ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 34

وَ لَقَدۡ جَآءَکُمۡ یُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَیِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّمَّا جَآءَکُمۡ بِہٖ ؕ حَتّٰۤی اِذَا ہَلَکَ قُلۡتُمۡ لَنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ رَسُوۡلًا ؕ کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابُۨ ﴿ۚۖ۳۴﴾
اور بلاشبہ یقینا اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلیلیں لے کر آیا تو تم اس کے بارے میں شک ہی میں رہے، جو وہ تمھارے پاس لے کر آیا، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہو گیا تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ کبھی کوئی رسول نہ بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ہر اس شخص کو گمراہ کرتا ہے جو حد سے بڑھنے والا، شک کرنے والا ہو۔ En
اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو جو وہ لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو
En
اور اس سے پہلے تمہارے پاس (حضرت) یوسف دلیلیں لے کر آئے، پھر بھی تم ان کی ﻻئی ہوئی (دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہو گئی تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں اسی طرح اللہ گمراه کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے واﻻ شک و شبہ کرنے واﻻ ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 34) ➊ {وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ:} تمھارے پاس سے مراد تمھارے آبا و اجداد کے پاس ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بنی اسرائیل کو فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ» [البقرۃ: ۴۹] اور جب ہم نے تمھیں فرعون کی قوم سے نجات دی۔ ظاہر ہے اس سے مراد ان کے آبا و اجداد کو نجات دینا ہے۔ مرد مومن نے قبطیوں کو نصیحت کرتے ہوئے ان کے آبا و اجداد کے زمانے کا حال یاد دلایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے تمھارے پاس یوسف(علیہ السلام) آئے، اس وقت بھی تمھارا حال یہی تھا۔
➋ { بِالْبَيِّنٰتِ:} اپنی رسالت کی واضح دلیلوں کے ساتھ۔ واضح دلیلوں میں یوسف علیہ السلام کا صدق و ایفائے عہد، ان کی امانت اور کمال درجے کی پاک دامنی، مصر کی عورتوں کی طرف سے ان کی عفت کی شہادت، قید میں ان کا صبر، قید کے ساتھیوں اور بادشاہ کے خواب کی تعبیر، سات سالہ خوفناک قحط کی یقینی اطلاع، اس کے لیے پہلے سات سالوں میں غلے کو محفوظ رکھنے اور بعد کے سات سالوں میں ان کی نہایت درست طریقے سے عادلانہ تقسیم کی تدبیر، بے مثال عدل و انصاف، موقع ملنے پر قید کے ساتھیوں کو ناقابل تردید دلائل کے ساتھ توحید کی دعوت، یعنی: «‏‏‏‏ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (39) مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [یوسف: ۳۹، ۴۰] کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا اللہ، جو اکیلا ہے، نہایت زبردست ہے؟ تم اس کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر چند ناموں کی، جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے بارے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت مت کرو، یہی سیدھا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اور تہمت کی صفائی تک قید سے نہ نکلنا اور دیگر بہت سی چیزیں شامل ہیں جن سے ان کا اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ رسول ہونا ثابت ہوتا ہے۔
➌ {فَمَا زِلْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ:} یعنی اس سے پہلے یوسف علیہ السلام جب مصر میں آئے تو غلام تھے، جنھیں عزیز مصر نے بیٹا بنا لیا، پھر بہت سی آزمائشوں اور امتحانوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں حکومت کے ساتھ رسالت سے بھی سرفراز فرمایا، انھیں نبوت و رسالت کے ثبوت کے لیے کئی دلائل اور معجزے عطا فرمائے۔ تم ان پر ایمان لائے، مگر شک کے ساتھ۔ تمھارا ان پر ایمان ایسا ہی تھا جیسا کسی فقیر کا دولت مند پر یا کمزور کا طاقتور پر ہوتا ہے۔ اس میں یقین کی قوت نہ تھی، بلکہ تمھیں ان کی رسالت میں شک ہی رہا۔
➍ {حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا:} ان کی زندگی میں تمھیں ان کی لائی ہوئی شریعت پر شک رہا، مگر جب وہ فوت ہوئے تو تم ان کی تعریف میں اس حد تک بڑھ گئے کہ تم نے کہا، اب ان کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی رسول نہیں بھیجے گا، اب اس شان کا رسول کہاں آئے گا؟ یہ کہہ کر بعد میں رسولوں کے آنے ہی کا انکار کر دیا۔ یا ان کی بے قدری کی وہ انتہا کہ ان کی نبوت پر مسلسل شک کرتے رہے، یا ان کی تعریف کی یہ انتہا کہ ان کے بعد کسی کو رسول ماننے کے لیے تیار ہی نہیں۔ اس سے پہلے تم نے یوسف علیہ السلام کے ساتھ یہ معاملہ کیا، دیکھنا! اب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی یہ معاملہ نہ کرنا کہ جیتے جی ان پر ایمان نہ لاؤ اور مرنے کے بعد انھیں ان کی حد سے بڑھا دو۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: حضرت یوسف(علیہ السلام) کی زندگی میں قائل نہ ہوئے، بعد ان کی موت کے جب سلطنت کا بند و بست بگڑ گیا تو کہنے لگے، یوسف کا قدم اس شہر پر کیا مبارک تھا، ایسا نبی کوئی نہ ہو گا۔ یا وہ انکار یا یہ اقرار، یہی یا وہ گوئی ہے۔ مرد مومن کا مطلب یہ تھا کہ نعمت کی قدر زوال کے بعد ہوتی ہے، فی الحال تمھیں موسیٰ(علیہ السلام) کی قدر نہیں۔
➎ { كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ: مُرْتَابُ رَيْبٌ} سے { اِرْتَابَ يَرْتَابُ اِرْتِيَابًا } (افتعال) کا اسم فاعل ہے، شک کرنے والا۔ یعنی اللہ تعالیٰ گمراہی میں انھی لوگوں کو مبتلا کرتا ہے جن میں تین صفات پائی جاتی ہیں، ایک { مُسْرِفٌ } یعنی جو اپنی بداعمالی، اللہ کی نافرمانی اور کبر و غرور میں حد سے بڑھنے والے ہوں۔ دوسرے { مُرْتَابُ } یعنی اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کی کہی ہوئی باتوں میں شک کرنے والے ہوں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

34۔ 1 یعنی اہل مصر! حضرت موسیٰ ؑ سے قبل تمہارے اس علاقہ میں جس میں تم آباد ہو، حضرت یوسف ؑ بھی دلائل وبراہین کے ساتھ آئے تھے۔ جس میں تمہارے آباؤ اجداد کو ایمان کی دعوت دی گئی تھی یعنی جَآءَ کُمْ سے مراد جَآءَ اِلَیٰ آبائِکُمْ ہے یعنی تمہارے آباؤ واجداد کے پاس آئے۔ 34۔ 2 لیکن تم ان پر بھی ایمان نہیں لائے اور ان کی دعوت میں شک و شبہ ہی کرتے رہے۔ 34۔ 3 یعنی یوسف ؑ پیغمبر کی وفات ہوگئی۔ 34۔ 4 یعنی تمہارا شیوہ چونکہ ہر پیغمبر کی تکذیب اور مخالفت ہی رہا ہے اس لیے سمجھتے تھے کہ اب کوئی رسول ہی نہیں آئے گا یا یہ مطلب ہے کہ رسول کا آنا یا نہ آنا تمہارے لیے برابر ہے یا یہ مطلوب ہے کہ اب ایسا باعظمت انسان کہاں پیدا ہوسکتا ہے جو رسالت سے سرفراز ہو گویا بعد از مرگ حضرت یوسف ؑ کی عظمت کا اعتراف تھا اور بہت سے لوگ ہر اہم ترین انسان کی وفات کے بعد یہی کہتے رہے ہیں۔ 34۔ 5 یعنی اس واضح گمراہی کی طرح جس میں تم مبتلا ہو اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو بھی گمراہ کرتا ہے جو نہایت کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرتا اور اللہ کے دین کی وحدانیت اور اس کے وعدوں وعیدوں میں شک کرتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس واضح دلائل لے کر آئے تھے، مگر جو کچھ وہ لائے اس کے متعلق تم شک [48] ہی میں پڑے رہے۔ یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے تو تم کہنے لگے کہ اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ایسے لوگوں کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے بڑھنے والے اور شک کرنے والے ہوں
[48] یوسفؑ کے متعلق افراط و تفریط کی انتہا :۔
یہ بھی اس مرد مومن کی تقریر کا حصہ ہے۔ اس نے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک مصر میں یوسفؑ مبعوث ہوئے تھے۔ جن کی حسن تدبیر سے یہ ملک سات سالہ قحط کے دور میں امن کے ساتھ گزر بسر کرتا رہا اور آس پاس کے ملکوں کو بھی غلہ مہیا کرتا رہا جن کے پاکیزہ سیرت و اخلاق سے بادشاہ مصر اس قدر متاثر ہوا تھا کہ اس نے حکومت ہی سیدنا یوسفؑ کے حوالہ کر دی تھی اور جن کا دور حکومت عدل و انصاف کے لحاظ سے تم بہترین دور تسلیم کرتے ہو لیکن ان سب باتوں کے باوجود ان کے جیتے جی تم شک و شبہ میں ہی پڑے رہے اور ان پر ایمان نہ لائے۔ یہ تمہاری ایک انتہا تھی۔ پھر جب وہ فوت ہو گئے تو تم نے ان کی شان یوں بڑھا چڑھا کر بیان کرنا شروع کی کہ یوں کہنے لگے کہ اب سیدنا یوسفؑ جیسا رسول کہاں آئے گا؟ اور یہ خیال کر کے باقی جو انبیاء آئے انہیں جھٹلانا شروع کر دیا۔ یہ تمہاری دوسری انتہا تھی۔ اور آج تم سیدنا موسیٰؑ کی نبوت و رسالت کا بھی انکار کر رہے ہو۔ وہ بھی تمہاری غلط روش تھی اور یہ موجودہ روش بھی غلط ہے۔ وہ بھی حق کا انکار تھا، یہ بھی حق کا انکار ہے۔ اس وقت بھی تم شک میں پڑے رہے اور انب بھی شک میں پڑے ہوئے ہو۔ ایسے ہی لوگوں کے حق میں گمراہی لکھی ہوتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ اور یوسف علیہ السلام بھی تمھارے پاس آئے۔ یعنی یوسف بن یعقوب علیہما السلام ﴿مِنْ قَبْلُ یعنی موسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے یوسف علیہ السلام اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔ یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلْتُمْ لَ٘نْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ (الصف: 61؍5) جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفْــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ (الانعام: 6؍110) ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (البقرۃ:2؍258)اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد جاءكم يوسفُ}: بنُ يعقوب عليهما السلام {من قبل}: إتيان موسى بالبينات الدَّالَّة على صدقه، وأمركم بعبادة ربِّكم وحده لا شريك له، {فما زلتُم في شكٍّ مما جاءكم به}: في حياته، {حتى إذا هَلَكَ}: ازداد شكُّكم وشرككم، {وقلتم لن يبعثَ الله من بعده رسولاً}؛ أي: هذا ظنكم الباطل وحسبانكم الذي لا يليق بالله تعالى؛ فإنَّه تعالى لا يترك خلقه سدى لا يأمرهم وينهاهم، بل يرسل إليهم رسله؛ وظنٌّ أنَّ الله لا يرسل رسولاً ظنُّ ضلال، ولهذا قال: {كذلك يضلُّ الله من هو مسرفٌ [مرتابٌ] }: وهذا هو وصفهم الحقيقيُّ الذي وصفوا به موسى ظلماً وعلوًّا؛ فهم المسرفون بتجاوزهم الحقَّ وعدولهم عنه إلى الضلال، وهم الكذبةُ حيث نسبوا ذلك إلى الله وكذَّبوا رسوله؛ فالذي وصفُه السرفُ والكذبُ لا ينفكُّ عنهما لا يهديه الله ولا يوفِّقه للخير؛ لأنه ردَّ الحقَّ بعد أن وصل إليه وعرفه؛ فجزاؤه أن يعاقِبَه الله بأن يَمْنَعَه الهدى؛ كما قال تعالى: {فلما زاغوا أزاغَ الله قلوبَهم}، {ونقلِّبُ أفئدتَهم وأبصارَهم كما لم يؤمِنوا به أولَ مرَّةٍ ونَذَرُهم في طغيانهم يَعْمَهون}، {واللهُ لا يهدي القوم الظالمينَ}.