تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا: } اللہ تعالیٰ کے لیے {”عَسَى“} کا لفظ یقین کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، پس آیت میں وعدہ کیا جا رہا ہے کہ عنقریب کفار کا زور ٹوٹ جائے گا اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند احمد میں اتنا اور بھی ہے کہ مشرکین پر تنہا حملہ کرنے والا ہلاکت کی طرف بڑھنے والا نہیں بلہ اس سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے رکنے والا ہے۔ [مسند احمد:281/4:حسن] اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت ہلاکت اتری تو { آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا مجھے میرے رب نے جہاد کا حکم دیا ہے پس تم بھی جہاد کرو } یہ حدیث غریب ہے۔ ۱؎ [الدر المنثور للسیوطی:335/2:ضعیف]
مسلم کی حدیث میں ہے { جو شخص اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول و نبی ہونے پر راضی ہو جائے اس کے لیے جنت واجب ہے } سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اسے سن کر خوش ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ارشاد ہو { آپ نے دوبارہ اسی کو بیان فرما کر کہا ایک اور عمل ہے جس کے باعث اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے سو درجے بلند کرتا ہے ایک درجے سے دوسرے درجے تک اتنی بلندی ہے جتنی آسمان و زمین کے درمیان ہے پوچھا وہ عمل کیا ہے؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1884]
جیسے اور آیت میں ہے۔ «وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ» ۱؎ [47-محمد:4] ’ اگر اللہ چاہے ان سے از خود بدلہ لے لے، لیکن وہ ان کو اور تمہیں آزما رہا ہے۔ ‘ جو شخص کسی امر خیر میں کوشش کرے تو اسے بھی اس خیر بھلائی کا ثواب ملے گا، اور جو اس کے خلاف کوشش کرے اور بد نتیجہ برآمد کرے اس کی کوشش اور نیت کا اس پر بھی ویسا ہی بوجھ ہو گا۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سفارش کرو اجر پاؤ گے اور اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر وہ جاری کرے گا جو چاہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1432]
یہ آیت ایک دوسرے کی سفارش کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس مہربانی کو دیکھئیے فرمایا محض شفاعت پر ہی اجر مل جائے گا خواہ اس سے کام بنے یا نہ بنے، اللہ ہرچیز کا حافظ ہے، ہرچیز پر حاضر ہے، ہرچیز کا حساب لینے والا ہے، ہرچیز پر قادر ہے، ہرچیز کو دوام بخشنے والا ہے، ہر ایک کو روزی دینے والا ہے، ہر انسان کے اعمال کا اندازہ کرنے والا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الحالة أفضل أحوال العبد؛ أن يجتهدَ في نفسه على امتثال أمر الله من الجهاد وغيره، ويحرِّض غيره عليه، وقد يعدم في العبد الأمران أو أحدهما؛ فلهذا قال [اللهُ] لرسوله: {فقاتِلْ في سبيل الله لا تُكَلَّفُ إلا نفسَك}؛ أي: ليس عليك قدرة على غير نفسك، فلن تُكَلَّفَ بفعل غيرك. {وحرِّضِ المؤمنين} على القتال، وهذا يشمل كلَّ أمر يحصُل به نشاط المؤمنين وقوَّة قلوبهم؛ من تقويتهم، والإخبار بضَعْف الأعداء وفشلهم، وبما أعدَّ الله للمقاتلين من الثواب، وما على المتخلِّفين من العقاب؛ فهذا وأمثاله كلُّه يدخُل في التحريض على القتال. {عسى الله أن يكفَّ بأس الذين كفروا}؛ أي: بقتالِكم في سبيل الله وتحريض بعضِكم بعضاً. {والله أشدُّ بأساً}؛ أي: قوة وعزَّة، {وأشدُّ تنكيلاً}: بالمذنب في نفسه وتنكيلاً لغيره؛ فلو شاء تعالى؛ لانتصر من الكفار بقوَّته، ولم يجعلْ لهم باقيةً، ولكن من حكمتِهِ يبلو بعض عبادِهِ ببعض؛ ليقوم سوق الجهاد، ويحصُل الإيمان النافع إيمان الاختيار لا إيمان الاضطرار، والقَهْر الذي لا يفيدُ شيئاً.