تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 83

وَ اِذَا جَآءَہُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَوۡفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ وَ لَوۡ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنۡہُمۡ ؕ وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّیۡطٰنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۳﴾
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کا کوئی معاملہ آتا ہے اسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر وہ اسے رسول کی طرف اور اپنے حکم دینے والوں کی طرف لوٹاتے تو وہ لوگ اسے ضرور جان لیتے جو ان میں سے اس کا اصل مطلب نکالتے ہیں، اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو بہت تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔ En
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے
En
جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا، حاﻻنکہ اگر یہ لوگ اسے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے، تو اس کی حقیقت وه لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوه تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے ایک غیر مناسب فعل پر تادیب ہے۔ اہل ایمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی اہم معاملہ آئے جس کا تعلق مصالح عامہ، امن اور اہل ایمان کی خوشی کے ساتھ ہو یا اس کا تعلق کسی خوف سے ہو جس کے اندر کوئی مصیبت پوشیدہ ہو تو اس کو اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں اور اس خبر کی اشاعت میں عجلت سے کام نہ لیں۔ بلکہ وہ اس خبر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اصحاب امر، اہل رائے، اہل علم، خیر خواہی کرنے والوں، عقلمندوں، سنجیدہ اور باوقار لوگوں کی طرف لوٹائیں جو ان تمام امور کی معرفت رکھتے ہیں جو مسلمانوں کے مصالح اور ان کے اضداد کی پہچان رکھتے ہیں۔ اگر وہ اس خبر کی اشاعت میں کوئی مصلحت، اہل ایمان کے لیے سرور و نشاط کا کوئی پہلو اور ان کے دشمنوں سے بچاؤ کی کوئی بات دیکھیں تو وہ ضرور ایسا کریں۔ اگر وہ یہ دیکھیں کہ اس میں مسلمانوں کی کوئی مصلحت نہیں ہے یا اس میں مصلحت تو ہے مگر اس کی مضرت اس مصلحت پر حاوی ہے تو وہ اس خبر کو نہ پھیلائیں۔
بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کرلیتے۔ یعنی وہ اپنے غور و فکر، درست آراء اور صحیح راہنمائی کرنے والے علوم کے ذریعے سے درست نتائج کا استخراج کر لیں گے۔ اس آیت کریمہ میں ادب و احترام کے ایک قاعدہ پر دلیل ہے کہ جب کسی معاملے میں بحث اور تحقیق مطلوب ہو تو مناسب یہ ہے کہ معاملہ اس شخص کے سپرد کر دیا جائے جو ذمے دار ہے اور وہ اس معاملے کو تحقیق کے لیے ایسے شخص کے حوالے کر دے جو اس کی اہلیت رکھتا ہے اور ان ذمہ دار اصحاب کی تحقیق سے پہلے کسی رائے کا اظہار نہ کریں۔ یہ طریق کار زیادہ قرین صواب اور خطا سے زیادہ محفوظ ہے۔ اس میں کسی معاملے کو سنتے ہی اس کو پھیلانے میں عجلت اور جلدی کرنے کی ممانعت کی بھی دلیل ہے نیز حکم ہے کہ بولنے سے پہلے اس معاملے میں خوب غور و فکر کر لیا جائے کہ آیا اس میں کوئی مصلحت ہے کہ انسان آگے بڑھ کر کوئی اقدام کرے یا کوئی مصلحت نہیں ہے کہ انسان پیچھے ہٹ جائے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی۔ یعنی تمھیں توفیق عطا کرنے، ادب سکھانے اور ان امور کی تعلیم دینے میں جو تم نہ جانتے تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی ﴿ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّ٘یْطٰ٘نَ اِلَّا قَلِیْلًا تو چند لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے کیونکہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ظالم اور جاہل ہے، پس اس کا نفس اسے شر کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔ بندہ جب اپنے رب کے پاس پناہ لیتا ہے اور اس کی پناہ میں آ کر گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنے لطف و کرم کے دروازے کھول دیتا ہے اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا کرتا ہے اور اسے شیطان مردود سے بچاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا تأديبٌ من الله لعبادِهِ عن فعلهم هذا غير اللائق، وأنه ينبغي لهم إذا جاءهم أمرٌ من الأمور المهمَّة والمصالح العامَّة ما يتعلَّق بالأمن وسرور المؤمنين أو بالخوف الذي فيه مصيبةٌ عليهم أن يتثبَّتوا ولا يستعجِلوا بإشاعة ذلك الخبر، بل يردُّونه إلى الرسول وإلى أولي الأمر منهم أهل الرأي والعلم والنُّصح والعقل والرزانة الذين يعرفونَ الأمور ويعرفون المصالح وضدَّها؛ فإنْ رأوا في إذاعته مصلحة ونشاطاً للمؤمنين وسروراً لهم وتحرُّزاً من أعدائِهِم؛ فعلوا ذلك، وإن رأوا [أنه ليس] فيه مصلحةٌ، أو فيه مصلحة ولكن مضرَّته تزيد على مصلحتِهِ؛ لم يذيعوهُ. ولهذا قال: {لَعَلِمَهُ الذين يستنبطونَه منهم}؛ أي: يستخِرجونه بفِكْرهم وآرائهم السَّديدة وعلومهم الرشيدة.

وفي هذا دليلٌ لقاعدةٍ أدبيَّة، وهي أنه إذا حَصَلَ بحثٌ في أمر من الأمور؛ ينبغي أن يُوَلَّى مَن هو أهلٌ لذلك، ويُجْعَلَ إلى أهله، ولا يُتَقَدَّم بين أيديهم؛ فإنه أقرب إلى الصواب وأحرى للسلامة من الخطأ.

وفيه النهي عن العجلة والتسرُّع لنشر الأمور من حين سماعها، والأمر بالتأمُّل قبل الكلام والنظر فيه؛ هل هو مصلحةٌ فيقْدِمُ عليه الإنسان أم لا فيُحْجِمُ عنه؟

ثم قال تعالى: {ولولا فضلُ الله عليكم ورحمتُهُ}؛ أي: في توفيقِكم وتأديبِكم وتعليمِكم ما لم تكونوا تعلمون، {لاتَّبعتم الشيطانَ إلَّا قليلاً}؛ لأنَّ الإنسان بطبعِهِ

ظالمٌ جاهلٌ فلا تأمرُهُ نفسُه إلاَّ بالشَّرِّ؛ فإذا لجأ إلى ربِّه، واعتصم به، واجتهدَ في ذلك؛ لَطَفَ به ربُّه، ووفَّقه لكلِّ خيرٍ، وعصمَه من الشيطان الرجيم.