(آیت 40){ اَفَاَنْتَتُسْمِعُالصُّمَّ …: } رحمن کے ذکر سے دانستہ آنکھیں بند کرنے کی سزا شیطان کو ایسے لوگوں کا ساتھی بنانے کی صورت میں دی جاتی ہے جو انھیں راہِ حق سے اس طرح روکتے ہیں کہ وہ حق سننے سے بہرے اور اس کی نشانیاں دیکھنے سے اندھے ہو جاتے ہیں۔ اس آیت سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ ان کافروں کے ایمان نہ لانے پر آپ غمزدہ نہ ہوں، کیونکہ ایسے لوگوں کو راہِ راست پر لے آنا آپ کے بس میں نہیں، آپ ان تک اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیں اور ہدایت کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40۔ 1 یعنی جس کے لئے شقاوت ابدی لکھ دی گئی، وہ وعظ نصیحت کے اعتبار سے بہرہ اور اندھا ہے دعوت و تبلیغ سے وہ راہ راست پر نہیں آسکتا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں؟ یا اندھوں کو اور ایسے لوگوں کو جو صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہوں ہدایت دے سکتے [40] ہیں؟
[40] یعنی آپ اپنی تمام تر توجہ ان لوگوں کی طرف مبذول کیجئے جو ہدایت کے خواہشمند ہیں یا جو اسلام لا چکے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اللہ کا کلام سننا ہی نہیں چاہتے اور اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں۔ انہیں راہ راست پر لانا یا نہ لانا آپ کا کام نہیں۔ آپ ان کی فکر چھوڑ دیجئے جو اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کا مستحق بنا رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو، اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انھیں ہدایت کی طرف بلائے۔ ﴿اَفَاَنْتَتُ٘سْمِعُالصُّمَّ ﴾”کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔“ جو سنتے نہیں۔﴿اَوْتَهْدِیالْ٘عُمْیَ ﴾”یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں؟“ جو دیکھتے نہیں یاکیا آپ اس شخص کی راہ نمائی کر سکتے ہیں ﴿مَنْكَانَفِیْضَلٰلٍمُّبِیْنٍ ﴾ جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے، کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ہدایت نہیں پاسکتا۔ قرآن سے ان کی روگردانی کی بنا پر ان کی فطرت اور عقل فاسد ہو گئی اور انھوں نے عقائد فاسدہ گھڑ لیے اور ان میں صفات خبیثہ پیدا ہوگئیں جو انھیں ایمان لانے سے روکتی ہیں اور ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہیں اور ان کی تباہی میں اضافے کی موجب ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقولُ تعالى لرسولِهِ - صلى الله عليه وسلم - مسلياً له عن امتناع المكذِّبين عن الاستجابة له وأنَّهم لا خيرَ فيهم ولا فيهم زكاءٌ يدعوهم إلى الهدى: {أفأنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ}؛ أي: الذين لا يسمعون، {أو تَهْدي العُمْيَ}: الذين لا يبصرون أو تهدي مَنْ هو {في ضلال مبين}؛ أي: بيِّن واضح لعلمِهِ بضلالِهِ ورضاه به؛ فكما أنَّ الأصمَّ لا يسمعُ الأصوات، والأعمى لا يبصِر، والضالَّ ضلالاً مبيناً لا يهتدي؛ فهؤلاء قد فسدتْ فِطَرُهم وعقولُهم بإعراضهم عن الذِّكر، واستحدثوا عقائدَ فاسدةً وصفاتٍ خبيثةً تمنعهم وتَحولُ بينَهم وبينَ الهُدى، وتوجِبُ لهم الازديادَ من الرَّدى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔