ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 79

لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ﴿ؕ۷۹﴾
اسے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا مگر جو بہت پاک کیے ہوئے ہیں۔ En
اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں
En
جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 78 میں تا آیت 80 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

79-1یعنی اس قرآن کو فرشتے ہی چھوتے ہیں، یعنی آسمانوں پر فرشتوں کے علاوہ کسی کی بھی رسائی اس قرآن تک نہیں ہوتی۔ مطلب مشرکین کی تردید ہے جو کہتے تھے کہ قرآن شیاطین لے کر اترتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ کیوں کر ممکن ہے یہ قرآن تو شیطانی اثرات سے بالکل محفوظ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ جسے پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھو [37] سکتا
[37] ﴿مطهرون﴾ سے مراد کون؟
اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکیزہ لوگوں سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب قرآن کریم لوح محفوظ میں ثبت ہے اور وہاں سے پاکیزہ فرشتے ہی اسے لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں۔ کسی شیطان کی وہاں تک دسترس نہیں ہو سکتی جو اسے لا کر کسی کاہن کے دل پر نازل کر دے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے مضامین و مطالب تک رسائی صرف ان لوگوں کی ہو سکتی ہے جن کے خیالات پاکیزہ ہوں۔ کفر و شرک کے تعصبات سے پاک ہوں۔ عقل صحیح اور قلب سلیم رکھتے ہوں۔ جن لوگوں کے خیالات ہی گندے ہوں۔ قرآن کے بلند پایہ مضامین و مطالب تک ان کی رسائی ہو ہی نہیں سکتی۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں یا چھونا چاہئے۔ مشرک اور ناپاک لوگوں کو ہاتھ نہ لگانا چاہئے۔ اسی آیت سے بعض علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ بے وضو لوگوں کو قرآن کو ہاتھ نہ لگانا چاہیے۔ لیکن راجح تر بات یہی ہے کہ بے وضو بھی قرآن کو چھو سکتا اور اس سے تلاوت کر سکتا ہے۔ صرف جنبی اور حیض و نفاس والی عورت قرآن کو چھو نہیں سکتے۔ جب تک پاک نہ ہوں۔ البتہ حیض و نفاس والی عورت زبانی قرآن پڑھ بھی سکتی ہے اور پڑھا بھی سکتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْ٘مُطَهَّرُوْنَ۠ اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا يَمَسُّهُ إلاَّ المُطَهَّرونَ}؛ أي: لا يَمَسُّ القرآن إلاَّ الملائكةُ الكرام، الذينَ طهَّرهم الله تعالى من الآفات والذنوب والعيوب، وإذا كان لا يمسُّه إلاَّ المطهَّرون، وأنَّ أهل الخبث والشياطين لا استطاعة لهم ولا يدان إلى مسِّه؛ دلَّت الآية تنبيهاً على أنَّه لا يجوز أن يَمَسَّ القرآن إلاَّ طاهرٌ [كما ورد بذلك الحديثُ، ولهذا قيل: إنّ الآية خبرٌ بمعنى النهي؛ أي: لا يمسَّ القرآن إلاَّ طاهر].