ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 39

وَ لَنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡیَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّکُمۡ فِی الۡعَذَابِ مُشۡتَرِکُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور آج یہ بات تمھیں ہرگز نفع نہ دے گی، جب کہ تم نے ظلم کیا کہ بے شک تم (سب) عذاب میں شریک ہو۔ En
اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو
En
اور جب کہ تم ﻇالم ٹھہر چکے تو تمہیں آج ہرگز تم سب کا عذاب میں شریک ہونا کوئی نفع نہ دے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 39){ وَ لَنْ يَّنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ …:} دنیا میں اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں گرفتار ہو تو اسے اس بات سے کچھ تسلی ہوتی ہے کہ وہ اکیلا نہیں بلکہ اس کے ساتھ اور لوگ بھی اس مصیبت میں گرفتار ہیں۔ اس کے علاوہ دوستوں کی صحبت کے احساس سے بھی تکلیف میں کچھ کمی ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ مصیبت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے اور حوصلہ دلاتے ہیں۔ عام مقولہ ہے: ہمہ یاراں دوزخ، ہمہ یاراں بہشت کہ دوزخ میں گئے تو سب دوست اکٹھے جائیں گے اور بہشت میں گئے تو بھی اکٹھے جائیں گے۔
قرین کی مناسبت سے فرمایا کہ اگر تم اس بات سے کچھ تسلی حاصل کرنا چاہو کہ میں عذاب میں ہوں تو میرا قرین بھی تو عذاب میں ہے تو تمھارا یہ خیال غلط ہے، جب تم دنیا میں ظلم کرتے رہے تو آج تمھیں اس بات سے ہر گز کوئی فائدہ نہیں ہو گا کہ تم عذاب میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو، کیونکہ وہ عذاب ہی اتنا سخت ہے کہ کسی کو کسی کی ہوش نہیں ہو گی، بلکہ مجرم اپنے تمام خویش و اقارب فدیے میں دے کر اس عذاب سے نجات پانے کی خواہش کرے گا۔ (دیکھیے معارج: ۱۱ تا ۱۴) شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: یعنی کافر کہیں گے خوب ہوا کہ انھوں نے ہمیں عذاب میں ڈلوایا، یہ بھی نہ بچے، لیکن اس کا کیا فائدہ اگر دوسرا پکڑا گیا۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اور (انہیں کہا جائے گا) جب تم ظلم کر چکے ہو تو آج تمہیں (ایسی گفتگو) کچھ نفع نہیں دے سکتی۔ تم سب عذاب میں برابر [39] کے شریک ہو۔
[39] یعنی آج اس برے ساتھی سے بیزار ہونے کا کیا فائدہ؟
اس نے جو کام کرنا تھا وہ کر چکا اور تمہیں جہنم تک پہنچا چکا۔ آج تو جیسے وہ مجرم ہے ویسے ہی تم بھی مجرم ہو۔ نہ اس کے عذاب میں کچھ کمی کی جائے گی اور نہ تمہارے عذاب میں۔ اس عذاب میں دونوں برابر کے شریک ہو۔ دنیا میں تو قاعدہ ہے کہ جس مصیبت میں سب چھوٹے بڑے شریک ہوں وہ کچھ ہلکی معلوم ہونے لگتی ہے۔ مثل مشہور ہے۔ ”مرگ انبوہ جتنے دارو“ مگر دوزخ میں یہ صورت بھی نہ ہو گی اور سب کا عذاب میں شریک ہونا کسی کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَ٘نْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّـكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ قیامت کے روز تمھارا اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ عذاب میں اشتراک، تمھارے کسی کام نہ آئے گا، چونکہ تم ظلم میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے اس لیے اس عذاب میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی ہو۔ مصیبت میں تسلی بھی تمھارے کوئی کام نہ آئے گی۔ کیونکہ جب دنیا میں مصیبت واقع ہوتی ہے اور مصیبت زدگان اس میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی مصیبت قدرے ہلکی ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہیں۔ آخرت کی مصیبت میں تو ہر قسم کی عقوبت جمع ہوگی، اس میں ادنیٰ سی راحت بھی نہ ہو گی۔ یہاں تک کہ یہ دنیاوی راحت بھی نہ ہو گی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں، تو ہمیں اپنی رحمت سے راحت عطا کر۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله تعالى: {ولَن يَنفَعَكُم اليومَ إذ ظلمتُم أنَّكم في العذابِ مشترِكونَ}؛ أي: ولا ينفعكم يوم القيامةِ اشتراكُكم في العذاب أنتم وقرناؤكم وأخلاَّؤكم، وذلك لأنكم اشتركتُم في الظُّلم فاشتركتم في عقابه وعذابِهِ، ولن ينفَعَكم أيضاً روح التسلِّي في المصيبة؛ فإنَّ المصيبة إذا وقعت في الدُّنيا واشترك فيها المعاقَبون؛ هان عليهم بعضُ الهون، وتسلَّى بعضُهم ببعضٍ، وأما مصيبةُ الآخرة؛ فإنَّها جَمَعَتْ كلَّ عقابٍ ما فيه أدنى راحةٍ، حتى ولا هذه الراحة. نسألُك يا ربَّنا العافيةَ وأن تُريحنا برحمتِكَ.