تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا: ” كَبُرَ “} کا فاعل وہ جدال ہے جو {” يُجَادِلُوْنَ “} کے ضمن میں بطور مصدر موجود ہے، {” مَقْتًا “} تمیز ہے۔ یعنی بلا دلیل جھگڑا اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اور ایمان والوں کے ہاں بھی سخت ناپسندیدگی، نفرت اور ناراض ہونے کے لحاظ سے بہت بڑا ہے۔
➌ بلادلیل جھگڑا اللہ تعالیٰ اور مومنوں کے نزدیک سخت ناپسندیدہ بتلانے میں اہلِ ایمان کو تلقین ہے کہ ایسے جھگڑے سے اجتناب کریں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ» [القصص: ۵۵] ”اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں۔“ اور فرمایا: «وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا» [الفرقان: ۶۳] ”اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔“ اور فرمایا: «وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا» [الفرقان: ۷۲] ”اور جب بے ہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو باعزت گزر جاتے ہیں۔“ ناحق جھگڑے سے اپنی شدید نفرت کے ذکر کے ساتھ ایمان والوں کی شدید نفرت کا تذکرہ بھی فرمایا، اس سے ایمان والوں کی شان کی عظمت کا اظہار مقصود ہے۔
➍ {كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ:} معلوم ہوتا ہے کہ {” كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ “} سے یہاں تک چند فقرے آل فرعون کے کلام کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد فرمائے گئے ہیں اور ان میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے متکبر و جبار کفار کے کفر پر اصرار کا باعث بیان کیا گیا ہے۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں کی طرف مبعوث کیے گئے ہیں ان میں سے بھی کوئی شخص جب تکبر اور سرکشی میں حد سے گزر جاتا ہے اور کوئی صحیح بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو اس کے دل پر اسی طرح مہر لگا دی جاتی ہے جس طرح آلِ فرعون کے دل پر مہر لگا دی گئی، پھر اس کا کام اسراف (زیادتی)، ارتیاب (شک) اور جدال بالباطل (ناحق جھگڑا) ہی رہ جاتا ہے، کوئی صحیح بات یا نصیحت اس پر اثر نہیں کرتی اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اسے ہدایت کی توفیق دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ» [الصف: ۵] ”پھر جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے۔“ اور فرمایا: «وَ نُقَلِّبُ اَفْـِٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [الأنعام: ۱۱۰] ”اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے، جیسے وہ اس پر پہلی بار ایمان نہیں لائے اور انھیں چھوڑ دیں گے، اپنی سر کشی میں بھٹکتے پھریں گے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر وصفَ المسرف الكذاب، فقال: {الذين يجادلونَ في آياتِ الله}: التي بينت الحقَّ من الباطل وصارت من ظهورها بمنزلة الشمس للبصر؛ فهم يجادلون فيها على وضوحها لِيَدْفَعوها ويُبْطِلوها {بغير سلطانٍ أتاهم}؛ أي: بغير حجَّة وبرهان، وهذا وصفٌ لازمٌ لكلِّ من جادل في آيات الله؛ فإنَّه من المحال أن يجادلَ بسلطان؛ لأن الحقَّ لا يعارضه معارضٌ؛ فلا يمكن أن يعارضَ بدليل شرعيِّ أو عقليٍّ أصلاً. {كَبُرَ}: ذلك القول المتضمِّن لردِّ الحقِّ بالباطل {مقتاً عند الله وعند الذين آمنوا}: فالله أشدُّ بغضاً لصاحبه؛ لأنَّه تضمَّن التكذيب بالحقِّ والتصديق بالباطل ونسبته إليه، وهذه أمورٌ يشتدُّ بغض الله لها ولمن اتَّصف بها، وكذلك عباده المؤمنون يمقتون على ذلك أشدَّ المقت موافقةً لربهم، وهؤلاء خواصُّ خلق الله تعالى؛ فمقتُهم دليلٌ على شناعة مَن مقتوه. {كذلك}؛ أي: كما طبع على قلوب آل فرعون، {يطبعُ الله على كلِّ قلبِ متكبرٍ جبارٍ}: متكبر في نفسه على الحقِّ بردِّه وعلى الخلق باحتقارِهِم، جبارٍ بكثرة ظلمه وعدوانه.