تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 39

وَ لَنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡیَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّکُمۡ فِی الۡعَذَابِ مُشۡتَرِکُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور آج یہ بات تمھیں ہرگز نفع نہ دے گی، جب کہ تم نے ظلم کیا کہ بے شک تم (سب) عذاب میں شریک ہو۔ En
اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو
En
اور جب کہ تم ﻇالم ٹھہر چکے تو تمہیں آج ہرگز تم سب کا عذاب میں شریک ہونا کوئی نفع نہ دے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَ٘نْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّـكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ قیامت کے روز تمھارا اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ عذاب میں اشتراک، تمھارے کسی کام نہ آئے گا، چونکہ تم ظلم میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے اس لیے اس عذاب میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی ہو۔ مصیبت میں تسلی بھی تمھارے کوئی کام نہ آئے گی۔ کیونکہ جب دنیا میں مصیبت واقع ہوتی ہے اور مصیبت زدگان اس میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی مصیبت قدرے ہلکی ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہیں۔ آخرت کی مصیبت میں تو ہر قسم کی عقوبت جمع ہوگی، اس میں ادنیٰ سی راحت بھی نہ ہو گی۔ یہاں تک کہ یہ دنیاوی راحت بھی نہ ہو گی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں، تو ہمیں اپنی رحمت سے راحت عطا کر۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله تعالى: {ولَن يَنفَعَكُم اليومَ إذ ظلمتُم أنَّكم في العذابِ مشترِكونَ}؛ أي: ولا ينفعكم يوم القيامةِ اشتراكُكم في العذاب أنتم وقرناؤكم وأخلاَّؤكم، وذلك لأنكم اشتركتُم في الظُّلم فاشتركتم في عقابه وعذابِهِ، ولن ينفَعَكم أيضاً روح التسلِّي في المصيبة؛ فإنَّ المصيبة إذا وقعت في الدُّنيا واشترك فيها المعاقَبون؛ هان عليهم بعضُ الهون، وتسلَّى بعضُهم ببعضٍ، وأما مصيبةُ الآخرة؛ فإنَّها جَمَعَتْ كلَّ عقابٍ ما فيه أدنى راحةٍ، حتى ولا هذه الراحة. نسألُك يا ربَّنا العافيةَ وأن تُريحنا برحمتِكَ.