اس آیت کی تفسیر آیت 43 میں تا آیت 45 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
44۔ 1 (کڑاکا) آسمانی چیخ تھی اور اس کے ساتھ (زلزلہ) تھا جیسا کہ (فَاَخَذَتْهُمُالرَّجْفَةُفَاَصْبَحُوْافِيْدَارِهِمْجٰثِمِيْنَ 78) 7۔ الاعراف:78) میں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ مگر (اس تنبیہ کے باوجود) انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرتابی کی تو ان کے دیکھتے دیکھتے ہی انہیں [38] بجلی کے عذاب نے آلیا
[38] گرنے والی بجلی کا عذاب :۔
صاعقۃ آسمان سے گرنے والی بجلی کو کہتے ہیں اور وہ جس چیز پر گرتی ہے اسے جلا کر خاکستر بنا دیتی ہے۔ قوم ثمود کا قصہ بھی پہلے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے۔ ان پر جو عذاب نازل ہوا اس کے لیے کہیں صیحة (زبردست چیخ، کڑک، دھماکہ) کا لفظ آیا ہے اور کہیں رجفۃ (زلزلہ) کا۔ گویا ان پر زمین سے عذاب آیا تھا اور آسمان سے بھی اور ہر مقام پر کسی ایک پہلو کا ذکر کر دیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَعَتَوْاعَنْاَمْرِرَبِّهِمْفَاَخَذَتْهُمُالصّٰؔعِقَةُ﴾”تو انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کو کڑک نے آپکڑا۔“ یعنی ہلاک کر دینے والی ایک بہت بڑی کڑک نے آ لیا ﴿ وَهُمْیَنْظُ٘رُوْنَ﴾ اور وہ اپنی اس سزا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فعَتَوْا عن أمرِ ربِّهم فأخَذَتْهُمُ الصَّاعقةُ}؛ أي: الصيحة العظيمة المهلكة، {وهم ينظرونَ}: إلى عقوبتهم بأعينهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔