عباده: أن يعبُدوه ولا يشرِكوا به شيئاً. ثم بدأ بآكد الحقوق بعد حقه، فقال: {وبالوالدينِ إحساناً}: من الأقوال الكريمة الحسنة والأفعال الجميلة المستحسنة؛ فكلُّ قول وفعل يحصُلُ به منفعة للوالدين أو سرور لهما؛ فإنَّ ذلك من الإحسان، وإذا وُجِدَ الإحسان؛ انتفى العقوق، {ولا تقتلوا أولادكم}: من ذكور وإناث {من إملاق}؛ أي: بسبب الفقر وضيقكم من رزقهم؛ كما كان ذلك موجوداً في الجاهلية القاسية الظالمة، وإذا كانوا منهيِّين عن قتلهم في هذه الحال وهم أولادهم؛ فنهيهم عن قتلهم لغير موجب أو قتل أولاد غيرهم من باب أولى وأحرى. {نحن نرزُقُكم وإياهم}؛ أي: قد تكفَّلنا برزق الجميع، فلستم الذين ترزقون أولادكم، بل ولا أنفسكم، فليس عليكم منهم ضيق. {ولا تقرَبوا الفواحش}: وهي الذنوب العظام المستفحشة {ما ظهر منها وما بطن}؛ أي: لا تقربوا الظاهر منها والخفي أو المتعلق منها بالظاهر والمتعلق بالقلب والباطن، والنهي عن قربان الفواحش أبلغ من النهي عن مجرَّد فعلها؛ فإنه يتناول النهي عن مقدِّماتها ووسائلها الموصلة إليها. {ولا تقتُلوا النفس التي حرَّم الله}: وهي النفس المسلمة من ذكر وأنثى صغير وكبير بَرٍّ وفاجر: والكافرة التي قد عُصِمَتْ بالعهد والميثاق، {إلَّا بالحقِّ}: كالزاني المحصن والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة. {ذلكم}: المذكور، {وصَّاكم} [الله] {به لعلَّكم تعقِلون}: عن الله وصيَّته ثم تحفظونها ثم تراعونها وتقومونَ بها. ودلَّت الآية على أنه بحسب عقل العبد يكون قيامه بما أمر الله به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔