ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 38

حَتّٰۤی اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیۡتَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِیۡنُ ﴿۳۸﴾
یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا اے کاش! میرے درمیان اور تیرے درمیا ن دو مشرقوں کا فاصلہ ہوتا، پس وہ برا ساتھی ہے۔ En
یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق ومغرب کا فاصلہ ہوتا تو برا ساتھی ہے
En
یہاں تک کہ جب وه ہمارے پاس آئے گا کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی (تو) بڑا برا ساتھی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38) ➊ { حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ …:} دنیا میں ہر وقت شیطان کے ساتھ رہنے کے بعد قیامت کے دن اللہ کے ذکر سے اندھا بننے والا انسان جب اپنے قرین کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہو گا تو حسرت و افسوس کے ساتھ اس سے کہے گا، کاش! میرے اور تیرے درمیان دو مشرقوں کی دوری ہوتی۔ دو مشرقوں سے مراد مشرق و مغرب ہیں۔ دونوں کو مشرقین کہہ دیا ہے، جیسے ابوبکر و عمر(رضی اللہ عنھما) کو عمرین کہہ دیتے ہیں اور کھجور اور پانی کو اسودین کہہ دیتے ہیں۔ دو مشرق بھی مراد ہو سکتے ہیں، کیونکہ سردیوں میں سورج طلوع ہونے کی جگہ اور گرمیوں میں طلوع ہونے کی جگہ کے درمیان بہت فاصلہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ» ‏‏‏‏ [الرحمان: ۱۷] (وہ) دونوں مشرقوں کا رب ہے اور دونوں مغربوں کا رب۔
➋ { فَبِئْسَ الْقَرِيْنُ: أَيْ بِئْسَ الْقَرِيْنُ أَنْتَ} یعنی تو برا ساتھی ہے، جس نے دوست بن کر مجھے خراب و برباد کیا اور ہمیشہ کے عذاب میں پھنسا دیا۔ بعض مفسرین نے اسے اللہ تعالیٰ کا کلام قرار دے کر معنی کیا ہے: { فَبِئْسَ الْقَرِيْنُ هُوَ } یعنی پس وہ برا ساتھی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

38۔ 1 مراد مشرق اور مغرب کی دوری ہے، یہ کافر قیامت والے دن کہے گا لیکن اس دن اس اعتراف کا کیا فائدہ؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ حتیٰ کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے ساتھی سے) کہے گا: کاش! میرے اور تمہارے درمیان مشرق و مغرب [38] کا بعد ہوتا، تو تو بہت برا ساتھی نکلا ہے۔
[38] یعنی آج تو اپنے اس برے ساتھی کو اپنا حقیقی خیر خواہ سمجھ رہا ہے مگر قیامت کو جب ہمارے پاس حاضر ہو گا تب جا کر اسے معلوم ہو گا کہ وہ اس کا کیسا برا ساتھی تھا۔ پھر وہ حسرت اور غصہ سے اسے کہے گا: کاش! میرے اور تیرے درمیان زمین و آسمان کا فاصلہ ہوتا اور میں ایک لمحہ بھی تیری صحبت میں نہ گزارتا۔ آج تو کم از کم میری آنکھوں سے دور ہو جا۔ تو تو بہت ہی برا ساتھی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرنے والے کا، اپنے ساتھی کی معیت میں یہ حال تو دنیا کے اندر ہے اور وہ گمراہی، بدراہی اور حقائق کو بدلنے کا جرم ہے۔ رہا۔اس کا وہ حال جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گا، تو وہ بدترین حال ہو گا، ندامت، حسرت اور حزن و غم کا حال ہو گا جو اس کی مصیبت کی تلافی کر سکے گا نہ اس کے ساتھی سے نجات دلا سکے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰؔلَیْتَ بَیْنِیْ وَبَیْنَكَ بُعْدَ الْ٘مَشْرِقَیْنِ فَ٘بِئْسَ الْ٘قَرِیْنُ حتی کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا، اے کاش! مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا، پس تو برا ساتھی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّؔخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا۰۰ یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّؔخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا۰۰ لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَؔكَانَ الشَّ٘یْطٰ٘نُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا (الفرقان:25؍27-29) اور اس روز جب ظالم اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور حسرت سے کہے گا، کاش میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، ذکر (یعنی قرآن) کے آجانے کے بعد، اس نے مجھے گمراہ کر ڈالااور شیطان تو انسان کو چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فهذه حالةُ هذا المعرِض عن ذكرِ الله في الدُّنيا مع قرينه، وهو الضَّلال والغيُّ وانقلاب الحقائق، وأما حاله إذا جاء ربَّه في الآخرة؛ فهو شرُّ الأحوال، وهو الندم والتحسُّر والحزن الذي لا يُجْبَر مصابُه والتبرِّي من قرينه، ولهذا قال تعالى: {حتى إذا جاءنا قال يا ليتَ بيني وبينَكَ بُعْدَ المشرقينِ فبئس القرينُ}؛ كما في قوله تعالى: {ويومَ يَعَضُّ الظالمُ على يديه يقولُ يا ليتني اتَّخذتُ مع الرسولِ سبيلاً. يا ويلتَى ليتني لم أتَّخِذْ فلاناً خليلاً. لقدْ أضَلَّني عن الذِّكْرِ بعد إذ جاءني وكان الشيطانُ للإنسانِ خَذولاً}.