تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس آیت اور دوسری بہت سی آیات و احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ موجود ہیں۔ بعض لوگ اس کا ترجمہ قبضہ، قدرت وغیرہ کرتے ہیں اور ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر ہم اس کے ہاتھ مانیں تو وہ ہمارے جیسا ہو جائے گا، حالانکہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ ان لوگوں کی بات درست نہیں، کیونکہ یہ تو اس وقت ہو گا جب ہم کہیں کہ اس کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں جیسے ہیں، جب ہم کہتے ہیں کہ اﷲ کے ہاتھ ہیں مگر ہمارے جیسے نہیں، بلکہ ایسے ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہیں تو اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی، جبکہ اس کے ہاتھوں کے انکار سے کئی احادیث اور قرآن کی آیات کا انکار لازم آتا ہے۔ اب ہم سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں، اﷲ تعالیٰ بھی دیکھتا سنتا ہے تو کیا وہ ہمارے جیسا ہو گا؟ نہیں، بلکہ اس کا سننا اور دیکھنا ہماری طرح نہیں، بلکہ ایسا ہے جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔ اسی طرح اﷲ بھی موجود ہے ہم بھی موجود ہیں، تو کیا وہ بھی ہماری مثل ہو جائے گا؟ نتیجہ تو یہی نکلا کہ مشابہت ثابت ہونے کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ [اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ] نہیں، بلکہ وہ موجود ہے، سمیع و بصیر ہے، اس کا چہرہ، اس کی آنکھیں، اس کا سمع و بصر اور اس کا وجود سب کچھ قرآن سے ثابت ہے اور ماننا لازم ہے، مگر وہ وجود اور سمع و بصر اور ہاتھ ہمارے یا کسی مخلوق جیسے نہیں، بلکہ ایسے ہیں جیسے اس کے لائق ہیں۔ اﷲ کی ذات بھی بے مثل ہے، اس کی صفات بھی بے مثل ہیں۔ کئی ایسے بھی بے نصیب ہیں جو اسی شبہ کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کے سننے، دیکھنے اور قیامت کے دن زمین پر آنے کا صاف انکار کر کے اپنے ڈھکوسلے سے بنایا ہوا کوئی معنی کر دیتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے۔
➌ {وَ لَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا ……:} یعنی یہ لوگ اگر ہدایت کے طلب گار ہوتے تو آپ پر نازل ہونے والی ہر آیت و حدیث سے صحابہ کے ایمان کی طرح ان کے ایمان میں اضافہ اور ترقی ہوتی، مگر چونکہ ان کے دل بغض و عناد، ضد اور حسد سے بھرے ہوئے ہیں، اس لیے تیرے رب کی طرف سے جو کچھ بھی تجھ پر نازل ہو گا وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کی سر کشی اور کفر ہی میں اضافہ کرے گا، اسی کا نتیجہ تھا کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ان کی سرکشی اور کفر بڑھتا جاتا۔
➍ {وَ اَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ ……:} یعنی ان پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے درمیان باہمی عداوت اور بغض اس حد تک پہنچ گیا کہ وہ قیامت تک آپس میں ایک نہیں ہو سکتے، بلکہ وہ بہت سے فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور اسی لعنت کا اثر ہے کہ دنیا میں امن و سلامتی کی کوششوں کے بجائے وہ دنیا میں کہیں نہ کہیں لڑائی کی آگ بھڑکائے رکھتے ہیں، مگر وہ جب بھی یہ آگ بھڑکاتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے۔ ان کی ساری تگ و دو دنیا میں فساد پھیلانے کی ہے، جبکہ اﷲ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ یہودیوں کی تاریخ اور ان کے موجودہ حالات جاننے والا ہر شخص جانتا ہے کہ کس طرح ہر لڑائی کے پیچھے یہودیوں کا خفیہ ہاتھ ہوتا ہے، یہ تو اﷲ کا فضل ہے کہ وہ ان کے منصوبے پورے نہیں ہونے دیتا۔ افسوس! اب مسلمانوں کے اکثر علماء و عوام کا بھی تقریباً یہی حال ہے کہ انھوں نے اﷲ کے دین پر عمل چھوڑ رکھا ہے، بلکہ جب بھی موقع ملتا ہے اسلام کے کسی نہ کسی حکم سے انکار یا اس کی گستاخی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہ یہودیانہ خصلت ہے جس کی وجہ سے مسلمان ملکوں کے مالک ہو کر بھی کفار کے محکوم ہیں اور ان برکات سے محروم ہیں جو کتاب و سنت پر عمل کرنے اور برائیوں کو روکنے کے لیے جہاد کرنے کی صورت میں انھیں حاصل ہوتیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاري كتاب التوحيد باب قول الله لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ]
[107] یہود اور نصاریٰ دونوں کی آپس میں ایسی دشمنی ہے جو تا قیامت چلتی رہے گی۔ اسی طرح ہر گروہ کے اپنے اپنے فرقوں میں بھی اختلاف، بغض اور عداوتیں ہیں۔ اگرچہ یہ مسلمانوں کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں تاہم ان کی آپس کی پھوٹ انہیں کامیاب نہیں ہونے دے گی اور بالآخر مسلمانوں سے مات کھا جائیں گے۔
[109] یعنی جو کچھ وہ سوچتے ہیں یا کہتے ہیں یا کرتے ہیں سب کچھ فتنہ و فساد برپا کرنے کی غرض سے کرتے ہیں ان کی چند فساد انگیزیاں درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے:
1۔
[بخاری۔ کتاب الطب۔ باب مایذکر فی سم النبی]
2۔
[بخاری۔ کتاب الدیات۔ باب القسامۃ]
ان احادیث سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہودی اس قدر فتنہ پرداز تھے کہ پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو گزند پہچانے حتیٰ کہ مار ڈالنے میں کس قدر سرگرم اور موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ نیز اپنی بد عہدیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی نظروں میں اس قدر ناقابل اعتماد بن چکے تھے کہ مسلمان ان کے پچاس آدمیوں کی قسموں پر بھی اعتبار نہیں کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ «إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ» ۱؎ [3-آل عمران:181] ’ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘۔ جس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے پیٹا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ ’ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں ‘۔
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ» ۱؎ [4-النساء:55] ’ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے ‘۔
فرماتا ہے آیت «وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:34]۔ ’ تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کر سکتے، یقیناً انسان بڑا ہی ظالم بے حد ناشکرا ہے ‘۔
مسند میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے }۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7419]۔
اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82] ’ ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے ‘۔
پھر ارشاد ہوا کہ ’ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:96] یعنی ’ اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے ‘۔
اور آیت میں «ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:41] ’ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے ‘، اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ ’ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں ‘۔ بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ’ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہو جاتے ‘۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔
ابن ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے }۔ یہ سن کر زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ» [5-المائدة:65] تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:75/18:مرسل]
یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ { یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر ابن لبید رضی اللہ عنہ نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4048،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور قوم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے، «فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ» ۱؎ [57-الحدید:27] ’ ان میں سے با ایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے ‘۔
یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔
جیسے فرمایا۔ آیت «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:32]۔ یعنی ’ پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے ‘۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔
ابن مردویہ میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { موسیٰ علیہ السلام کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں؟ فرمایا: { جماعتیں جماعتیں } } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3992، قال الشيخ الألباني:صحیح]
یعقوب بن یزید کہتے ہیں ”جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [5-المائدہ:65]، اور «وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:181] بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں ”اس سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔“ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3668: ضعیف]
لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بے حد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کر دیا ہے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن مقالة اليهود الشنيعة وعقيدتهم الفظيعة، فقال: {وقالت اليهود يدُ الله مغلولةٌ}؛ أي: عن الخير والإحسان والبرِّ! {غُلَّتْ أيديهم ولُعِنوا بما قالوا}: وهذا دعاء عليهم بجنس مقالتهم؛ فإن كلامهم متضمن لوصف الله الكريم بالبخل وعدم الإحسان، فجازاهم بأن كان هذا الوصف منطبقاً عليهم؛ فكانوا أبخل الناس وأقلَّهم إحساناً وأسوأهم ظنًّا بالله وأبعدَهم عن رحمته التي وَسِعَتْ كلَّ شيءٍ وملأت أقطار العالم العلويِّ والسفليِّ، ولهذا قال: {بل يداه مبسوطتانِ يُنفِقُ كيفَ يشاءُ}: لا حَجْر عليه ولا مانعَ يمنعُه مما أراد؛ فإنَّه تعالى قد بَسَطَ فضله وإحسانه الدينيَّ والدنيويَّ، وأمر العباد أن يتعرَّضوا لنفحات جودِهِ، وأن لا يسدُّوا على أنفسهم أبواب إحسانِهِ بمعاصيهم، فيدُهُ سحَّاءُ الليل والنهار، وخيرُهُ في جميع الأوقات مدرارٌ؛ يفرِّج كرباً، ويزيل غمًّا، ويغني فقيراً، ويفكُّ أسيراً، ويجبرُ كسيراً، ويجيب سائلاً، ويعطي فقيراً عائلاً، ويُجيب المضطرِّين، ويستجيب للسائلين، وينعِم على مَن لم يسأله، ويعافي من طلب العافية، ولا يحرم من خيره عاصياً، بل خيره يرتع فيه البَرُّ والفاجر ويجود على أوليائِهِ بالتوفيق لصالح الأعمال ثم يحمدُهم عليها ويضيفُها إليهم وهي من جوده ويُثيبهم عليها من الثواب العاجل والآجل ما لا يدركُهُ الوصفُ ولا يخطُر على بال العبد، ويلطُف بهم في جميع أمورهم، ويوصِلُ إليهم من الإحسان، ويدفع عنهم من النقم ما لا يشعرونَ بكثيرٍ منه؛ فسبحانَ مَن كلُّ النِّعم التي بالعباد فمنه وإليه يجأرون في دفع المكاره، وتبارك من لا يُحْصي أحدٌ ثناءً عليه، بل هو كما أثنى على نفسه، وتعالى من لا يخلو العباد من كرمِهِ طرفة عين، بل ولا وجود لهم ولا بقاء إلا بجوده، وقبَّح الله من استغنى بجهلِهِ عن ربِّه ونسبه إلى ما لا يليق بجلاله، بل لو عامل اللهُ اليهود القائلين تلك المقالة ونحوَهم ممَّن حاله كحالهم ببعض قولِهِم؛ لهلكوا وشقوا في دنياهم، ولكنهم يقولون تلك الأقوال، وهو تعالى يحلم عنهم، ويصفح، ويمهلهم، لا يهملهم.
وقوله: {وليزيدنَّ كثيراً منهم ما أُنزِلَ إليكَ مِن ربِّكَ طغياناً وكفراً}: وهذا أعظم العقوبات على العبد: أن يكون الذِّكر الذي أنزله الله على رسوله، الذي فيه حياة القلب والروح وسعادة الدُّنيا والآخرة وفلاح الدَّارين، الذي هو أكبر مِنَّةٍ امتنَّ الله بها على عباده، توجب عليهم المبادرة إلى قبولها والاستسلام لله بها وشكراً لله عليها، أن تكون لمثل هذا زيادةُ غيٍّ إلى غيِّه وطغيانٍ إلى طغيانه وكفر إلى كفره، وذلك بسبب إعراضه عنها وردِّه لها ومعاندته إياها ومعارضته لها بالشبه الباطلة.
{وألقينا بينهم العداوة والبغضاء إلى يوم القيامة}: فلا يتآلفون ولا يتناصرون ولا يتَّفقون على حالةٍ فيها مصلحتهم، بل لم يزالوا متباغضين في قلوبهم متعادين بأفعالهم إلى يوم القيامة، {كلَّما أوقدوا ناراً للحرب}: ليكيدوا بها الإسلام وأهله وأبْدُوا وأعادوا وأجلبوا بخيلهم ورجلهم، {أطفأها الله}: بخِذلانهم وتفرُّق جنودِهم وانتصار المسلمين عليهم، {ويسعَوْن في الأرض فساداً}؛ أي: يجتهدون ويجدِّون ولكن بالفساد في الأرض؛ بعمل المعاصي والدعوة إلى دينهم الباطل والتعويق عن الدُّخول في الإسلام، {والله لا يحبُّ المفسدين}: بل يبغِضُهم أشدَّ البغض، وسيجازيهم على ذلك.