تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ …:} پہلی بات یہ فرمائی کہ اس چیز سے بچو کہ کسی کے متعلق جو سنو یا دیکھو اس سے اس کے متعلق برا گمان ہی قائم کر لو، بلکہ جہاں تک ہو سکے مومن کے تمام اقوال و اعمال کے متعلق اچھا گمان رکھنے کی کوشش کرو، کیونکہ بعض گمان بالکل بے بنیاد اور گناہ ہوتے ہیں۔ اس لیے زیادہ گمان سے بچو، کیونکہ اس کا نتیجہ ایسے گمانوں میں پڑ جانا ہے جو گناہ ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بعض گمانوں کو گناہ قرار دیا ہے، سب گمانوں کو نہیں، کیونکہ ظن کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک ظن غالب ہے، جو کسی دلیل یا مضبوط علامت کے ساتھ قوی ہو جائے، اس پر عمل کرنا درست ہے۔ شریعت کے اکثر احکام اس پر مبنی ہیں اور دنیا کے تقریباً تمام کام اسی پر چلتے ہیں، مثلاً عدالتوں کے فیصلے، گواہوں کی گواہی، باہمی تجارت، ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے سے اطلاعات اور خبرِ واحد کے راویوں کی روایات۔ ان سب چیزوں میں غور وفکر، جانچ پڑتال اور پوری کوشش سے حاصل ہونے والا علم بھی ظن غالب ہے، مگر اس پر عمل واجب ہے۔ اسے ظن اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی مخالف جانب کا یعنی اس کے درست نہ ہونے کا نہایت ادنیٰ سا امکان رہتا ہے، مثلاً ہو سکتا ہے کہ گواہ کی گواہی درست نہ ہو، اطلاع دینے والا جھوٹ بول رہا ہو، یا راوی کو غلطی لگی ہو، مگر اس امکان کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس امکان پر جائیں تو دنیا کا کوئی کام ہو ہی نہ سکے۔ اس لیے اپنی پوری کوشش کے بعد دلائل سے جو علم حاصل ہو اس پر بھی اگرچہ ظن کا لفظ بول لیا جاتا ہے مگر درحقیقت یہ علم ہی ہے اور اس پر عمل واجب ہے۔
ظن کی ایک قسم یہ ہے کہ کسی وجہ سے دل میں ایک خیال آ کر ٹھہر جاتا ہے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ دلیل نہ ہونے کی وجہ سے دل میں اس کے ہونے یا نہ ہونے کا امکان برابر ہوتا ہے، اسے شک بھی کہتے ہیں، یا اس کے ہونے کا امکان اس کے نہ ہونے کے امکان سے کم ہوتا ہے، یہ وہم کہلاتا ہے۔ ظن کی یہ صورتیں مذموم ہیں اور ان سے اجتناب واجب ہے۔ {” اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ “} (بے شک بعض گمان گناہ ہیں) سے یہی مراد ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمان: «اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا» [یونس: ۳۶] (بے شک گمان حق کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا) اور اللہ کے فرمان: «اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ» [النجم: ۲۳] (یہ لوگ صرف اپنے گمان کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں) میں اسی ظن کا ذکر ہے اور اسی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ] [بخاري، الأدب، باب: «یأیھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن…» : ۶۰۶۶] ”گمان سے بچو! کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔“ اسے سب سے جھوٹی بات اس لیے کہا گیا کہ جب کوئی شخص کسی کے متعلق بدگمانی کرتا ہے تو وہ دلیل کے بغیر فیصلہ کر لیتا ہے کہ وہ شخص ایسا ایسا ہے۔ چونکہ حقیقت میں وہ شخص ایسا نہیں ہوتا، اس لیے اس کے اس فیصلے کو جھوٹ کہا گیا ہے اور سب سے بڑا جھوٹ اس لیے کہ اس نے بغیر کسی قرینے یا سبب کے محض نفس یا شیطان کے کہنے پر اسے براقرار دے لیا، جب کہ اس کے برے ہونے کی کوئی بنیاد ہی نہیں۔
➌ آیت میں ایسے گمان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے جو بے دلیل ہو، مثلاً ایک آدمی جو ظاہر میں صالح ہے، اس کے عیوب پر اللہ کی طرف سے پردہ پڑا ہوا ہے، عام مشاہدہ میں وہ عفیف اور امانت دار ہے اور اس کے بددیانت یا گناہ گار ہونے کی کوئی دلیل یا علامت موجود نہیں، اس کے متعلق بدگمانی کرنا حرام ہے۔ ہاں، اگر گمان کرنے کی کوئی واقعی دلیل یا علامت موجود ہے تو اس وقت گمان منع نہیں۔ مثلاً ایک شخص کا اٹھنا بیٹھنا ہی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو چوری یا زنا کے ساتھ معروف ہیں، یا رات کو وہاں پھرتا ہے جہاں اس کا کوئی کام نہیں، اس کے متعلق گمان پیدا ہونا فطری بات ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر گمان سے منع نہیں فرمایا، بلکہ فرمایا: «اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ» ”بہت سے گمان سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں فرمایا: {”بَابُ مَا يَجُوْزُ مِنَ الظَّنِّ“} ”وہ گمان جو جائز ہیں۔“ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنھا سے حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا أَظُنُّ فُلاَنًا وَ فُلاَنًا يَعْرِفَانِ مِنْ دِيْنِنَا شَيْئًا قَالَ اللَّيْثُ كَانَا رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُنَافِقِيْنَ] [بخاري، الأدب، باب ما یجوز من الظن …: ۶۰۶۷] ”میں فلاں اور فلاں کے متعلق گمان نہیں کرتا کہ وہ ہمارے دین میں سے کچھ بھی جانتے ہیں۔“ لیث نے فرمایا: ”یہ دونوں آدمی منافق تھے۔“ اس جائز گمان سے مراد وہ گمان ہے جس کی علامات یا دلیلیں واضح ہوں۔
➍ جس طرح دوسرے مسلمان کے حق میں بدگمانی کرنا منع ہے اسی طرح خود مسلمان کو بھی لازم ہے کہ ایسے ہر کام سے اجتناب کرے جس سے کسی کے دل میں اس کے متعلق برا گمان پیدا ہو۔ علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صفیہ رضی اللہ عنھا نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کے پاس تھیں۔ وہ جانے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا: ”جلدی نہ کرنا، یہاں تک کہ میں تمھارے ساتھ جاؤں۔“ ان کا مکان اسامہ کی حویلی میں تھا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے تو آپ کو دو انصاری ملے، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آگے بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: [تَعَالَيَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ] ”ادھر آؤ! یہ (میری بیوی) صفیہ بنت حیی ہے۔“ انھوں نے کہا: ”سبحان اللہ! یا رسول اللہ! (بھلا ہم آپ کے متعلق برا گمان کر سکتے ہیں)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِيْ مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ، وَ إِنِّيْ خَشِيْتُ أَنْ يُلْقِيَ فِيْ أَنْفُسِكُمَا شَيْئًا] [بخاري، الاعتکاف، باب زیارۃ المرأۃ زوجھا في اعتکافہ: ۲۰۳۸] ”شیطان انسان میں خون کے پھرنے کی طرح پھرتا ہے، تو میں ڈرا کہ وہ تمھارے دلوں میں کوئی بات ڈال دے۔“
➎ { وَ لَا تَجَسَّسُوْا:”جَسَّ يَجُسُّ جَسًّا“} (ن) کسی چیز کو معلوم کرنے کے لیے ہاتھ سے ٹٹولنا، تجسس، جاسوسی کرنا، خفیہ باتیں معلوم کرنے کی کوشش کرنا۔ جاسوسی برے گمان کا لازمی نتیجہ ہے، کیونکہ آدمی جب کسی کے متعلق دل میں برا گمان قائم کر لیتا ہے تو اسے ثابت کرنے کے لیے اس کی جاسوسی کرتا ہے اور اس کے ان عیوب کی ٹوہ میں رہتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈال رکھا ہے، تاکہ یہ اپنے گمان کو سچا ثابت کر سکے۔ یہ ایمانی مودّت و اخوت کے سراسر خلاف ہے۔ جب مسلمان بھائی کے ان عیوب پر بھی پردہ ڈالنے کا حکم ہے جو آدمی کو معلوم ہوں تو ان عیوب کی ٹوہ لگانا کیسے جائز ہو سکتا ہے جو محض اس کے گمان کی پیداوار ہیں، یا جن پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ، وَلاَ تَحَسَّسُوْا، وَلاَ تَجَسَّسُوْا، وَلاَ تَنَاجَشُوْا، وَلاَ تَحَاسَدُوْا، وَلاَ تَبَاغَضُوْا، وَلاَ تَدَابَرُوْا، وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا] [بخاري، الفرائض، باب تعلیم الفرائض:۶۰۶۶، ۶۷۲۴] ”گمان سے بچو! کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے اور نہ ٹوہ لگاؤ، نہ جاسوسی کرو، نہ دھوکے سے (خرید و فروخت میں) بولی بڑھاؤ، نہ ایک دوسرے پر حسد کرو، نہ ایک دوسرے سے دل میں کینہ رکھو، نہ ایک دوسرے سے قطع تعلق کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔“ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ قَلْبَهُ! لاَ تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِيْنَ وَلاَ تَتَّبِعُوْا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعِ اللّٰهُ عَوْرَتَهُ، وَ مَنْ يَتَّبِعِ اللّٰهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِيْ بَيْتِهٖ] [أبوداوٗد، الأدب، باب في الغیبۃ: ۴۸۸۰، قال الألباني حسن صحیح] ”اے ان لوگوں کی جماعت جو اپنی زبان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت مت کرو اور نہ ہی ان کے چھپے ہوئے عیبوں کا پیچھا کرو، کیونکہ جو شخص مسلمانوں کے عیبوں کا پیچھا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کا پیچھا کرے گا اور جس کے عیبوں کا پیچھا اللہ تعالیٰ کرے وہ اسے اس کے گھر میں رسوا کر دے گا۔“ بعض اوقات آدمی اصلاح کی نیت سے جاسوسی کرتا ہے، مگر یہ اصلاح کا طریقہ نہیں، اس سے باہمی عداوت پیدا ہوتی ہے اور خرابی بڑھتی ہے، اصلاح نہیں ہوتی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ أوْكِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمْ] ”یقینا جب تو لوگوں کے عیبوں کا پیچھا کرے گا تو انھیں خراب کر دے گا “ یا فرمایا: ”قریب ہے تو انھیں خراب کر دے۔“ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ایسی بات تھی جو معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی اور اللہ تعالیٰ نے انھیں اس کے ساتھ نفع دیا (کہ انھوں نے بیس سال شام کی امارت کی اور بیس سال پورے عالمِ اسلام پر خلافت کی اور رعایا کو ان سے کوئی خاص شکایت پیدا نہیں ہوئی)۔“ [أبوداوٗد، الأدب، باب في النھي عن التجسس: ۴۸۸۸، و قال الألباني صحیح]
➏ جس طرح کوئی دلیل یا قرینہ موجود ہو تو بدگمانی کی گنجائش ہے اسی طرح اسلام کے دشمنوں کی جاسوسی یا امن و امان کی خرابی کا باعث بننے والوں کی جاسوسی بھی جائز ہے، بلکہ مسلم حکمران پر لازم ہے کہ وہ اپنی رعایا کے حالات سے واقف رہے اور اللہ کی حدود کو پامال کرنے والوں کا سدِباب کرتا رہے، مگر اس کے لیے کسی طرح جائز نہیں کہ محض گمان کی بنا پر تجسس یا کوئی کارروائی کرے۔
➐ { وَ لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا:” لَا يَغْتَبْ “} (غ، ی، ب) سے باب افتعال ہے: {”اِغْتَابَ يَغْتَابُ اِغْتِيَابًا “} کسی کے غائب ہونے کی حالت میں اس کی وہ بات کرنا جس کا ذکر اسے ناپسند ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَتَدْرُوْنَ مَا الْغِيْبَةُ؟] ”کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ] ”تمھارا اپنے بھائی کا ذکر ایسی چیز کے ساتھ کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔“ عرض کیا گیا: ”آپ یہ بتائیں کہ اگر میرے بھائی میں وہ چیز موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں (تو کیا پھر بھی غیبت ہے)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنْ كَانَ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ وَ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيْهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الغیبۃ: ۲۵۸۹] ”اگر اس میں وہ چیز موجود ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ چیز اس میں موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔“
➑ { اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ:} اس جملے میں غیبت سے کئی طریقوں سے شدید نفرت دلائی گئی ہے۔ چنانچہ اس میں غیبت کے ساتھ کسی بھائی کی عزت و آبرو تار تار کرنے کو انسان کا گوشت کھانا قرار دیا، پھر کسی دوسرے انسان کا نہیں بلکہ اپنے بھائی کا اور وہ بھی زندہ کا نہیں بلکہ مردہ بھائی کا۔ پھر ایسی شدید قابل نفرت چیز سے محبت کرنے کی عار دلاتے ہوئے پوچھا کہ اتنی گندی اور مکروہ چیز سے تو شدید نفرت ہونی چاہیے تھی، تو کیا تم نفرت کے بجائے اس سے محبت کرتے ہو۔ پھر {” اَحَدُكُمْ “} فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ایک یہ پسند کرتا ہے؟ مطلب یہ کہ لاکھوں کروڑوں میں سے کوئی ایک بھی یہ پسند نہیں کرے گا تو تم میں سے کوئی ایک یہ کام کیوں کرے!؟
➒ { فَكَرِهْتُمُوْهُ:} یعنی اگر تمھارے سامنے یہ چیز پیش کی جائے تو یقینا تم اس سے نفرت کرو گے۔
➓ غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے ساتھ تشبیہ اس لیے دی ہے کہ جس طرح مردہ اپنا گوشت کھانے سے کسی کو ہٹا نہیں سکتا اسی طرح جس کی غیبت کی جا رہی ہے وہ پاس موجود نہ ہونے کی وجہ سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔
⓫ جس طرح غیبت کرنا حرام ہے اسے سننا بھی حرام ہے، کیونکہ سننے والا بھی غیبت میں برابر کا شریک ہے، اگر وہ خاموش رہ کر تائید نہ کرے تو غیبت کرنے والے کو اس کام کی جرأت ہو ہی نہیں سکتی۔ دونوں ہی اپنے مردہ بھائی کے گوشت سے لذت حاصل کر رہے ہیں، ایک غیبت کر کے اور دوسرا اسے سن کر۔ اس لیے غیبت سننے سے بھی بہت پرہیز کرنا چاہیے، بلکہ اپنے مسلم بھائی کی عزت کا دفاع کرتے ہوئے غیبت کرنے والے کو اس سے منع کرنا چاہیے۔
⓬ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی اللہ کا ڈر ہی ہے جو ان کاموں سے آدمی کو باز رکھ سکتا ہے جن سے ان آیات میں منع فرمایا گیا ہے، وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہیں۔ اس لیے اللہ سے ڈرو اور ان تمام گناہوں سے توبہ کرو، یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔
⓭ نووی نے ”الاذکار“ میں غیبت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”خواہ وہ چیز اس کے بدن سے تعلق رکھتی ہو یا دین سے یا دنیا سے، اس کی شکل و صورت کے بارے میں ہو یا اخلاق کے، اس کے مال، اولاد، والدین اور بیوی بچوں کے متعلق ہو یا اس کے لباس، چال ڈھال، بول چال، خندہ پیشانی یا ترش روئی کے متعلق، غرض اس سے تعلق رکھنے والی کسی بھی چیز کا ذکر جو اسے ناپسند ہو غیبت ہے۔ پھر خواہ یہ ذکر زبان سے کیا جائے یا تحریر سے، اشارے سے ہو یا کنائے سے، تمام صورتوں میں غیبت ہے۔ اشارہ خواہ آنکھ سے ہو یا ہاتھ سے، سر کے ساتھ ہو یا جسم کے کسی حصے کے ساتھ، غیبت میں شامل ہے۔“
بدن کی غیبت مثلاً اس کی تنقیص کے لیے اندھا، لنگڑا، کانا، گنجا، ٹھگنا، لمبوترا، کالا، کبڑا یا اس قسم کا کوئی اور لفظ استعمال کرے۔ دین کے بارے میں غیبت یہ ہے کہ اسے فاسق، چور، خائن، ظالم، نمازمیں سست، پلید، ماں باپ کا نافرمان یا بدمعاش وغیرہ کہے۔ دنیا کے بارے میں مثلاً اسے نکما، باتونی، پیٹو وغیرہ کہے۔ اخلاق کے متعلق مثلاً اسے بدخلق، متکبر، ریا کار، جلد باز، بزدل یا سٹریل قرار دے۔ اس کے والد کے متعلق مثلاً جولاہا، موچی، کالا، حبشی وغیرہ کہہ کر اس کی تنقیص کرے۔ پھر زبان، ہاتھ اور جسم کے ساتھ غیبت کی ایک صورت اس کی نقل اتارنا ہے، مثلاً اس کے اٹک اٹک کر بات کرنے یا ناک میں بولنے کی، لنگڑا کر چلنے کی، کبڑا ہونے کی یا چھوٹے قد کا ہونے کی نقل اتارے۔ غرض قاعدہ یہ ہے کہ کوئی بھی حرکت جس کا مقصد کسی مسلم بھائی کی تنقیص ہو غیبت ہے اور حرام ہے۔
⓮ بعض اوقات کسی مسلم بھائی کی غیبت جائز بھی ہو جاتی ہے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کا عیب بیان کیا جا سکتا ہے۔ قاعدہ اس کا یہ ہے کہ جب دین کا کوئی ضروری مقصد اس کے بغیر حاصل نہ ہو سکتا ہو تو اس وقت یہ جائز ہے۔ نووی نے اور ان سے پہلے غزالی نے غیبت کے جواز کے چھ مواقع گنوائے ہیں: (1) ظلم پر فریاد، یعنی مظلوم کو حق ہے کہ ظالم کے خلاف بات کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ» [النساء: ۱۴۸] ”اللہ بری بات کے ساتھ آواز بلند کرنا پسند نہیں کرتا سوائے اس کے جس پر ظلم کیا جائے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً] [بخاري، الاستقراض، باب استقراض الإبل: ۲۳۹۰] ”یقینا حق والے کو بات کرنے کی گنجائش ہے۔“ بہتر یہ ہے کہ وہ بادشاہ یا قاضی یا کسی ایسے شخص کے پاس اپنی مظلومیت کا تذکرہ کرے جو اس کی مدد کر سکتا ہو۔ (2) کسی گناہ یا برے کام سے روکنے کے لیے ایسے لوگوں کو اطلاع دینا جو اس کے ساتھ مل کر یا خود اسے روک سکیں۔ اگر مقصد صرف اس کام کرنے والے کی تذلیل ہو تو یہ جائز نہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی آیات و احادیث اس کی دلیل ہیں۔ (3) فتویٰ لینے کے لیے مفتی کے سامنے کسی کا نقص ذکر کرے تو یہ جائز ہے، مثلاً ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنھا نے اپنے خاوند ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا: ”ابو سفیان بخیل آدمی ہے (مجھے اتنا خرچ نہیں دیتا جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو) تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں اگر میں اس کے علم کے بغیر اس کے مال میں سے کچھ لے لوں؟“ آپ نے فرمایا: [خُذِيْ أَنْتِ وَ بَنُوْكِ مَا يَكْفِيْكِ بِالْمَعْرُوْفِ] [بخاري، البیوع، باب من أجری أمر الأمصار…: ۲۲۱۱،۵۳۶۴] ”تمھارے اور تمھارے بچوں کے لیے جتنا کافی ہو معروف طریقے کے ساتھ لے لیا کرو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند رضی اللہ عنھا کو اپنے خاوند کا عیب بیان کرنے پر منع نہیں فرمایا، کیونکہ اس کا مقصد مسئلہ پوچھنا تھا۔
(4) مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے اور انھیں شر سے بچانے کے لیے کسی کی برائی سے آگاہ کرے تو یہ جائز ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے فرمایا: [اِئْذَنُوْا لَهُ، بِئْسَ أَخُو الْعَشِيْرَةِ] [بخاري، الأدب، باب ما یجوز من اغتیاب …: ۶۰۵۴] ”اسے اجازت دے دو، یہ خاندان کا برا آدمی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنھا کو اس شخص کی برائی سے آگاہ کرنا ضروری خیال کیا۔ مسلمانوں کی خیر خواہی میں اور انھیں شر سے بچانے میں بہت سی چیزیں آ جاتی ہیں، مثلاً حدیث کے راویوں پر اور مقدمے کے گواہوں پر جرح جائز بلکہ واجب ہے اور اس پر امت کا اتفاق ہے۔ دوسرے جب کوئی شخص کسی کے ساتھ رشتہ کرنے یا امانت رکھنے یا مشارکت کرنے یا ہمسائیگی اختیار کرنے، کاروبار یا کوئی اور معاملہ کرنے کے متعلق مشورہ پوچھے تو صحیح صحیح بات بتا دے۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا نے معاویہ اور ابوجہم رضی اللہ عنھما میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَمَّا أَبُوْ جَهْمٍ فَلاَ يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوْكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِيْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ] [مسلم، الطلاق، المطلقۃ البائن لا نفقۃ لھا: ۱۴۸۰] ”ابوجہم تو عورتوں کو بہت مارتا ہے اور معاویہ کنگال آدمی ہے، اس کے پاس کچھ نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ اور صحیح مشورہ دینا مومن کا حق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَ إِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ] [مسلم، السلام، باب من حق المسلم للمسلم ردّ السلام: 2162/5] ”اور جب وہ تم سے مشورہ مانگے تو اس کی خیر خواہی کر۔“
(5) جو شخص کھلم کھلا اللہ کی نافرمانی کرتا ہو، لوگوں کو لوٹتا ہو، علانیہ شراب پیتا ہو تو اس کے ان گناہوں کا ذکر جائز ہے جن کو چھپانے کی وہ ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا اور جن کا ذکر کیا جائے تو اسے برا محسوس ہی نہیں ہوتا، کیونکہ غیبت ان چیزوں کا ذکر ہے جسے وہ ناپسند کرے۔ (6) کوئی شخص کسی لقب کے ساتھ مشہور ہو، اس کے بغیر اس کی پہچان نہ ہوتی ہو اور وہ اسے برا بھی نہ جانتا ہو تو اسے اس لقب سے ذکر کرنا جائز ہے، خواہ اس میں اس کا کوئی نقص ہی بیان ہو رہا ہو، مثلاً اعمش (جس کی آنکھیں چندھیائی ہوئی ہوں)، اعرج (لنگڑا)، اصمّ (بہرا) اور اعمیٰ (نابینا) وغیرہ۔ شرط یہ ہے کہ مقصد اس کی تنقیص نہ ہو۔
⓯ قرآن مجید کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا» کہ مسلمان ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں۔ اسی طرح {”ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ“} سے بھی ظاہر ہے کہ صرف مسلمان کی غیبت ناجائز ہے، کیونکہ کافر ہمارا دینی بھائی نہیں، اس لیے اس کی غیبت میں کوئی گناہ نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور یہ تو واضح بات ہے کہ بہتان غیبت سے بھی بڑا جرم ہے اور غیبت خواہ کسی زندہ انسان کی، اس کی پیٹھ پیچھے کی جائے یا کسی فوت شدہ انسان کی، جرم کی نوعیت کے لحاظ سے اس میں کوئی فرق نہیں۔ غیبت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا۔ کیونکہ غیبت کرنے والا اس کی عزت پر حملہ آور ہوتا ہے۔ جیسے اسے کاٹ کاٹ کر کھا رہا ہو اور مردہ اس لئے فرمایا کہ جس کی غیبت کی جا رہی ہے وہ پاس موجود نہیں ہوتا۔
1۔ مظلوم حاکم کے سامنے ظالم کی غیبت بیان کر کے ظلم کی فریاد کر سکتا ہے۔ اور اس کی بنیاد سورۃ النساء کی آیت نمبر 148 ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر عدالت کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔ مظلوم کو عام لوگوں کے سامنے بلا ضرورت اور تحقیر کی خاطر بھی ظالم کی غیبت کرنا یا اپنے ظلم کی داستان بیان کرنا جائز نہیں۔ پھر جس طرح ایک مظلوم عدالت کے سامنے ظالم کی غیبت بیان کر سکتا ہے۔ اسی طرح استفتاء کی صورت میں مفتی کے سامنے بھی بیان کر سکتا ہے۔
2۔ کسی شخص کے شر سے بچنے کے لئے اپنے مومن بھائی کو اس کے عیب و ثواب سے مطلع کر دینا تاکہ وہ اس کے شر یا اپنے نقصان سے بچ سکے۔ مثلاً کوئی شخص رشتہ کرنا چاہتا ہو، یا کسی سے کاروباری اشتراک کرنا چاہتا ہو یا کسی کے ہمسایہ میں مکان خریدنا چاہتا ہو یا اسے قرضہ دینا یا امانت سونپنا چاہتا ہو اور وہ اپنے کسی دوسرے بھائی سے مشورہ لے۔ تو مشورہ دینے والے کو نہایت دیانتداری سے متعلقہ شخص کے عیب و ثواب بیان کر دینے چاہئیں تاکہ وہ کسی دھوکہ میں نہ رہے اور اس کی بنیاد یہ حدیث ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ میں نے انصار کی ایک عورت سے عقد کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے اس کو دیکھا بھی ہے؟“ اس نے کہا، نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جا اور اسے دیکھ لے اس لئے کہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ (عیب) ہوتا ہے“ [مسلم۔ کتاب النکاح۔ باب ندب من اراد نکاح امراۃً]
3۔ محدثین کا قانون جرح و تعدیل۔ جس پر تمام ذخیرہ حدیث کی جانچ پرکھ کا انحصار ہے اور جس کے ذریعہ عامۃ المسلمین کو عام گمراہی سے بچانا مقصود ہے۔ اس صورت میں راویوں کے عیب و ثواب بیان کرنا جائز ہی نہیں بلکہ بالاتفاق واجب ہے۔ اور اس کی بنیاد بھی وہی حدیث ہے جو اوپر بیان ہوئی نیز اس سورۃ کی آیت نمبر 6 بھی۔ یعنی فاسق کی خبر کی تحقیق ضروری ہے۔
4۔ ایسے لوگوں کے خلاف علی الاعلان آواز بلند کرنا اور ان کی برائیوں پر تنقید کرنا جو فسق و فجور پھیلا رہے ہیں یا بدعات اور گمراہیوں کی اشاعت کر رہے ہوں۔ یا خلق خدا کو بے دینی اور ظلم و جور کے فتنوں میں مبتلا کر رہے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تیرے مسلمان بھائی کی زبان سے جو کلمہ نکلا ہو جہاں تک تجھ سے ہو سکے اسے بھلائی اور اچھائی پر محمول کر۔“
ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کعبہ کرتے ہوئے فرمایا: ”تو کتنا پاک گھر ہے؟، تو کیسی بڑی حرمت والا ہے؟، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ مومن کی حرمت اس کے مال اور اس کی جان کی حرمت اور اس کے ساتھ نیک گمان کرنے کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت سے بہت بڑی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3932،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث صرف ابن ماجہ میں ہی ہے۔
مسلم وغیرہ میں ہے { ایک دوسرے سے روٹھ کر نہ بیٹھ جایا کرو، ایک دوسرے سے میل جول ترک نہ کر لیا کرو، ایک دوسرے کا حسد بغض نہ کیا کرو بلکہ سب مل کر اللہ کے بندے آپس میں دوسرے کے بھائی بند ہو کر زندگی گزارو۔ کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال اور میل جول چھوڑ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6564]
طبرانی میں ہے کہ { تین خصلتیں میری امت میں رہ جائیں گی فال لینا، حسد کرنا اور بدگمانی کرنا، ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر ان کا تدارک کیا ہے؟ فرمایا: ”جب حسد کرے تو استغفار کر لے، جب گمان پیدا ہو تو اسے چھوڑ دے اور یقین نہ کر اور جب شگون لے خواہ نیک نکلے، خواہ بد اپنے کام سے نہ رک اسے پورا کر“ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:3727:ضعیف]
ابوداؤد میں ہے کہ { ایک شخص کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور کہا گیا کہ اس کی ڈاڑھی سے شراب کے قطرے گر رہے ہیں آپ نے فرمایا: ”ہمیں بھید ٹٹولنے سے منع فرمایا گیا ہے اگر ہمارے سامنے کوئی چیز ظاہر ہو گئی تو ہم اس پر پکڑ سکتے ہیں }۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:4890،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے { سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اگر تو لوگوں کے باطن اور ان کے راز ٹٹولنے کے درپے ہو گا تو، تو انہیں بگاڑ دے گا“، یا فرمایا ”ممکن ہے تو انہیں خراب کر دے۔“ ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس حدیث سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت فائدہ پہنچایا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4888،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا کہ تجسس نہ کرو یعنی برائیاں معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو تاک جھانک نہ کیا کرو۔ اسی سے جاسوس ماخذ ہے «تجسس» کا اطلاق عموماً برائی پر ہوتا ہے اور «تحسس» کا اطلاق بھلائی ڈھونڈنے پر۔ جیسے یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں سے فرماتے ہیں «يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّـهِ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّـهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [12-یوسف:87]، بچو تم جاؤ اور یوسف کو ڈھونڈو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، اور کبھی کبھی ان دونوں کا استعمال شر اور برائی میں بھی ہوتا ہے۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے { نہ «تجسس» کرو، نہ «تحسس» کرو، نہ حسد و بغض کرو، نہ منہ موڑو بلکہ سب مل کر اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ }۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تجسس» کہتے ہیں کسی چیز میں کرید کرنے کو اور «تحسس» کہتے ہیں ان لوگوں کی سرگوشی پر کان لگانے کو جو کسی کو اپنی باتیں سنانا نہ چاہتے ہوں۔ اور «تدابر» کہتے ہیں ایک دوسرے سے رک کر آزردہ ہو کر قطع تعلقات کرنے کو۔
پھر غیبت سے منع فرماتا ہے، ابوداؤد میں ہے { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! غیبت کیا ہے؟ فرمایا: ”یہ کہ تو اپنے مسلمان بھائی کی کسی ایسی بات کا ذکر کرے جو اسے بری معلوم ہو“، تو کہا گیا اگر وہ برائی اس میں ہو جب بھی؟ فرمایا: ”ہاں! غیبت تو یہی ہے ورنہ بہتان اور تہمت ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے { ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ صفیہ تو ایسی ایسی ہیں، مسدد راوی کہتے ہیں یعنی کم قامت، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ایسی بات کہی ہے کہ سمندر کے پانی میں اگر ملا دی جائے تو اسے بھی بگاڑ دے“ }۔
{ اور ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص کی کچھ ایسی ہی باتیں بیان کی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے پسند نہیں کرتا مجھے چاہے ایسا کرنے میں کوئی بہت بڑا نفع بھی مل جائے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4875،قال الشيخ الألباني:صحیح]
الغرض غیبت حرام ہے اور اس کی حرمت پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ لیکن ہاں شرعی مصلحت کی بنا پر کسی کی ایسی بات کا ذکر کرنا غیبت میں داخل نہیں جیسے جرح و تعدیل نصیحت و خیر خواہی جیسے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فاجر شخص کی نسبت فرمایا تھا: ”یہ بہت برا آدمی ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:6054]
اور جیسے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”معاویہ مفلس شخص ہے اور ابوالجہم بڑا مارنے پیٹنے والا آدمی ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1480] یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جبکہ ان دونوں بزرگوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نکاح کا مانگا ڈالا تھا اور بھی جو باتیں اس طرح کی ہوں ان کی تو اجازت ہے باقی اور غیبت حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔
اسی لیے یہاں فرمایا کہ ’ جس طرح تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے گھن کرتے ہو اس سے بہت زیادہ نفرت تمہیں غیبت سے کرنی چاہیئے ‘۔
جیسے حدیث میں ہے { اپنے دئیے ہوئے ہبہ کو واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے اور فرمایا بری مثال ہمارے لیے لائق نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2622]
حجۃ الوداع کے خطبے میں ہے { تمہارے خون مال آبرو تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسی حرمت تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:67]
اور حدیث میں ہے { اے وہ لوگو! جن کی زبانیں تو ایمان لا چکیں ہیں لیکن دل ایماندار نہیں ہوئے، تم مسلمانوں کی غیبتیں کرنا چھوڑ دو اور ان کے عیبوں کی کرید نہ کیا کرو، یاد رکھو اگر تم نے ان کے عیب ٹٹولے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پوشیدہ خرابیوں کو ظاہر کر دے گا یہاں تک کہ تم اپنے گھرانے والوں میں بھی بدنام اور رسوا ہو جاؤ گے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4880،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ { اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ سنایا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ نشین عورتوں کے کانوں میں بھی اپنی آواز پہنچائی اور اس خطبہ میں اوپر والی حدیث بیان فرمائی }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1675:ضعیف]
{ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کعبہ کی طرف دیکھا اور فرمایا ”تیری حرمت و عظمت کا کیا ہی کہنا ہے لیکن تجھ سے بھی بہت زیادہ حرمت ایک ایماندار شخص کی اللہ کے نزدیک ہے }۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:5763،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ابوداؤد میں ہے { جس نے کسی مسلمان کی برائی کر کے ایک نوالہ حاصل کیا اسے جہنم کی اتنی ہی غذا کھلائی جائے گی اسی طرح جس نے مسلمانوں کی برائی کرنے پر پوشاک حاصل کی اسے اسی جیسی پوشاک جہنم کی پہنائی جائے گی اور جو شخص کسی دوسرے کی بڑائی دکھانے سنانے کو کھڑا ہوا اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دکھاوے سناوے کے مقام میں کھڑا کر دے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4881،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ { لوگوں کے سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معراج والی رات میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا جن میں مرد و عورت دونوں تھے کہ فرشتے ان کے پہلوؤں سے گوشت کاٹتے ہیں اور پھر انہیں اس کے کھانے پر مجبور کر رہے ہیں اور وہ اسے چبا رہے ہیں، میرے سوال پر کہا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو طعنہ زن، غیبت گو، چغل خور تھے، انہیں جبراً آج خود ان کا گوشت کھلایا جا رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:308/22:ضعیف] یہ حدیث بہت مطول ہے اور ہم نے پوری حدیث سورۃ سبحٰن کی تفسیر میں بیان بھی کر دی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
مسند ابوداؤد طیالسی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزے کا حکم دیا اور فرمایا: ”جب تک میں نہ کہوں کوئی افطار نہ کرے“، شام کو لوگ آنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دیتے اور وہ افطار کرتے، اتنے میں ایک صاحب آئے اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول! دو عورتوں نے روزہ رکھا تھا جو آپ ہی کے متعلقین میں سے ہیں انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئیے کہ روزہ کھول لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا اس نے دوبارہ عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ روزے سے نہیں ہیں، کیا وہ بھی روزے دار ہو سکتا ہے؟ جو انسانی گوشت کھائے، جاؤ انہیں کہو کہ اگر وہ روزے سے ہیں تو قے کریں۔“ چنانچہ انہوں نے قے کی جس میں خون جمے کے لوتھڑے نکلے اس نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اسی حالت میں مر جاتیں تو آگ کا لقمہ بنتیں“ }۔ ۱؎ [مسند طیالسی:2107:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے اور متن بھی غریب ہے۔
{ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسے دیکھو اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی لیکن اس نے اپنے تئیں نہ چھوڑا یہاں تک کہ کتے کی طرح پتھراؤ کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سنتے ہوئے چلتے رہے تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ راستے میں ایک مردہ گدھا پڑا ہوا ہے فرمایا: ”فلاں فلاں شخص کہاں ہیں؟ وہ سواری سے اتریں اور اس گدھے کا گوشت کھائیں“، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کو بخشے کیا یہ کھانے کے قابل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی جو تم نے اپنے بھائی کی بدی بیان کی تھی وہ اس سے بھی زیادہ بری چیز تھی۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ شخص جسے تم نے برا کہا تھا وہ تو اب اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے“ }، اس کی اسناد صحیح ہے۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:7164:ضعیف]
مسند احمد میں ہے { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نہایت سڑی ہوئی مرداری بو والی ہوا چلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو، یہ بو کس چیز کی ہے؟ یہ بدبو ان کی ہے جو لوگوں کی غیبت کرتے ہیں“ }۔
اور روایت میں ہے کہ { منافقوں کے ایک گروہ نے مسلمانوں کی غیبت کی ہے یہ بدبودار ہوا وہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:351/3:قال الشيخ الألباني:صحیح]
مختار ابوضیاء میں تقریبًا ایسا ہی واقعہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے اس خادم کا گوشت تمہارے دانتوں میں اٹکا ہوا دیکھ رہا ہوں“، اور ان کا اپنے غلام سے جبکہ وہ سویا ہوا تھا اور ان کا کھانا تیار نہیں کیا تھا صرف اتنا ہی کہنا مروی ہے کہ ”یہ تو بڑا سونے والا ہے“، ان دونوں بزرگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ ہمارے لیے استغفار کریں }۔ ۱؎ [المختارۃ للمقدسی:71/5:حسن]
ابو یعلیٰ میں ہے { جس نے دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھایا (یعنی اس کی غیبت کی) قیامت کے دن اس کے سامنے وہ گوشت لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جیسے اس کی زندگی میں تو نے اس کا گوشت کھایا تھا اب اس مردے کا گوشت بھی کھا۔ اب یہ چیخے گا چلائے گا ہائے وائے کرے گا اور اسے جبراً وہ مردہ گوشت کھانا پڑے گا۔ } یہ روایت بہت غریب ہے۔
جمہور علماء کرام فرماتے ہیں غیبت گو کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے اور پھر سے اس گناہ کو نہ کرے پہلے جو کر چکا ہے اس پر نادم ہونا بھی شرط ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے اور جس کی غیبت کی ہے اس سے معافی حاصل کر لے۔
بعض کہتے ہیں یہ بھی شرط نہیں اس لیے کہ ممکن ہے اسے خبر ہی نہ ہو اور معافی مانگنے کو جب جائے گا تو اسے اور رنج ہو گا۔ پس اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جن مجلسوں میں اس کی برائی بیان کی تھی ان میں اب اس کی سچی صفائی بیان کرے اور اس برائی کو اپنی طاقت کے مطابق دفع کر دے تو اولاً بدلہ ہو جائے گا۔
مسند احمد میں ہے { جو شخص اس وقت کسی مومن کی حمایت کرے جبکہ کوئی منافق اس کی مذمت بیان کر رہا ہو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو مقرر کر دیتا ہے جو قیامت والے دن اس کے گوشت کو نار جہنم سے بچائے گا اور جو شخص کسی مومن پر کوئی ایسی بات کہے گا جس سے اس کا ارادہ اسے مطعون کرنے کا ہو اسے اللہ تعالیٰ پل صراط پر روک لے گا یہاں تک کہ بدلا ہو جائے }۔ یہ حدیث ابوداؤد میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4883،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابوداؤد کی ایک اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی مسلمان کی بےعزتی ایسی جگہ میں کرے جہاں اس کی آبرو ریزی اور توہین ہوتی ہو تو اسے بھی اللہ تعالیٰ ایسی جگہ رسوا کرے گا جہاں وہ اپنی مدد کا طالب ہو اور جو مسلمان ایسی جگہ اپنے بھائی کی حمایت کرے اللہ تعالیٰ بھی ایسی جگہ اس کی نصرت کرے گا }۔ [سنن ابوداود:4884،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
نهى تعالى عن كثيرٍ من الظَّنِّ السيِّئِ بالمؤمنين، {إنَّ بعضَ الظَّنِّ إثمٌ}: وذلك كالظَّنِّ الخالي من الحقيقة والقرينة، وكظنِّ السَّوْءِ الذي يقترن به كثيرٌ من الأقوال والأفعال المحرَّمة؛ فإنَّ بقاءَ ظنِّ السَّوْءِ بالقلب لا يقتصر صاحبه على مجرَّد ذلك، بل لا يزال به حتى يقول ما لا ينبغي ويفعل ما لا ينبغي، وفي ذلك أيضاً إساءةُ الظنِّ بالمسلم وبغضُهُ وعداوتُهُ المأمور بخلافها منه، {ولا تَجَسَّسوا}؛ أي: لا تفتِّشوا عن عورات المسلمين، ولا تَتَّبعوها، ودَعُوا المسلم على حاله، واستعملوا التغافُل عن زلاَّته، التي إذا فُتِّشَتْ؛ ظهرَ منها ما لا ينبغي، {ولا يَغْتَب بعضُكُم بعضاً}: والغيبة كما قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «ذِكْرُكَ أخاك بما يكرَهُ، ولو كان فيه». ثم ذَكَرَ مثلاً منفراً عن الغيبة، فقال: {أيحبُّ أحدُكُم أن يأكُلَ لحمَ أخيه مَيْتاً فكَرِهْتُموه}: شبَّه أكلَ لحمِهِ ميتاً المكروه للنفوس غايةَ الكراهةِ باغتيابه؛ فكما أنَّكم تكرهون أكل لحمه، خصوصاً إذا كان ميتاً فاقد الروح؛ فكذلك فَلْتَكْرهوا غيبته وأكل لحمه حيًّا، {واتَّقوا اللهَ إنَّ اللهَ توابٌ رحيمٌ}: والتوَّابُ: الذي يأذن بتوبة عبده، فيوفِّقه لها، ثم يتوبُ عليه بقبول توبته، رحيمٌ بعباده؛ حيث دعاهم إلى ما ينفعهم، وقبل منهم التوبة. وفي هذه الآية دليلٌ على التَّحذير الشديد من الغِيبة، وأنَّها من الكبائر؛ لأنَّ الله شبَّهها بأكل لحم الميت، وذلك من الكبائر.