ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 80

تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۰﴾
تمام جہانوں کے رب کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔ En
پروردگار عالم کی طرف سے اُتارا گیا ہے
En
یہ رب العالمین کی طرف سےاترا ہوا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 79 میں تا آیت 81 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ یہ پروردگار عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{تنزيلٌ من ربِّ العالمين}؛ أي: إنَّ هذا القرآن الموصوف بتلك الصفات الجليلة هو تنزيلُ ربِّ العالمين، الذي يربِّي عباده بنعمه الدينيَّة والدنيويَّة، وأجلُّ تربيةٍ ربَّى بها عباده إنزالُه هذا القرآن، الذي قد اشتمل على مصالح الدَّارين، ورحم الله به العباد رحمةً لا يقدرون لها شكوراً، ومما يجب عليهم أن يقوموا به، ويعلنوه، ويدعوا إليه، ويصدعوا به.