آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر گناه کے کاموں کی طرف اور ﻇلم وزیادتی کی طرف اور مال حرام کھانے کی طرف لپک رہے ہیں، جو کچھ یہ کر رہے ہیں وه نہایت برے کام ہیں
En
(آیت 63,62) {لَوْلَايَنْهٰىهُمُالرَّبّٰنِيُّوْنَوَالْاَحْبَارُ:} یعنی جس طرح گناہ کرنا جرم ہے اسی طرح گناہ سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”کوئی بھی شخص جو ایسی قوم میں ہو جن میں معاصی کا ارتکاب کیا جاتا ہو جو اسے روکنے کی قدرت رکھتے ہوں مگر اسے نہ روکیں تو اﷲ تعالیٰ ان کے مرنے سے پہلے ان پر کوئی عذاب بھیجے گا۔۔“[أبو داوٗد، الملاحم، باب الامر والنہی: ۴۳۳۹ وحسنہ الألبانی] ان کے علماء اور مشائخ انھیں جھوٹ کہنے اور حرام کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے، یقینا ان کے علماء و مشائخ بھی جو کرتے چلے آئے ہیں بہت برا ہے کہ انھیں منع کرنے کے بجائے وہ خود بھی جھوٹ کہہ کر اسلام سے روکتے اور سحت (رشوت اور حرام) کھاتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۳۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
62۔ ان میں سے اکثر کو آپ دیکھیں گے کہ گناہ اور زیادتی کے کاموں اور حرام خوری میں تگ و دو کرتے پھرتے ہیں۔ جو کام یہ کر رہے ہیں، بہت برے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے ﴿ وَتَرٰؔىكَثِیْرًامِّؔنْهُمْ ﴾”اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا“ یعنی یہودیوں میں سے ﴿ یُسَارِعُوْنَفِیالْاِثْمِوَالْعُدْوَانِ ﴾”وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں “ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿ وَاَكْلِهِمُالسُّحْتَ﴾”اور ان کے حرام کھانے پر“ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لیے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿ لَ٘بِئْسَمَاكَانُوْایَعْمَلُوْنَ﴾”بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں “ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم استمرَّ تعالى يعدِّد معايِبَهم انتصاراً لِقَدْحِهِم في عباده المؤمنين، فقال: {وترى كثيراً منهم}؛ أي: من اليهود، {يُسارِعون في الإثم والعُدوان}؛ أي: يحرصون ويبادرون المعاصي المتعلِّقة في حقِّ الخالق والعدوان على المخلوقين. {وأكلهم السُّحْتَ}: الذي هو الحرام، فلم يكتفِ بمجرَّد الإخبار أنهم يفعلون ذلك، حتى أخبر أنهم يُسارعون، وهذا يدلُّ على خبثهم وشرِّهم وأنَّ أنفسهم مجبولةٌ على حبِّ المعاصي والظُّلم، هذا وهم يدَّعون لأنفسهم المقامات العالية، {لبئس ما كانوا يعملون}: وهذا في غاية الذمِّ لهم والقدح فيهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔