اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بہت سے گمان سے بچو، یقینا بعض گمان گناہ ہیں اور نہ جاسوسی کرو اور نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے بھائی کا گوشت کھائے، جب کہ وہ مردہ ہو، سو تم اسے نا پسند کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے بارے میں بدگمانی سے روکا ہے، اس لیے کہ ﴿ اِنَّبَعْضَالظَّ٘نِّاِثْمٌ﴾”بے شک بعض گمان گناہ ہیں۔“ اس سے مراد وہ ظن و گمان ہے جو حقیقت اور قرینے سے خالی ہے، مثلاً: وہ بدگمانی جس کے ساتھ بہت سے اقوال بد اور افعال بد مقرون ہوتے ہیں۔ کیونکہ دل کے اندر بدگمانی کے جڑ پکڑ لینے سے، بدگمانی کرنے والا شخص صرف بدگمانی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے بارے میں باتیں اور ایسے کام کرتا رہتا ہے جس کا کرنا مناسب نہیں، نیز یہ چیز مسلمان کے بارے میں بدگمانی، اس کے ساتھ بغض و عداوت کو متضمن ہے جس کے برعکس معاملے کا حکم دیا گیا ہے۔ ﴿ وَّلَاتَجَسَّسُوْا﴾ یعنی مسلمانوں کے پوشید معاملات کی ٹوہ لگاؤ نہ ان کا پیچھا کرو۔ مسلمان کو اس کے اپنے حال پر چھوڑ دو اور اس کی ان لغزشوں کو نظر انداز کر دو جن کی اگر تفتیش کی جائے تو نامناسب امور ظاہر ہوں۔ ﴿ وَلَایَغْتَبْبَّعْضُكُمْبَعْضًا﴾”ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔“ غیبت کا معنی یہ ہے، جیسا کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے بھائی کی کسی خامی کا ذکر کرے جس کے ظاہر کرنے کو وہ ناپسند کرتا ہو ...خواہ وہ خامی اس کے اندر موجود ہو۔“ (صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2589)
پھر اللہ تعالیٰ نے غیبت سے نفرت دلانے کے لیے مثال دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَیُحِبُّاَحَدُكُمْاَنْیَّ٘اْكُ٘لَلَحْمَاَخِیْهِمَیْتًافَؔكَرِهْتُمُوْهُ۠﴾”کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ پس اس سے تم نفرت کرو گے۔“ اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے کو مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے، جو نفوس انسانی کے لیے انتہائی ناپسندیدہ چیز ہے۔ پس جس طرح تم اپنے بھائی، خاص طور پر بے جان اور مردہ بھائی کا گوشت کھانا ناپسند کرتے ہو اسی طرح تمھیں اس کی غیبت کرنا اور زندہ حالت میں اس کا گوشت کھانے کو ناپسند کرنا چاہیے۔
﴿ وَاتَّقُوااللّٰهَ١ؕاِنَّاللّٰهَتَوَّابٌرَّحِیْمٌ﴾”اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔“(تَوَّاب) وہ ہستی ہے جو اپنے بندے کو توبہ کا حکم دے کر اسے توبہ کی توفیق سے نوازتی ہے، پھر اس کی توبہ قبول کر کے اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے کہ اس نے ان کو اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے لیے فائدہ مند ہے اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں غیبت سے نہایت سختی سے ڈرایا گیا ہے، نیز یہ کہ غیبت کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
نهى تعالى عن كثيرٍ من الظَّنِّ السيِّئِ بالمؤمنين، {إنَّ بعضَ الظَّنِّ إثمٌ}: وذلك كالظَّنِّ الخالي من الحقيقة والقرينة، وكظنِّ السَّوْءِ الذي يقترن به كثيرٌ من الأقوال والأفعال المحرَّمة؛ فإنَّ بقاءَ ظنِّ السَّوْءِ بالقلب لا يقتصر صاحبه على مجرَّد ذلك، بل لا يزال به حتى يقول ما لا ينبغي ويفعل ما لا ينبغي، وفي ذلك أيضاً إساءةُ الظنِّ بالمسلم وبغضُهُ وعداوتُهُ المأمور بخلافها منه، {ولا تَجَسَّسوا}؛ أي: لا تفتِّشوا عن عورات المسلمين، ولا تَتَّبعوها، ودَعُوا المسلم على حاله، واستعملوا التغافُل عن زلاَّته، التي إذا فُتِّشَتْ؛ ظهرَ منها ما لا ينبغي، {ولا يَغْتَب بعضُكُم بعضاً}: والغيبة كما قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «ذِكْرُكَ أخاك بما يكرَهُ، ولو كان فيه». ثم ذَكَرَ مثلاً منفراً عن الغيبة، فقال: {أيحبُّ أحدُكُم أن يأكُلَ لحمَ أخيه مَيْتاً فكَرِهْتُموه}: شبَّه أكلَ لحمِهِ ميتاً المكروه للنفوس غايةَ الكراهةِ باغتيابه؛ فكما أنَّكم تكرهون أكل لحمه، خصوصاً إذا كان ميتاً فاقد الروح؛ فكذلك فَلْتَكْرهوا غيبته وأكل لحمه حيًّا، {واتَّقوا اللهَ إنَّ اللهَ توابٌ رحيمٌ}: والتوَّابُ: الذي يأذن بتوبة عبده، فيوفِّقه لها، ثم يتوبُ عليه بقبول توبته، رحيمٌ بعباده؛ حيث دعاهم إلى ما ينفعهم، وقبل منهم التوبة. وفي هذه الآية دليلٌ على التَّحذير الشديد من الغِيبة، وأنَّها من الكبائر؛ لأنَّ الله شبَّهها بأكل لحم الميت، وذلك من الكبائر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔