تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 79

لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ﴿ؕ۷۹﴾
اسے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا مگر جو بہت پاک کیے ہوئے ہیں۔ En
اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں
En
جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْ٘مُطَهَّرُوْنَ۠ اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا يَمَسُّهُ إلاَّ المُطَهَّرونَ}؛ أي: لا يَمَسُّ القرآن إلاَّ الملائكةُ الكرام، الذينَ طهَّرهم الله تعالى من الآفات والذنوب والعيوب، وإذا كان لا يمسُّه إلاَّ المطهَّرون، وأنَّ أهل الخبث والشياطين لا استطاعة لهم ولا يدان إلى مسِّه؛ دلَّت الآية تنبيهاً على أنَّه لا يجوز أن يَمَسَّ القرآن إلاَّ طاهرٌ [كما ورد بذلك الحديثُ، ولهذا قيل: إنّ الآية خبرٌ بمعنى النهي؛ أي: لا يمسَّ القرآن إلاَّ طاهر].