ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 63

لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾
انھیں رب والے لوگ اور علماء ان کے جھوٹ کہنے اور ان کے حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ یقینا برا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بلاشبہ وہ بھی برا کرتے ہیں
En
انہیں ان کے عابد وعالم جھوٹ باتوں کے کہنے اور حرام چیزوں کے کھانے سے کیوں نہیں روکتے، بےشک برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 62 میں تا آیت 64 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

63۔ 1 یہ علماء و مشائخ دین اور عباد و زہاد پر نکیر ہے کہ عوام کی اکثریت تمہارے سامنے بدکاری اور حرام خوری کا ارتکاب کرتی ہے لیکن تم انہیں منع نہیں کرتے ایسے حالات میں تمہاری یہ خاموشی بہت بڑا جرم ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کتنی اہمیت ہے اور اس کے ترک پر کتنی سخت وعید (سزا) کی گئی ہے۔ احادیث میں بھی یہ مضمون وضاحت اور کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

63۔ ان کے مشائخ اور علماء ان یہود کو گناہ پر زبان کھولنے اور حرام [104] کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ بہت برا ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں
[104] پہلے یہود کے عوام کے اخلاقی تنزل کی حالت بیان کی گئی۔ اب ان کے خواص یعنی علماء و مشائخ کا حال بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ ان عوام کی کرتوتوں پر خاموش رہتے ہیں اور ان پر جو نھی عن المنکر کی ذمہ داری ہے اسے پورا نہیں کرتے (شریعت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت کے لیے (دیکھئے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 104 اور 110) گویا یہود کے عوام و خواص سب ہی بہت برے کام کر رہے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَوْلَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَ٘بِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لولا ينهاهم الربَّانيُّونَ والأحبار عن قولهم الإثم وأكْلِهِم السُّحْتَ}؛ أي: هلاَّ ينهاهم العلماء المتصدون لنفع الناس الذين منَّ الله عليهم بالعلم والحكمة عن المعاصي، التي تصدر منهم، ليزول ما عندهم من الجهل، وتقوم حجة الله عليهم، فإن العلماء عليهم أمر الناس ونهيهم، وأن يبيِّنُوا لهم الطريق الشرعي، ويرغبوهم في الخير، ويرهبوهم من الشر. {لبئس ما كانوا يصنعون}.