تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں تدبر کے بغیر انسان کے شکوک و شبہات دور نہیں ہو سکتے اور نہ قرآن صحیح طور پر سمجھ میں آ سکتا ہے۔ قرآنِ کریم اگر غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں اختلافِ کثیر ہوتا، اب یہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لیے اختلافِ کثیر کجا، سرے سے اس میں اختلاف ہے ہی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ ایک آیت میں ہے
﴿فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَيِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ﴾
(قیامت کے دن ان میں کوئی رشتہ حائل نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے) اور دوسرے مقام پر ہے
﴿وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَليٰ بَعْضٍ يَّتَسَاءَلُوْنَ﴾
(ان میں سے کچھ ان کے سامنے آکر ایک دوسرے سے سوال کریں گے)
2۔ ایک آیت میں ہے
﴿وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا﴾
(وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے) اور دوسری آیت میں ہے کہ قیامت کے دن مشرکین کہیں گے
﴿وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ﴾
(اللہ کی قسم! ہم شرک نہیں کیا کرتے تھے) گویا وہ اصل بات چھپائیں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا
﴿ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ ۭ بَنيٰهَا .... دحٰها﴾
تک۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی پیدائش زمین سے پہلے ہوئی اور سورۃ حٰم السجدہ میں فرمایا
﴿قُلْ اَيِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَهٗٓ اَنْدَادًا ۭذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ﴾
اس سے یہ معلوم ہوا کہ زمین آسمان سے پہلے پیدا ہوئی۔
4۔ نیز فرمایا
﴿ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْراً رَّحِيْماً.. عَزِيْزاً حَكِيْماً.. سَمِيْعاً بَصِيْراً﴾
ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان صفات سے زمانہ ماضی میں موصوف تھا مگر اب نہیں۔ سیدنا ابن عباسؓ نے ان سوالوں کے جواب میں فرمایا:
1۔ ﴿فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ﴾ میں اس وقت کا ذکر ہے جب پہلی دفعہ صور پھونکا جائے گا اور آسمان و زمین والے سب بے ہوش ہو جائیں گے اس وقت نہ کوئی رشتہ ناطہ رہے گا اور نہ ایک دوسرے سے کچھ بھی پوچھنے کا ہوش ہو گا۔ اور دوسری آیت میں جو ایک دوسرے سے سوال کرنے کا ذکر ہے یہ دوسرے نفخۂ صور کے بعد ہو گا۔
2۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اخلاص والوں (موحدین) کے گناہ بخش دے گا تو مشرک آپس میں صلاح کریں گے کہ چلو ہم بھی جا کر کہہ دیتے ہیں کہ ”ہم مشرک نہیں تھے“ تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں بولنا شروع کر دیں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائی نہیں جا سکتی۔ یہی وہ وقت ہو گا کہ جب کافر یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ (دنیا میں) مسلمان ہوتے۔
3۔
4۔ «كَانَ» کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفات ازلی ہیں اور یہ سب اس کے نام ہیں یعنی وہ ہمیشہ سے ان صفات کا ملک ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔۔ گویا اب کوئی اختلاف نہ رہا۔ اور ہو بھی کیسے سکتا ہے جبکہ یہ سارا قرآن اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے
[بخاری، کتاب التفسیر سورۃ حٰم السجدہ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ اس پاک کتاب کا ایسی متضاد باتوں سے بچا ہونا اس سچائی کی صاف دلیل ہے کہ یہ اللہ قادر و مطلق کا کلام ہے۔ اور جگہ ہے پختہ عالموں کا قول بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، «آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا» ۱؎ [3-آل عمران:7] یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے یعنی محکم اور متشابہ کو محکم کی طرف لوٹا دیتے ہیں اور ہدایت پالیتے ہیں اور جن کے دلوں میں کجی ہے بد نیتی ہے وہ محکم متشابہ کی طرف موڑ توڑ کرکے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے صحیح مزاج والوں کی تعریف کی اور دوسری قسم کے لوگوں کی برائی بیان فرمائی۔
عمرو بن شعیب سے مروی ہے «عَـنْ اَبِـیْـہِ عَـنْ جَـدِّہِ» والی حدیث میں ہے کہ میں ہے کہ میں اور میرے بھائی ایک ایسی مجلس میں شامل ہوئے کہ اس کے مقابلہ میں سرخ اونٹوں کا مل جانا بھی اس کے پاسنگ برابر بھی قیمت نہیں رکھتا ہم دونوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر چند بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوئے ہیں ہم ادب کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گئے ان میں قرآن کریم کی کسی آیت کی بابت مذاکرہ ہو رہا تھا جس میں اختلافی مسائل بھی تھے آخر بات بڑھ گئی اور زور زور سے آپس میں بات چیت ہونے لگی۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سن کر سخت غضبناک ہو کرباہر تشریف لائے چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ان پر مٹی ڈالتے ہوئے فرمانے لگے خاموش رہو تم سے اگلی امتیں اسی باعث تباہ و برباد ہو گئیں، کہ انہوں نے اپنے انبیاء سے اختلاف کیا اور کتاب اللہ کی ایک آیت کو دوسری آیت کے خلاف سمجھایاد رکھو قرآن کی کوئی آیت دوسری آیت کے خلاف اسے جھٹلانے والی نہیں بلکہ قرآن کی ایک ایک آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے تم جسے جان لو عمل کرو جسے نہ معلوم کر سکو اس کے جاننے والے کے لیے چھوڑ دو۔ } ۱؎ [مسند احمد:181/2،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
پھر ان جلد باز لوگوں کو روکا جا رہا ہے جو کسی امن یا خوف کی خبر پاتے ہی بے تحقیق بات ادھر سے ادھر تک پہنچا دیتے ہیں حالانکہ ممکن ہے وہ بالکل ہی غلط ہو۔
اور صحیح حدیث میں ہے ’ جو شخص کوئی بات بیان کرے اور وہ گمان کرتا ہو کہ یہ غلط ہے وہ بھی جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا ہے۔ ‘ ۱؎ [صحیح مسلم:1] یہاں پر ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی روایت کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ جب انہیں یہ خبری پہنچی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو آپ اپنے گھر سے چلے مسجد میں آئے یہاں بھی لوگوں کو یہی کہتے سنا تو بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور خود آپ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے؟ کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی؟ آپ نے فرمایا غلط ہے چنانچہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اللہ کی بڑائی بیان کی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:89]
صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر بہ آواز بلند فرمایا لوگو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1479] پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہوں نے اس معاملہ کی تحقیق کی۔
علمی اصطلاح میں «استنباط» کہتے ہیں کسی چیز کو اس کے منبع اور مخزن سے نکالنا مثلاً جب کوئی شخص کسی کان کو کھود کر اس کے نیجے سے کوئی چیز نکالے تو عرب کہتے ہیں «اِستَـْنـَبطَ الرَّجُـلُ» ۔ پھر فرماتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو تم سب کے سب سوائے چند کامل ایمان والوں کے شیطان کے تابعدار بن جاتے۔ ایسے موقعوں پر محاورۃً معنی ہوتے ہیں کہ تم کل کے کل شامل ہو چنانچہ عرب کے ایسے شعر بھی ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى بتدبُّر كتابه، وهو التأمُّل في معانيه وتحديق الفكر فيه وفي مبادئِهِ وعواقبه ولوازم ذلك؛ فإنَّ في تدبُّر كتاب الله مفتاحاً للعلوم والمعارف، وبه يُسْتَنْتَجُ كلُّ خير وتستخرجُ منه جميعُ العلوم، وبه يزداد الإيمان في القلب وترسَخُ شجرته؛ فإنَّه يعرِّف بالربِّ المعبود وما له من صفات الكمال وما يُنَزَّهُ عنه من سماتِ النقص، ويعرِّف الطريقَ الموصلة إليه وصِفَةَ أهلها وما لهم عند القدوم عليه، ويعرِّف العدوَّ الذي هو العدوُّ على الحقيقة والطريقَ الموصلة إلى العذاب وصفة أهلها وما لهم عند وجود أسباب العقاب. وكلَّما ازداد العبد تأمُّلاً فيه؛ ازداد علماً وعملاً وبصيرةً، لذلك أمر الله بذلك وحثَّ عليه وأخبر أنه هو المقصود بإنزال القرآن؛ كما قال تعالى: {كتابٌ أنزلناه إليك مُبارَكٌ ليدَّبَّروا آياتِهِ وليتذكَّرَ أُولو الألبابِ}؛ وقال تعالى: {أفلا يتدبَّرون القرآن أم على قُلوبٍ أقفالُها}.
ومن فوائدِ التدبُّر لكتاب الله أنَّه بذلك يصل العبدُ إلى درجة اليقين والعلم بأنَّه كلام الله؛ لأنَّه يراه يصدِّق بعضُه بعضاً، ويوافق بعضُه بعضاً، فترى الحِكَمَ والقصةَ والإخبارات تُعاد في القرآن في عِدَّة مواضع، كلُّها متوافقة متصادقة، لا ينقُض بعضُها بعضاً؛ فبذلك يُعلم كمال القرآن، وأنَّه من عند مَن أحاط علمُهُ بجميع الأمور؛ فلذلك قال تعالى: {ولو كانَ مِن عندِ غيرِ الله لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً}؛ أي: فلما كان من عند الله، لم يكن فيه اختلافٌ أصلاً.