تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے جو بھی منہ موڑ کر بیٹھ جائے تو اس کا گناہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر نہیں آپ کا ذمہ تو طرف پہنچا دینا ہے، جو نیک نصیب ہوں گے مان لیں گے نجات اور اجر حاصل کر لیں گے ہاں ان کی نیکیوں کا ثواب آپ کو بھی ہو گا کیونکہ دراصل اس راہ کا راہبر اس نیکی کے معلم آپ ہی ہیں۔ اور جو نہ مانے نہ عمل کرے تو نقصان اٹھائے گا بدنصیب ہو گا اپنے بوجھ سے آپ مرے گا اس کا گناہ آپ پر نہیں اس لیے کہ آپ نے سمجھانے بجھانے اور راہ حق دکھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ حدیث میں ہے { اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے ولا رشد وہدایت والا ہے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان اپنے ہی نفس کو ضرر و نقصان پہنچانے والا ہے۔} ۱؎ [سنن ابوداود:1097،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کی ان پوشیدہ چالاکیوں اور چالوں کو بخوبی جانتا ہے اس کے مقرر کردہ زمین کے فرشتے ان کی سب کرتوتوں اور ان کی تمام باتوں کو اس کے حکم سے ان کے نامہ اعمال میں لکھ رہے ہیں، پس انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ یہ کیا بیہودہ حرکت ہے؟ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اس سے تمہاری کوئی بات چھپ سکتی ہے؟ تم کیوں ظاہر و باطن یکساں نہیں رکھتے، ظاہر باطن کا جاننے والا تمہیں تمہاری اس بیہودہ حرکت پر سخت سزا دے گا۔
ایک اور آیت میں بھی منافقوں کی اس خصلت کا بیان ان الفاظ میں فرمایا ہے «وَيَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [24-النور:47] پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان سے درگزر کیجئے، بردباری برتئیے، ان کی خطا معاف کیجئے، ان کا حال ان کے نام سے دوسروں سے نہ کہئے، ان سے بالکل بے خوف رہیے اللہ پر بھروسہ کیجئے جو اس پر بھروسہ کرے جو اس کی طرف رجوع کرے اسے وہی کافی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولا بدَّ أن تكون طاعةُ الله ورسولِهِ ظاهراً وباطناً في الحضرة والمغيبِ، فأمّا من يُظْهِرُ في الحضرة الطاعةَ والالتزامَ؛ فإذا خلا بنفسِهِ أو أبناء جنسِهِ؛ تَرَكَ الطاعة وأقبل على ضِدِّها؛ فإنَّ الطاعة التي أظهرها غيرُ نافعةٍ ولا مفيدةٍ، وقد أشبهَ مَن قال الله فيهم: {ويقولونَ طاعةٌ}؛ أي: يظهِرونَ الطاعةَ إذا كانوا عندك؛ {فإذا بَرَزوا من عندِكَ}؛ أي: خرجوا وخَلَوا في حالة لا يُطَّلع فيها عليهم، {بَيَّت طائفةٌ منهم غير الذي تقول}؛ أي: بيَّتوا ودبَّروا غير طاعتِك ولا ثمَّ إلا المعصية. وفي قوله: {بَيَّتَ طائفةٌ منهم غيرَ الذي تقول}: دليلٌ على أنَّ الأمر الذي استقرُّوا عليه غيرُ الطاعة؛ لأنَّ التبييت تدبيرُ الأمر ليلاً على وجهٍ يستقرُّ عليه الرأي. ثم توعَّدهم على ما فَعلوا، فقال: {والله يكتُبُ ما يُبَيِّتونَ}؛ أي: يحفظه عليهم وسيجازيهم عليه أتمَّ الجزاء؛ ففيه وعيدٌ لهم. ثم أمر رسوله بمقابلتهم بالإعراض وعدم التعنيف؛ فإنهم لا يضرُّونه شيئاً إذا توكَّل على الله واستعان به في نصر دينِهِ وإقامة شرعِهِ، ولهذا قال: {فأعرِضْ عنهم وتوكَّل على الله وكفى باللهِ وكيلاً}.