اس آیت کی تفسیر آیت 81 میں تا آیت 83 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ اور اس میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا کہ اسے جھٹلاتے [39] رہو
[39] اس آیت کے بھی کئی مطالب ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح روزانہ کھانا کھانا تمہارا معمول ہے اسی طرح قرآن کو جھٹلانا بھی تم نے روز مرہ کا معمول بنا رکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی کوئی اور توجیہ تلاش کر کے اللہ کی اس نعمت کو بھی جھٹلا دینا تمہارا معمول بن گیا ہے۔ چنانچہ سیدنا علیؓ اس آیت کی تفسیر مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رزق کا شکر یوں ادا کرتے ہو کہ اللہ کو جھٹلاتے ہو اور کہتے ہو کہ مینہ ہم پر فلاں نچھتر اور فلاں ستارے کے سبب سے برسا ہے۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير] اور یہ قرآن بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی بارش اور بہت بڑی نعمت ہے اور تم اس نعمت کی شکرگزاری یوں کرتے ہو کہ اسے جھٹلا دیتے ہو۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ قرآن کو مان لینے سے تمہارا رزق بند ہو جائے گا۔ کعبہ کی سرپرستی اور تولیت چھن جائے گی۔ نذریں نیازیں بند ہو جائیں گی اور کعبہ کی وجہ سے عرب بھر میں جو تمہارا عزت و وقار بنا ہوا ہے سب ختم ہو جائے گا۔ لہٰذا تم اپنے رزق اور عز و جاہ کا ثبات اسی بات میں دیکھتے ہو کہ تم قرآن کو جھٹلاتے رہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَتَجْعَلُوْنَرِزْقَكُمْاَنَّـكُمْتُكَذِّبُوْنَ﴾”اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ”فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی“ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {وتجعلون رِزْقَكم أنَّكم تكذِّبون}؛ أي: تجعلون مقابلة منَّة الله عليكم بالرزق التكذيبَ والكفرَ لنعمة الله، فتقولون: مُطِرْنا بِنَوْء كذا وكذا! وتضيفون النعمة لغير مُسديها ومُوليها؛ فهلاَّ شكرتُم الله على إحسانه إذْ أنزله إليكم ليزيدَكم من فضله؛ فإنَّ التكذيب والكفر داعٍ لرفع النِّعم وحلول النِّقم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔