تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ: ” شُعُوْبًا “ ”شَعْبٌ“} (شین کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، بہت بڑا قبیلہ، جیسے ربیعہ، مضر، اوس اور خزرج وغیرہ۔ یہ ان چھ طبقوں میں سب سے پہلا طبقہ ہے جن میں عرب تقسیم ہوتے ہیں۔ وہ چھ طبقے یہ ہیں: (1) شعب (2) قبیلہ (3) عمارہ (4) بطن (5) فخذ (6) فصیلہ۔ شعب میں کئی قبائل ہوتے ہیں، قبیلہ میں کئی عمائر، عمارہ میں کئی بطون، بطن میں کئی افخاذ، اور فخذ میں کئی فصائل ہوتے ہیں۔ چنانچہ عرب میں خزیمہ شعب، کنانہ قبیلہ، قریش عمارہ، قصی بطن، ہاشم فخذ اور عباس فصیلہ ہیں۔ بعض اوقات ان میں سے ایک لفظ دوسرے کی جگہ بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔ شعب کا معنی شاخ ہے، اسے شعب اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان سے قبائل کی شاخیں نکلتی ہیں۔ قرآن مجید میں ان چھ طبقوں میں سے تین کا ذکر آیا ہے، دو کا اس آیت میں اور ایک کا سورئہ معارج میں، فرمایا: «وَ فَصِيْلَتِهِ الَّتِيْ تُـْٔوِيْهِ» [المعارج: ۱۳] ”اور اپنے خاندان کو جو اسے جگہ دیا کرتا تھا۔“ (قرطبی و شنقیطی)
➌ { لِتَعَارَفُوْا:} یعنی قوموں، قبیلوں یا خاندانوں میں تقسیم کا مطلب کسی کی برتری نہیں، بلکہ ہم نے یہ تقسیم تمھاری ایک دوسرے سے پہچان کے لیے بنائی ہے۔ مثلاً عبد اللہ نام کے کئی آدمی ہیں، ان میں سے ایک کی تعیین قریشی، اس کے بعد ہاشمی اور اس کے بعد عباسی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ اس پہچان ہی کے ذریعے سے آدمی اپنی رشتہ داری سے آگاہ ہوتا ہے اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتا اور صلہ رحمی کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَعَلَّمُوْا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُوْنَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ، مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ، مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ] [ترمذي، البر والصلۃ، باب ما جاء في تعلیم النسب: ۱۹۷۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ، وقال الألباني صحیح] ”اپنے نسب سیکھو، جن کے ذریعے سے تم اپنی رشتہ داریاں ملاؤ، کیونکہ رشتہ داری کو ملانا رشتہ داروں میں محبت، مال میں ثروت اور زندگی میں اضافے کا باعث ہے۔“
➍ { اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ، مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَ فَاجِرٌ شَقِيٌّ، أَنْتُمْ بَنُوْ آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُوْنُنَّ أَهْوَنَ عَلَی اللّٰهِ مِنَ الْجِعْلاَنِ الَّتِيْ تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتْنَ] [أبو داوٗد، الأدب، باب في التفاخر بالأحساب: ۵۱۱۶، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و قال الألباني صحیح] ”اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور اس کے آبا و اجداد پر فخر کو ختم کر دیا ہے۔ (آدمی دو ہی قسم کے ہیں) متقی مومن ہے یا بدبخت فاجر۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے۔ کچھ آدمی ایسے لوگوں پر اپنا فخر ترک کر دیں گے جو جہنم کے کوئلوں میں سے محض ایک کوئلہ ہیں، یا پھر وہ (فخر کرنے والے) اللہ تعالیٰ کے سامنے پاخانے کے کیڑوں سے بھی زیادہ ذلیل ہوں گے، جو گندگی کو اپنی ناک کے ساتھ دھکیلتے رہتے ہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: [أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ؟] ”لوگوں میں سب سے عزت والا کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاهُمْ] ”ان میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔“ انھوں نے کہا: ”ہم آپ سے اس کے متعلق نہیں پوچھ رہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوْسُفُ نَبِيُّ اللّٰهِ ابْنُ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ خَلِيْلِ اللّٰهِ] ”تو سب سے زیادہ عزت والے یوسف علیہ السلام ہیں جو اللہ کے نبی ہیں، نبی کے بیٹے ہیں، دادا بھی نبی ہے اور پردادا اللہ کا خلیل ہے۔“ انھوں نے کہا: ”ہم آپ سے اس کے متعلق بھی نہیں پوچھ رہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُوْنِّيْ؟] ”تو پھر تم مجھ سے عرب کے خاندانوں کے متعلق پوچھ رہے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلاَمِ إِذَا فَقِهُوْا] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «لقد کان في یوسف و إخوتہ…» : ۴۶۸۹] ”تو جاہلیت میں جو تم میں سب سے بہتر تھے وہی اسلام میں تم سب سے بہتر ہیں، جب وہ (دین کی) سمجھ حاصل کر لیں۔“ ابونضرہ کہتے ہیں کہ مجھے اس صحابی نے بیان کیا جس نے ایام تشریق کے درمیان والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَلاَ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَ إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلٰی أَعْجَمِيٍّ، وَلاَ لِعَجَمِيٍّ عَلٰی عَرَبِيٍّ، وَلاَ لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلاَ أَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ، إِلاَّ بِالتَّقْوٰی] [مسند أحمد: 411/5، ح: ۲۳۴۸۹، قال شعیب الأرنؤوط إسنادہ صحیح] ”اے لوگو! سن لو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ ایک ہے۔ سن لو! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی سرخ کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی سرخ پر، مگر تقویٰ کی بنا پر۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِكُمْ وَ أَمْوَالِكُمْ وَ لٰكِنْ يَنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم …: ۳۴ /۲۵۶۴] ”اللہ تعالیٰ تمھاری صورتوں اور تمھارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور تمھارے عملوں کو دیکھتا ہے۔“ عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ نے ایک لمبی حدیث میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَ إِنَّ اللّٰهَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ وَلَا يَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب الصفات التي یعرف بہا…: ۶۴؍۲۸۶۵] ”اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپس میں تواضع اختیار کرو، حتیٰ کہ نہ کوئی کسی پر فخر کرے اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔“
➎ اہل علم نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نکاح میں کفو (جوڑ) ہونے کے لیے اسلام کے علاوہ کوئی شرط معتبر نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی کی بیٹی زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ اس لیے یہ جو مشہور ہے کہ سید لڑکی کا نکاح غیر سید سے نہیں ہو سکتا، درست نہیں۔ ویسے فاطمہ رضی اللہ عنھا کی اولاد کو لفظ ”سید“ کے ساتھ خاص کرنا بھی محض رواج ہے۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ہونے کے باوجود ابولہب جہنمی ہے اور غلام ہونے کے باوجود بلال رضی اللہ عنہ کے جوتوں کی آواز جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے (بطور خادم) سنائی دے رہی ہے اور جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: [أَبُوْ بَكْرٍ سَيِّدُنَا، وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا يَعْنِيْ بِلاَلاً] [بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب بلال بن رباح …: ۳۷۵۴] ”ابو بکر ہمارا سید ہے اور اس نے ہمارے سید بلال کو آزاد کیا۔“
➏ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس کے دل میں تقویٰ زیادہ ہے، جس کی وجہ سے اسے سب سے زیادہ معزز ہونے کا شرف حاصل ہے۔ تو جب کسی کو دلوں کا حال معلوم ہی نہیں تو کوئی کسی پر فخر کیسے کر سکتا ہے اور کسی کو حقیر کیوں جانتا ہے!؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«شعوب» قبائل سے عام ہے مثال کے طور پر عرب تو «شعوب» میں داخل ہے پھر قریش غیر قریش پھر ان کی تقسیم میں یہ سب قبائل داخل ہے۔
بعض کہتے ہیں «شعوب» سے مراد عجمی لوگ اور قبائل سے مراد عرب جماعتیں۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کو «اسباط» کہا گیا ہے میں نے ان تمام باتوں کو ایک علیحدہ مقدمہ میں لکھ دیا ہے جسے میں نے ابوعمر بن عبدالبر کی کتاب «الاشباہ» اور کتاب «القصد والامم فی معرفۃ انساب العرب والعجم» سے جمع کیا ہے۔
مقصد اس آیت مبارکہ کا یہ ہے کہ آدم علیہ السلام جو مٹی سے پیدا ہوئے تھے ان کی طرف سے نسبت میں تو کل جہان کے آدمی ہم مرتبہ ہیں اب جو کچھ فضیلت جس کسی کو حاصل ہو گی وہ امر دینی، اطاعت اللہ اور اتباع نبوی کی وجہ سے ہو گی۔ یہی راز ہے جو اس آیت کو غیبت کی ممانعت اور ایک دوسرے کی توہین و تذلیل سے روکنے کے بعد وارد کی کہ سب لوگ اپنی پیدائشی نسبت کے لحاظ سے بالکل یکساں ہیں، کنبے قبیلے برادریاں اور جماعتیں صرف پہچان کے لیے ہیں تاکہ جتھا بندی اور ہمدردی قائم رہے۔ فلاں بن فلاں قبیلے والا کہا جا سکے اور اس طرح ایک دوسرے کی پہچان آسان ہو جائے ورنہ بشریت کے اعتبار سے سب قومیں یکساں ہیں۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قبیلہ حمیر اپنے حلیفوں کی طرف منسوب ہوتا تھا اور حجازی عرب اپنے قبیلوں کی طرف اپنی نسبت کرتے تھے۔
پھر فرمایا ’ حسب نسب اللہ کے ہاں نہیں چلتا وہاں تو فضیلت، تقویٰ اور پرہیزگاری سے ملتی ہے ‘۔
صحیح بخاری میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔“ لوگوں نے کہا: ہم یہ عام بات نہیں پوچھتے۔ فرمایا: ”پھر سب سے زیادہ بزرگ یوسف علیہ السلام ہیں جو خود نبی تھے نبی ذادے تھے دادا بھی نبی تھے پردادا تو خلیل اللہ علیہ السلام تھے“، انہوں نے کہا: ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ فرمایا: ”پھر عرب کے بارے میں پوچھتے ہو؟ سنو! ان کے جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں ممتاز تھے وہی اب اسلام میں بھی پسندیدہ ہیں جب کہ وہ علم دین کی سمجھ حاصل کر لیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2378]
صحیح مسلم میں ہے { اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2564]
طبرانی میں ہے { مسلمان سب آپس میں بھائی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے ساتھ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:3547:ضعیف]
مسند بزار میں ہے { تم سب اولاد آدم ہو اور خود آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں، لوگو! اپنے باپ دادوں کے نام پر فخر کرنے سے باز آؤ ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ریت کے تودوں اور آبی پرندوں سے بھی زیادہ ہلکے ہو جاؤ گے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2043:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہو کر طواف کیا اور ارکان کو آپ اپنی چھڑی سے چھو لیتے تھے۔ پھر چونکہ مسجد میں اس کے بٹھانے کو جگہ نہ ملی تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھوں ہاتھ اتارا اور اونٹنی کو بطن مسیل میں لے جا کر بٹھایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: ”لوگو اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے اسباب اور جاہلیت کے باپ دادوں پر فخر کرنے کی رسم اب دور کر دی ہے پس انسان دو ہی قسم کے ہیں یا تو نیک پرہیزگار جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہیں یا بدکار غیر متقی جو اللہ کی نگاہوں میں ذلیل و خوار ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا: ”میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے استغفار کرتا ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند عبد بن حمید:793:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ { تمہارے نسب نامے دراصل کوئی کام دینے والے نہیں تم سب بالکل برابر کے آدم کے لڑکے ہو کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہاں فضیلت دین و تقویٰ سے ہے، انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ وہ بدگو، بخیل، اور فحش کلام ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:145/4:ضعیف]
ابن جریر کی اس روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہارے حسب نسب کو قیامت کے دن نہ پوچھے گا، تم سب میں سے زیادہ بزرگ اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں }۔
مسند احمد میں ہے کہ { نبی علیہ السلام منبر پر تھے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ مہمان نواز، سب سے زیادہ پرہیزگار، سب سے زیادہ اچھی بات کا حکم دینے والا، سب سے زیادہ بری بات سے روکنے والا، سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/6:ضعیف]
اللہ تمہیں جانتا ہے اور تمہارے کاموں سے بھی خبردار ہے، ہدایت کے لائق جو ہیں انہیں راہ راست دکھاتا ہے اور جو اس لائق نہیں وہ بے راہ ہو رہے ہیں۔ رحم اور عذاب اس کی مشیت پر موقوف ہیں، فضیلت اس کے ہاتھ ہے جسے چاہے جس پر چاہے بزرگی عطا فرمائے یہ تمام امور اس کے علم اور اس کی خبر پر مبنی ہیں۔
اس آیت کریمہ اور ان احادیث شریفہ سے استدلال کر کے علماء نے فرمایا ہے کہ نکاح میں قومیت اور حسب نسب کی شرط نہیں، سوائے دین کے اور کوئی شرط معتبر نہیں۔
دوسروں نے کہا ہے کہ ہم نسبی اور قومیت بھی شرط ہے اور ان کے دلائل ان کے سوا اور ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں اور ہم بھی انہیں «کتاب الاحکام» میں ذکر کر چکے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
طبرانی میں عبدالرحمٰن سے مروی ہے کہ { انہوں نے بنو ہاشم میں سے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ نسبت اور تمام لوگوں کے بہت زیادہ قریب ہوں۔ پس دوسرے نے کہا کہ تیری بہ نسبت میں آپ سے بہت زیادہ قریب ہوں اور مجھے آپ سے نسبت بھی ہے }۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبرُ تعالى أنَّه خلقَ بني آدم من أصل واحدٍ وجنسٍ واحدٍ، وكلُّهم من ذكر وأنثى، ويرجعون جميعُهم إلى آدم وحواء، ولكنَّ الله تعالى بثَّ منهما رجالاً كثيراً ونساءً، وفرَّقهم، وجعلهم {شعوباً وقبائلَ}؛ أي: قبائل صغاراً وكباراً، وذلك لأجل أن يتعارَفوا؛ فإنَّه لو استقلَّ كلُّ واحد منهم بنفسه؛ لم يحصُلْ بذلك التعارف الذي يترتَّب عليه التَّناصر والتَّعاون والتَّوارث والقيام بحقوق الأقارب، ولكنَّ الله جعلهم شعوباً وقبائل؛ لأجل أن تحصُلَ هذه الأمور وغيرها ممَّا يتوقَّف على التعارف ولحوق الأنساب، ولكن الكرمَ بالتَّقوى؛ فأكرمُهم عند الله أتقاهم، وهو أكثرُهم طاعةً وانكفافاً عن المعاصي، لا أكثرُهم قرابةً وقوماً، ولا أشرفُهم نسباً، ولكن اللهَ تعالى {عليمٌ خبيرٌ}، يعلمُ منهم مَن يقوم بتقوى الله ظاهراً وباطناً ممَّن لا يقوم بذلك ظاهراً ولا باطناً، فيجازي كلًّا بما يستحقُّ. وفي هذه الآية دليلٌ على أنَّ معرفة الأنساب مطلوبةٌ مشروعةٌ؛ لأنَّ الله جعلهم شعوباً وقبائلَ لأجل ذلك.