تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 63

لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾
انھیں رب والے لوگ اور علماء ان کے جھوٹ کہنے اور ان کے حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ یقینا برا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بلاشبہ وہ بھی برا کرتے ہیں
En
انہیں ان کے عابد وعالم جھوٹ باتوں کے کہنے اور حرام چیزوں کے کھانے سے کیوں نہیں روکتے، بےشک برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَوْلَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَ٘بِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لولا ينهاهم الربَّانيُّونَ والأحبار عن قولهم الإثم وأكْلِهِم السُّحْتَ}؛ أي: هلاَّ ينهاهم العلماء المتصدون لنفع الناس الذين منَّ الله عليهم بالعلم والحكمة عن المعاصي، التي تصدر منهم، ليزول ما عندهم من الجهل، وتقوم حجة الله عليهم، فإن العلماء عليهم أمر الناس ونهيهم، وأن يبيِّنُوا لهم الطريق الشرعي، ويرغبوهم في الخير، ويرهبوهم من الشر. {لبئس ما كانوا يصنعون}.