تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 81

اَفَبِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡہِنُوۡنَ ﴿ۙ۸۱﴾
پھر کیا اس کلام سے تم بے توجہی کرنے والے ہو؟ En
کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟
En
پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {أفبهذا الحديث أنتم مُدْهِنونَ}؛ أي: أفبهذا الكتاب العظيم والذِّكْرِ الحكيم {أنتم مُدْهِنون }؛ أي: تختفون وتدلِّسون خوفاً من الخلق وعارهم وألسنتهم! هذا لا ينبغي ولا يَليقُ! إنَّما يليق أن يُداهَنَ بالحديث الذي لا يثقُ صاحبه منه، وأمَّا القرآن الكريم؛ فهو الحقُّ الذي لا يغالِبُ به مغالِبٌ إلاَّ غَلَبَ، ولا يصول به صائلٌ إلاَّ كان العالي على غيره، وهو الذي لا يُداهَنُ به ويُختفى ، بل يُصْدَعُ به ويُعْلَن.