ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحجرات (49) — آیت 11

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کوئی قوم کسی قوم سے مذاق نہ کرے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ کوئی عورتیں دوسری عورتوں سے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ اپنے لوگوں پر عیب لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کو برے ناموں کے ساتھ پکارو، ایمان کے بعد فاسق ہونا برا نام ہے اور جس نے توبہ نہ کی سو وہی اصل ظالم ہیں۔ En
مومنو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں۔ اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام رکھو۔ ایمان لانے کے بعد برا نام (رکھنا) گناہ ہے۔ اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں
En
اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہو اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں، اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، اور جو توبہ نہ کریں وہی ﻇالم لوگ ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} گزشتہ آیات میں مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کی صورت میں ان کے درمیان صلح کروانے کا حکم دیا، اس سے پہلے بلاتحقیق خبر پر عمل سے منع فرمایا تھا، کیونکہ اس سے لڑائی پیدا ہو سکتی ہے اور لاعلمی میں نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہاں سے مزید ان چیزوں سے منع فرمایا جو اسلامی اخوت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور باہمی عداوت اور لڑائی کا باعث بنتی ہیں۔ اس آیت میں ایسی تین چیزیں ذکر فرمائیں: (1) کسی کا مذاق اڑانا۔ (2) کسی پر عیب لگانا۔ (3) کسی کو برے لقب سے پکارنا۔
➋ { لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ: سَخِرَ يَسْخَرُ سَخَرًا وَسَخْرًا وَ سُخْرًا وَ سِخْرًا وَ سُخْرَةً و مَسْخَرًا بِهٖ وَ مِنْهُ } (ع) استہزا، مذاق اڑانا، ٹھٹھا کرنا، وہ ہنسی جس سے دوسرے کی تحقیر اور دل آزاری ہو۔ وہ ہنسی جس سے دوسرے کا دل خوش ہو وہ مزاح کہلاتی ہے، وہ جائز ہے بلکہ مسنون ہے۔ کشاف میں ہے: قوم کا لفظ مردوں کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ مرد عورتوں کے قوام ہوتے ہیں، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے:
{وَلَا أَدْرِيْ وَ سَوْفَ إِخَالُ أَدْرِيْ
أَقَوْمٌ آلُ حِصْنٍ أَمْ نِسَاءُ}
اور میں نہیں جانتا اور میرا خیال ہے کہ میں جلد ہی جان لوں گا کہ آلِ حصن قوم (یعنی مرد) ہیں یا عورتیں۔
یہ آیت بھی اس بات کی دلیل ہے، کیونکہ قوم کو ٹھٹھا کرنے سے منع کرنے کے بعد عورتوں کو اس سے منع فرمایا ہے۔ رہی یہ بات کہ قرآن میں مذکور قومِ فرعون اور قومِ ثمود وغیرہ میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں تو اصل یہ ہے کہ وہاں مردوں کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے، کیونکہ عورتیں ان کے تابع ہیں۔
➌ پہلی چیز جس سے منع فرمایا وہ کسی کا مذاق اڑانا یا تمسخر ہے، کیونکہ اس سے دلوں میں شدید بغض پیدا ہوتا ہے۔ جس کا مذاق اڑایا جائے وہ اسے اپنی تذلیل سمجھ کر ہر وقت انتقام کے موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور ظاہر ہے انتقام میں بات کہاں سے کہاں تک جا پہنچتی ہے۔ کوئی شخص کسی کا ٹھٹھا اسی وقت اڑاتا ہے جب وہ اپنے آپ کو اس سے بہتر اور اس کو اپنے سے حقیر اور کمتر سمجھتا ہے اور یہ سمجھنا تکبر ہے، جس پر شدید وعید آئی ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُوْنَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ] [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱] وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو(تو کیا یہ بھی تکبر ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ یہاں قوم کو قوم کا مذاق اڑانے سے منع فرمایا، کیونکہ عموماً کسی مجلس ہی میں کسی کا مذاق اڑایا جاتا ہے، ورنہ اکیلے کا مذاق اڑانا بھی منع ہے۔
➍ { عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ:} مذاق اڑانے سے منع کرنے کی وجہ بیان فرمائی کہ جسے تم حقیر سمجھ کر ذلیل کر رہے ہو، ہو سکتا ہے وہ اللہ کے ہاں تم سے بہتر ہو، کیونکہ اچھا یا برا ہونے کا دارومدار ظاہری شکل و صورت پر نہیں، بلکہ دل کے تقویٰ پر ہے اور اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ پھر دار و مدار موجودہ حالت پر نہیں بلکہ خاتمے پر ہے، تمھیں کیا معلوم کہ اس کا خاتمہ تم سے اچھا ہو جسے تم حقیر سمجھ کر ذلیل کر رہے ہو۔
➎ { وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ:} قرآن مجید میں عموماً احکام کے لیے مردوں ہی کو مخاطب کیا گیا ہے، عورتوں کا ذکر تابع ہونے کی وجہ سے الگ نہیں کیا گیا۔ یہاں عورتوں کو الگ بھی خطاب فرمایا، اس سے ظاہر ہے کہ عورتوں کو اس گناہ سے روکنے کی خاص ضرورت ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس آیت میں مردوں کو مردوں سے اور عورتوں کو عورتوں سے ٹھٹھا کرنے سے منع فرمایا تو کیا مرد عورتوں سے یا عورتیں مردوں سے ٹھٹھا کر سکتی ہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں مردوں اور عورتوں کے ملے جلے معاشرے کی گنجائش ہی نہیں، جس میں وہ ایک دوسرے کا بے تکلف مذاق اڑا سکیں۔ یہاں مردوں اور عورتوں کی مجلسیں الگ الگ ہوتی ہیں، اس لیے دونوں کو الگ الگ منع فرمایا۔
➏ مذاق خواہ زبان کے ساتھ اڑایا جائے یا کسی کے نقص کی طرف اشارہ کرکے یا نقل اتار کر، ہر طرح کا مذاق حرام ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: [حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ غَيْرُ مُسَدَّدٍ تَعْنِيْ قَصِيْرَةً، فَقَالَ لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ قَالَتْ وَحَكَيْتُ لَهُ إِنْسَانًا فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنِّيْ حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَ إِنَّ لِيْ كَذَا وَكَذَا] [أبوداوٗد، الأدب، باب في الغیبۃ: ۴۸۷۵، وقال الألباني صحیح] آپ کو صفیہ سے یہی کچھ کافی ہے کہ وہ ایسے ایسے ہے۔ مسدد کے علاوہ دوسرے راوی نے وضاحت کی کہ مراد ان کے قد کا چھوٹا ہونا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا تم نے ایسی بات کی ہے کہ اگر سمندر کے پانی میں ملا دی جائے تو سارے پانی کو خراب کر دے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا نے بیان کیا: اور میں نے آپ کے سامنے کسی انسان کی نقل اتاری (تو اس کا کیا حکم ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ میں کسی انسان کی نقل اتاروں، خواہ مجھے یہ یہ کچھ مل جائے۔
➐ { وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ: لَمَزَ يَلْمِزُ لَمْزًا} (ض،ن)کسی پر عیب لگانا، خفی کلام کے ساتھ آنکھ کا اشارہ کرنا، دھکا دینا، مارنا۔ مزید دیکھیے سورۂ ہمزہ کی آیت (۱): «‏‏‏‏وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» کی تفسیر۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کہنے کے بجائے کہ کسی پر عیب نہ لگاؤ، یہ فرمایا کہ اپنے آپ پر عیب نہ لگاؤ، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ» [النساء: ۲۹] اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ تمام مسلمان {كَالْجَسَدِ الْوَاحِدِ} (ایک جسم کی مانند) ہیں، عیب لگانے والے کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب وہ کسی مسلم بھائی پر عیب لگا رہا ہے تو درحقیقت وہ اپنے آپ ہی پر عیب لگا رہا ہے، سو اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جب یہ دوسروں پر عیب لگائے گا تو عیب سے خالی تو یہ بھی نہیں اور دوسروں کی آنکھیں بھی ہیں اور زبان بھی، پھر اس کے عیوب بھی ظاہر کیے جائیں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اپنے آپ پر عیب مت لگاؤ۔ اس آیت میں لوگوں کے سامنے کسی کے عیب ظاہر کرنے اور ان کا طعنہ دینے سے منع فرمایا، اگلی آیت میں کسی کی عدم موجودگی میں اس کے عیب ذکر کرنے یعنی غیبت سے بھی منع کیا۔ صرف ایک بات کی اجازت ہے اور وہ ہے نصیحت کہ اپنے بھائی کو الگ لے جا کر اسے اس کی غلطی بتا کر درست کرنے کی نصیحت کرے، جس طرح آئینہ غلطی بتاتا ہے مگر شور نہیں ڈالتا۔ لوگوں کے سامنے کسی مسلم کے منہ پر یا اس کی عدم موجودگی میں اس کے عیب کا اظہار کرنے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنے کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِيْ حَاجَةِ أَخِيْهِ كَانَ اللّٰهُ فِيْ حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُّسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِّنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَ مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ] [بخاري، المظالم، باب لا یظلم المسلم المسلم ولایسلمہ: ۲۴۴۲، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما] مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور جو شخص اپنے بھائی کے کام میں ہو اللہ اس کے کام میں ہوتا ہے اور جو کسی مسلم سے کوئی تکلیف دور کرے اللہ تعالیٰ قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف اس سے دور فرمائے گا اور جو کسی مسلم پر پردہ ڈالے، اللہ تعالیٰ اس پر پردہ ڈالے گا۔
➑ { وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ: اَلنَّبَزُ} (نون اور باء کے فتحہ کے ساتھ) برے لقب کو کہتے ہیں، مثلاً لنگڑا، لولا، اندھا، کالا، ٹھگنا، کبڑا، گدھا، لومڑ یا کوئی بھی نام جس سے کسی کو تکلیف ہوتی ہو، مثلاً کسی سے کوئی گناہ ہوا ہو، تائب ہونے کے بعد عار دلانے کے لیے اسے چور یا زانی یا شرابی کہہ کر پکارنا۔ لقب ایسے نام کو کہتے ہیں جس سے کسی خوبی یا خامی کا اظہار ہوتا ہو، خواہ آدمی نے خود اپنے لیے رکھ لیا ہو یا کسی دوسرے نے رکھ دیا ہو۔ یہاں { وَ لَا تَنَابَزُوْا } کے قرینے سے لقب سے مراد برا نام ہے، کیونکہ اچھے القاب سے پکارنا تو قابلِ تعریف ہے، جیسے ابوبکر صدیق، عمر فاروق، حمزہ اسد اللہ، خالد سیف اللہ، ابوعبیدہ امین الامت، حذیفہ صاحب سر رسول اللہ، عبد اللہ بن مسعود صاحب المطہرۃ والوسادۃ والنعلین(رضی اللہ عنھم)۔ اس کے علاوہ عرب کا طریقہ اکرام کرتے ہوئے کنیت کے ساتھ پکارنے کا تھا، جسے اسلام نے برقرار رکھا۔ مومن کا حق یہ ہے کہ اسے اس نام سے پکارا جائے جو اسے اپنے لیے سب سے زیادہ پسند ہو، کیونکہ یہ محبت پیدا کرنے اور اسے قائم رکھنے کا باعث ہے۔ { وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ } یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کا برا نام نہ رکھے جس سے وہ ناراض ہو، یا اس کی توہین و تذلیل ہوتی ہو اور نہ ایسے نام کے ساتھ اسے آواز دے کر پکارے۔ جاہلیت میں یہ بات عام تھی کہ ایک شخص نے دوسرے کا برا لقب رکھا تو اس نے اس کا رکھ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔
ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: آیت: «‏‏‏‏وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ» ‏‏‏‏ ہم بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو ہم میں سے ہر آدمی کے دو دو، تین تین نام تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو کوئی نام لے کر بلاتے تو لوگ کہتے: یا رسول اللہ! اسے اس نام سے نہ بلائیں، کیونکہ وہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔ تو اس پر یہ آیت: «‏‏‏‏وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ» ‏‏‏‏ اتری۔ [أبوداوٗد، الأدب، باب في الألقاب:۴۹۶۲]
➒ اس حکم سے وہ القاب مستثنیٰ ہیں جو کسی کی پہچان بن چکے ہوں، نہ اس نام والا اسے برا سمجھتا ہو اور نہ اس سے مقصود تحقیر یا تذلیل ہو، بلکہ مقصود صرف تعارف ہو، جیسے سلیمان الاعمش (چندھیائی ہوئی آنکھوں والا)، واصل الاحدب (کبڑا)، حمید الطویل (لمبا)، ابوہریرہ اور ذوالیدین وغیرہ۔
➓ { بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ:} اس سے معلوم ہوا کہ اوپر جن چیزوں سے روکا گیا ہے وہ سب فسوق ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جو شخص ان کاموں کا ارتکاب کرے وہ مومن ہونے کے باوجود فاسق ہے اور یہ بہت بری بات ہے کہ آدمی کا نام فاسق رکھا جائے، اس کے بعد کہ اس کا نام مومن ہے۔ { بَعْدَ الْاِيْمَانِ } (ایمان کے بعد) اس لیے فرمایا کہ اگر تم ایمان کا شرف حاصل نہ کر چکے ہوتے تو فاسق یا بدمعاش کہلانے میں عار کی کوئی خاص بات نہ تھی، لیکن اب ایمان لے آنے کے بعد یہ نام تم پر آنا بہت بری بات ہے۔ تمھیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ اب تم وہ ہو جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَ زَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْيَانَ» ‏‏‏‏ [الحجرات: ۷] اور لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا۔ تو تمھیں ہر ایسے کام سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے تم پر فسق کا نام آئے۔
⓫ {وَ مَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ:} الف لام کمال کا ہے، یعنی اگرچہ جو بھی گناہ کرے ظالم ہے مگر توبہ سے اس ظلم کی تلافی ہو جاتی ہے۔ اصل ظالم وہی ہیں جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں اور توبہ کیے بغیر فوت ہو جاتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 ایک شخص دوسرے کسی شخص کا استہزا یعنی اس سے مسخرا پن اسی وقت کرتا ہے جب وہ اپنے کو اس سے بہتر اور اس کو اپنے سے حقیر اور کمتر سمجھتا ہے حالانکہ اللہ کے ہاں ایمان وعمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور کون نہیں۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہے اس لیے اپنے کو بہتر اور دوسرے کو کم تر سمجنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے بنا بریں آیت میں اس سے منع فرما دیا گیا ہے اور کہتے ہیں کہ عورتوں میں یہ اخلاقی بیماری زیادہ ہوتی ہے اس لیے عورتوں کا الگ ذکر کر کے انہیں بھی بظور خاص اس سے روک دیا گیا ہے اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں لوگوں کے حقیر سمجھنے کو کبر سے تعبیر کیا گبا ہے الکبر بطر الحق وغمط الناس اور کبر اللہ کو نہایت ہی ناپسند ہے۔ 11۔ 2 یعنی ایک دوسرے پر طعنہ زنی مت کرو، مثلاً تو فلاں کا بیٹا ہے، تیری ماں ایسی ویسی ہے، تو فلاں خاندان کا ہے نا وغیرہ۔ 11۔ 3 یعنی اپنے طور پر استزاء اور تحقیر کے لیے لوگوں کے ایسے نام رکھ لینا جو انہیں ناپسند ہوں یا اچھے بھلے ناموں کو بگاڑ کر بولنا یہ تنابز بالالقاب ہے جس کی یہاں ممانعت کی گئی ہے 11۔ 4 یعنی اس طرح نام بگاڑ کر یا برے نام تجریز کر کے بلانا یا قبول اسلام اور توبہ کے بعد اسے سابقہ دین یا گناہ کی طرف منسوب کر کے خطاب کرنا مثلا اے کافر اے زانی یا شرابی وغیرہ یہ بہت برا کام ہے الاسم یہاں الذکر کے معنی میں ہے یعنی بئس الاسم الذی یذکر بالفسق بعد دخولھم فی الایمان فتح القدیر۔ البتہ اس سے بعض وہ صفاتی نام بعض حضرات کے نزدیک مستثنی ہیں جو کسی کے لیے مشہور ہوجائیں اور وہ اس پر اپنے دل میں رنج بھی محسوس نہ کریں جیسے لنگڑے پن کی وجہ سے کسی کا نام لنگڑا پڑجائے کالے رنگ کی بنا پر کا لیا یا کالو مشہور ہوجائے وغیرہ۔ القرطبی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ اے ایمان والو! (تمہارا) کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق [14] نہ اڑائے۔ ہو سکتا ہے [15] کہ وہ مذاق اڑانے والوں سے بہتر ہوں۔ نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور ایک دوسرے پر طعنہ زنی [16] نہ کرو۔ اور نہ ہی ایک دوسرے کے برے نام [17] رکھو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا [18] بہت بری بات ہے اور جو لوگ ان باتوں سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔
[14] مذاق اڑانے سے پرہیز :۔
اس آیت میں ایسے معاشرتی آداب سکھائے جا رہے ہیں ہیں جو عموماً لڑائی جھگڑے کا سبب بنتے ہیں۔ مذاق اڑانے کی دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں۔ ایک مذہبی یا نظریاتی اختلاف کا ہونا دوسرے مخاطب کو اپنے سے کمتر اور حقیر سمجھنا۔ خواہ کوئی بھی صورت ہو مذاق اڑانے سے چونکہ لڑائی جھگڑے کا امکان ہے۔ لہٰذا لڑائی جھگڑے کے ان ابتدائی لوازمات سے بھی روک دیا گیا۔
[15] اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مرد، مردوں کا مذاق نہ اڑائیں اور نہ عورتیں عورتوں کا، یہ نہیں فرمایا مرد عورت کا مذاق نہ اڑائے یا عورت کسی مرد کا مذاق نہ اڑائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں مخلوط سوسائٹی یا آزادانہ اختلاط مرد و زن کا تصور ہی مفقود ہے۔
[16] طنز اور طعنہ سے اجتناب :۔
﴿لَمَزَ بمعنی کسی شخص کے کسی فعل یا حرکت میں عیب جوئی کرنا۔ جیسے پھبتیاں کسنا، کسی کی نقلیں اتارنا، اشارے کرنا، یا زیر لب کسی کو نشانہ ملامت بنانا یا طنزیہ بات اور چوٹیں کرنا سب کچھ اس لفظ کے معنی میں داخل ہے۔ اس قسم کی حرکتیں چونکہ معاشرتی تعلقات کو بگاڑ دیتی ہیں۔ لہٰذا ان کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
[17] لقب کا مفہوم اور قسمیں :۔
لقب دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو پسند ہوتے ہیں اور ان کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انسان خود اپنے لئے کوئی پسندیدہ سا لقب اختیار کر لیتا ہے اور دوسری صورت یہ کہ کوئی دوسرا ایسا لقب رکھ دیتا ہے۔ جیسے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کا لقب صدیق یا سیدنا عمر کا لقب فاروق تھا۔ دوسرے وہ جو مذموم ہوتے ہیں اور ایسے لقب عموماً حریف یا فریق مخالف یا دشمن رکھ دیتے ہیں اور یہ صرف اس کی تحقیر یا اس کو چڑانے کے لئے رکھے جاتے ہیں۔ اس آیت میں ایسے القاب سے پکارنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بطور گالی یا تمسخر کسی کو فاسق یا یہودی کہا جائے یا اس کے ایسے جرم سے منسوب کیا جائے جسے وہ چھوڑ چکا ہو جیسے کسی کو ایمان لانے اور توبہ کر لینے کے بعد زانی، چور یا ڈاکو وغیرہ کہا جائے۔ ایسی سب باتیں فتنہ فساد اور لڑائی کا موجب بن جاتی ہیں۔ اسی لئے ان سے منع کر دیا گیا ہے اور ایسے کام کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوذر غفاری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:”جو شخص کسی مسلمان کو فاسق یا کافر کہے اور درحقیقت وہ کافر یا فاسق نہ ہو تو خود کہنے والا شخص فاسق یا کافر ہو جائے گا“ [بخاری۔ کتاب الادب۔ باب ما ینہی من السباب واللعن]
برے نام رکھنے یا بلانے کی ممانعت :۔
اور بعض دفعہ کسی شخص کا ایسا لقب رکھ دیا جاتا ہے جس میں نہ اس کی تحقیر ہوتی ہے اور نہ وہ خود اسے برا سمجھتا ہے بلکہ وہ محض تعارف کے طور پر ہوتا ہے۔ جیسے دور نبوی میں ایک صحابی کا اس کے لمبے ہاتھوں کے وجہ سے نام ہی ذو الیدین پڑ گیا تھا۔ ایسے ہی عبد اللہ طویل یا نابینا حکیم وغیرہ کہنے میں کچھ حرج نہیں۔ [بخاری۔ کتاب الادب۔ باب مایجوز من ذکر الناس]
[18] یعنی مندرجہ بالا سب کام فسق کے کام ہیں۔ کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ ایمان لانے کے بعد بھی ایسے کام کرتا رہے۔ اور اگر کوئی ایسی باتوں میں نامور اور مشہور بھی ہو جائے تو یہ تو بہت ہی بری بات ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہر طعنہ باز عیب جو مجرم ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو حقیر و ذلیل کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے روک رہا ہے، حدیث شریف میں ہے { تکبر حق سے منہ موڑ لینے اور لوگوں کو ذلیل و خوار سمجھنے کا نام ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:91]‏‏‏‏
اس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی کہ ’ جسے تم ذلیل کر رہے ہو جس کا تم مذاق اڑا رہے ہو ممکن ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ تم سے زیادہ باوقعت ہو ‘۔
مردوں کو منع کر کے پھر خاصتہً عورتوں کو بھی اس سے روکا اور اس ملعون خصلت کو حرام قرار دیا، چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ» ۱؎ [104-الهمزة:1]‏‏‏‏ یعنی ’ ہر طعنہ باز عیب جو کے لیے خرابی ہے ‘۔
«هُمَزَ» فعل سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَةِ» قول سے۔
ایک اور آیت میں ہے «هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:11]‏‏‏‏ یعنی ’ وہ جو لوگوں کو حقیر گنتا ہو۔ ‘ ان پر چڑھا چلا جا رہا ہو اور لگانے بجھانے والا ہو غرض ان تمام کاموں کو ہماری شریعت نے حرام قرار دیا۔
یہاں لفظ تو یہ ہیں کہ اپنے آپ کو عیب نہ لگاؤ مطلب یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ، جیسے فرمایا: «وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:29]‏‏‏‏ یعنی ’ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، سعید بن جبیر، قتادہ، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کو طعنے نہ دے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:391/11:]‏‏‏‏
پھر فرمایا کسی کو چڑاؤ مت! جس لقب سے وہ ناراض ہوتا ہو اس لقب سے اسے نہ پکارو، نہ اس کو برا نام دو۔
مسند احمد میں ہے کہ { یہ حکم بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے میں آئے تو یہاں ہر شخص کے دو دو تین تین نام تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو کسی نام سے پکارتے تو لوگ کہتے، یا رسول اللہ! یہ اس سے چڑتا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4962،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پھر فرمان ہے کہ ’ ایمان کی حالت میں فاسقانہ القاب سے آپس میں ایک دوسرے کو نامزد کرنا نہایت بری بات ہے اب تمہیں اس سے توبہ کرنی چاہیئے ورنہ ظالم گنے جاؤ گے ‘۔