(آیت 82،81){ اَفَبِهٰذَاالْحَدِيْثِاَنْتُمْمُّدْهِنُوْنَ …:} پھر کیا اس ساری تفصیل کے بعد کہ قیامت حق ہے اور اللہ تعالیٰ اکیلا معبود برحق ہے اور قسم کے ساتھ تاکید کے بعد بھی کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے، تم اس سے بے توجہی کرتے ہو اور اس پر ایمان لانے میں سستی کرتے ہو اور اتنی بڑی نعمت میں سے تم یہی حصہ حاصل کرتے ہو کہ اسے جھٹلا دیتے ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
81۔ پھر کیا اس کلام سے [38] تم مداہنت کر رہے ہو
[38]﴿مُدْهِنُوْنَ﴾﴿دُهْنٌ﴾ بمعنی روغن، تیل، چکنائی اور ﴿اَدْهَنَ﴾ بمعنی کسی چیز کو تیل لگا کر نرم کرنا مداھنت کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً کسی بات میں لچک پیدا کر لینا۔ ڈھیلا پڑنا۔ منافقت کا رویہ اختیار کرنا۔ کسی چیز کو اپنی سنجیدہ توجہ کے قابل ہی نہ سمجھنا۔ یعنی اے کفار مکہ! قرآن جیسی بلند پایہ کتاب کے بارے میں تمہارا رویہ یہ ہے کہ تم اسے کچھ اہمیت ہی نہیں دیتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَاالْحَدِیْثِاَنْتُمْمُّدْهِنُوْنَ﴾”پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟“یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {أفبهذا الحديث أنتم مُدْهِنونَ}؛ أي: أفبهذا الكتاب العظيم والذِّكْرِ الحكيم {أنتم مُدْهِنون }؛ أي: تختفون وتدلِّسون خوفاً من الخلق وعارهم وألسنتهم! هذا لا ينبغي ولا يَليقُ! إنَّما يليق أن يُداهَنَ بالحديث الذي لا يثقُ صاحبه منه، وأمَّا القرآن الكريم؛ فهو الحقُّ الذي لا يغالِبُ به مغالِبٌ إلاَّ غَلَبَ، ولا يصول به صائلٌ إلاَّ كان العالي على غيره، وهو الذي لا يُداهَنُ به ويُختفى ، بل يُصْدَعُ به ويُعْلَن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔