تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ:} اس کا مادہ {” نَبْطٌ “} ہے۔{ ” نَبْطٌ “} وہ پانی ہے جو کنواں کھودتے وقت سب سے پہلے نکلتا ہے، اس لیے{ ”استنباط “} تحقیق اور بات کی تہ تک پہنچنے کو کہا جاتا ہے، اسی طرح مخفی بات کی حقیقت معلوم اور ظاہر کرنے کو بھی {” نَبْطٌ “ } اور { ”اِسْتِنْبَاطٌ“ } کہا جاتا ہے۔ کان کی گہرائی سے کوئی معدن نکالنے کو بھی {”اِسْتِنْبَاطٌ“} کہتے ہیں۔ «{ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ}» مسلمانوں سے کہا جا رہاہے کہ اگر امن یا خوف کی وہ خبر بلاتحقیق پھیلانے کے بجائے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے امراء کو پہنچاتے تو سب سے پہلے وہ غور و خوض اور تحقیق کر کے معلوم کرتے کہ خبر صحیح بھی ہے یا غلط، کیونکہ بلا تحقیق آگے بات کرنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا: [كَفٰي بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُّحَدِّثَ بِكُلِّ مَّا سَمِعَ] [مسلم، المقدمۃ، باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع: ۵]”آدمی کو جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو کچھ سنے (بلاتحقیق) آگے بیان کر دے۔“ پھر وہ ذمے دار حضرات فیصلہ کرتے کہ اس خبر کی اشاعت کرنی چاہیے یا نہیں، اس کے بعد اگر وہ قابل اشاعت ہوتی تو اسے نشر کرتے، ورنہ روک دیتے۔ انفرادی زندگی میں عموماً اور اجتماعی زندگی میں خصوصاً اس ہدایت پر عمل نہایت ضروری ہے، ورنہ اس بے احتیاطی کے بے حد نقصانات ہو سکتے ہیں، بالخصوص جنگ کے ایام میں، جب خبریں اور افواہیں فوجی کارروائیوں سے بڑھ کر تاثیر رکھتی ہیں، خبروں کے محاذ کو بھی جنگ کا زبردست محاذ سمجھ کر اس کے مطابق معاملہ کرنا چاہیے۔
➌ { اِلَّا قَلِيْلًا:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ جو فرمایا: ” اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا تو شیطان کے پیچھے چلتے مگر تھوڑے“ یعنی ہر وقت احکام تربیت کے نہ پہنچتے رہیں تو کم لوگ ہدایت پر قائم رہیں۔ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[مسلم، کتاب الطلاق۔ باب فی الایلاء]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کی یہی دلیل کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے“
[مسلم، مقدمہ، باب النھی عن الحدیث بکل ماسمع]
[116] یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی ہدایات وقت پر نہ دیتا تو تم افواہوں کی رو میں بہہ جاتے اور دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے نقصان اٹھاتے۔ ضمناً اس سے یہ معلوم ہوا کہ افواہوں کی تحقیق کیے بغیر انہیں آگے بیان کر دینا شیطان کی اطاعت ہے جس سے طرح طرح کے فتنے رونما ہو سکتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ اس پاک کتاب کا ایسی متضاد باتوں سے بچا ہونا اس سچائی کی صاف دلیل ہے کہ یہ اللہ قادر و مطلق کا کلام ہے۔ اور جگہ ہے پختہ عالموں کا قول بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، «آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا» ۱؎ [3-آل عمران:7] یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے یعنی محکم اور متشابہ کو محکم کی طرف لوٹا دیتے ہیں اور ہدایت پالیتے ہیں اور جن کے دلوں میں کجی ہے بد نیتی ہے وہ محکم متشابہ کی طرف موڑ توڑ کرکے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے صحیح مزاج والوں کی تعریف کی اور دوسری قسم کے لوگوں کی برائی بیان فرمائی۔
عمرو بن شعیب سے مروی ہے «عَـنْ اَبِـیْـہِ عَـنْ جَـدِّہِ» والی حدیث میں ہے کہ میں ہے کہ میں اور میرے بھائی ایک ایسی مجلس میں شامل ہوئے کہ اس کے مقابلہ میں سرخ اونٹوں کا مل جانا بھی اس کے پاسنگ برابر بھی قیمت نہیں رکھتا ہم دونوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر چند بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوئے ہیں ہم ادب کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گئے ان میں قرآن کریم کی کسی آیت کی بابت مذاکرہ ہو رہا تھا جس میں اختلافی مسائل بھی تھے آخر بات بڑھ گئی اور زور زور سے آپس میں بات چیت ہونے لگی۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سن کر سخت غضبناک ہو کرباہر تشریف لائے چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ان پر مٹی ڈالتے ہوئے فرمانے لگے خاموش رہو تم سے اگلی امتیں اسی باعث تباہ و برباد ہو گئیں، کہ انہوں نے اپنے انبیاء سے اختلاف کیا اور کتاب اللہ کی ایک آیت کو دوسری آیت کے خلاف سمجھایاد رکھو قرآن کی کوئی آیت دوسری آیت کے خلاف اسے جھٹلانے والی نہیں بلکہ قرآن کی ایک ایک آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے تم جسے جان لو عمل کرو جسے نہ معلوم کر سکو اس کے جاننے والے کے لیے چھوڑ دو۔ } ۱؎ [مسند احمد:181/2،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
پھر ان جلد باز لوگوں کو روکا جا رہا ہے جو کسی امن یا خوف کی خبر پاتے ہی بے تحقیق بات ادھر سے ادھر تک پہنچا دیتے ہیں حالانکہ ممکن ہے وہ بالکل ہی غلط ہو۔
اور صحیح حدیث میں ہے ’ جو شخص کوئی بات بیان کرے اور وہ گمان کرتا ہو کہ یہ غلط ہے وہ بھی جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا ہے۔ ‘ ۱؎ [صحیح مسلم:1] یہاں پر ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی روایت کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ جب انہیں یہ خبری پہنچی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو آپ اپنے گھر سے چلے مسجد میں آئے یہاں بھی لوگوں کو یہی کہتے سنا تو بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور خود آپ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے؟ کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی؟ آپ نے فرمایا غلط ہے چنانچہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اللہ کی بڑائی بیان کی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:89]
صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر بہ آواز بلند فرمایا لوگو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1479] پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہوں نے اس معاملہ کی تحقیق کی۔
علمی اصطلاح میں «استنباط» کہتے ہیں کسی چیز کو اس کے منبع اور مخزن سے نکالنا مثلاً جب کوئی شخص کسی کان کو کھود کر اس کے نیجے سے کوئی چیز نکالے تو عرب کہتے ہیں «اِستَـْنـَبطَ الرَّجُـلُ» ۔ پھر فرماتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو تم سب کے سب سوائے چند کامل ایمان والوں کے شیطان کے تابعدار بن جاتے۔ ایسے موقعوں پر محاورۃً معنی ہوتے ہیں کہ تم کل کے کل شامل ہو چنانچہ عرب کے ایسے شعر بھی ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا تأديبٌ من الله لعبادِهِ عن فعلهم هذا غير اللائق، وأنه ينبغي لهم إذا جاءهم أمرٌ من الأمور المهمَّة والمصالح العامَّة ما يتعلَّق بالأمن وسرور المؤمنين أو بالخوف الذي فيه مصيبةٌ عليهم أن يتثبَّتوا ولا يستعجِلوا بإشاعة ذلك الخبر، بل يردُّونه إلى الرسول وإلى أولي الأمر منهم أهل الرأي والعلم والنُّصح والعقل والرزانة الذين يعرفونَ الأمور ويعرفون المصالح وضدَّها؛ فإنْ رأوا في إذاعته مصلحة ونشاطاً للمؤمنين وسروراً لهم وتحرُّزاً من أعدائِهِم؛ فعلوا ذلك، وإن رأوا [أنه ليس] فيه مصلحةٌ، أو فيه مصلحة ولكن مضرَّته تزيد على مصلحتِهِ؛ لم يذيعوهُ. ولهذا قال: {لَعَلِمَهُ الذين يستنبطونَه منهم}؛ أي: يستخِرجونه بفِكْرهم وآرائهم السَّديدة وعلومهم الرشيدة.
وفي هذا دليلٌ لقاعدةٍ أدبيَّة، وهي أنه إذا حَصَلَ بحثٌ في أمر من الأمور؛ ينبغي أن يُوَلَّى مَن هو أهلٌ لذلك، ويُجْعَلَ إلى أهله، ولا يُتَقَدَّم بين أيديهم؛ فإنه أقرب إلى الصواب وأحرى للسلامة من الخطأ.
وفيه النهي عن العجلة والتسرُّع لنشر الأمور من حين سماعها، والأمر بالتأمُّل قبل الكلام والنظر فيه؛ هل هو مصلحةٌ فيقْدِمُ عليه الإنسان أم لا فيُحْجِمُ عنه؟
ثم قال تعالى: {ولولا فضلُ الله عليكم ورحمتُهُ}؛ أي: في توفيقِكم وتأديبِكم وتعليمِكم ما لم تكونوا تعلمون، {لاتَّبعتم الشيطانَ إلَّا قليلاً}؛ لأنَّ الإنسان بطبعِهِ
ظالمٌ جاهلٌ فلا تأمرُهُ نفسُه إلاَّ بالشَّرِّ؛ فإذا لجأ إلى ربِّه، واعتصم به، واجتهدَ في ذلك؛ لَطَفَ به ربُّه، ووفَّقه لكلِّ خيرٍ، وعصمَه من الشيطان الرجيم.