تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 81

وَ یَقُوۡلُوۡنَ طَاعَۃٌ ۫ فَاِذَا بَرَزُوۡا مِنۡ عِنۡدِکَ بَیَّتَ طَآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ غَیۡرَ الَّذِیۡ تَقُوۡلُ ؕ وَ اللّٰہُ یَکۡتُبُ مَا یُبَیِّتُوۡنَ ۚ فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿۸۱﴾
اور وہ کہتے ہیں اطاعت ہوگی، پھر جب تیرے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کو اس کے خلاف مشورے کرتا ہے جو وہ کہہ رہا تھا اور اللہ لکھ رہا ہے جو وہ رات کو مشورے کرتے ہیں۔ پس ان سے منہ موڑ لے اور اللہ پر بھروسا کر اور اللہ کافی وکیل ہے۔ En
اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے
En
یہ کہتے تو ہیں کہ اطاعت ہے، پھر جب آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر نکلتے ہیں تو ان میں کی ایک جماعت، جو بات آپ نے یا اس نے کہی ہے اس کے خلاف راتوں کو مشورے کرتی ہے، ان کی راتوں کی بات چیت اللہ لکھ رہا ہے، تو آپ ان سے منھ پھیر لیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، اللہ تعالیٰ کافی کارساز ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نیز یہ بھی لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ظاہر و باطن اور جلوت و خلوت میں ہو۔ رہا وہ شخص جو لوگوں کے سامنے اطاعت اور التزام کا اظہار کرتا ہے اور جب تنہا ہوتا ہے یا اپنے ہم مشرب ٹولے کے ساتھ ہوتا ہے تو اطاعت ترک کر دیتا ہے اور ایسے کام کرتا ہے جو اطاعت کی ضد ہوتے ہیں تو ایسی اطاعت جس کا اس نے اظہار کیا ہے اس کے لیے نفع مند اور مفید نہیں ہے۔ اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَیَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ وہ کہتے ہیں مان لیا۔ یعنی جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں تو اطاعت کا اظہار کرتے ہیں ﴿ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ جب وہ آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں یعنی تنہا ہوتے ہیں اور ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی اس حالت سے مطلع نہیں ہوتا ﴿ بَیَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ مشورہ کرتے ہیں رات کو کچھ لوگ ان میں سے اس کے خلاف جو آپ کہتے ہیں۔ تو رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں اور وہاں ان کے پاس نافرمانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بَیَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وہ معاملہ جس کو انھوں نے دائمی وتیرہ بنایا ہوا تھا وہ عدم اطاعت کا رویہ تھا۔ کیونکہ (تَبْیِیْت) سے مراد رات کے وقت اس طرح معاملات کی تدبیر کرنا ہے کہ اس پر رائے کا استقرار ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ان کارستانیوں کو محفوظ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کو ان کارستانیوں کی پوری پوری جزا دے گا یہ ان کے لیے وعید ہے۔
ان کی ان کارستانیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اعراض اور سختی کا حکم دیا ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا، اس کے دین کی نصرت اور اس کی شریعت کے نفاذ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ﴿ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَكَ٘فٰى بِاللّٰهِ وَؔكِیْلًا پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اللہ تعالیٰ کافی کارساز ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولا بدَّ أن تكون طاعةُ الله ورسولِهِ ظاهراً وباطناً في الحضرة والمغيبِ، فأمّا من يُظْهِرُ في الحضرة الطاعةَ والالتزامَ؛ فإذا خلا بنفسِهِ أو أبناء جنسِهِ؛ تَرَكَ الطاعة وأقبل على ضِدِّها؛ فإنَّ الطاعة التي أظهرها غيرُ نافعةٍ ولا مفيدةٍ، وقد أشبهَ مَن قال الله فيهم: {ويقولونَ طاعةٌ}؛ أي: يظهِرونَ الطاعةَ إذا كانوا عندك؛ {فإذا بَرَزوا من عندِكَ}؛ أي: خرجوا وخَلَوا في حالة لا يُطَّلع فيها عليهم، {بَيَّت طائفةٌ منهم غير الذي تقول}؛ أي: بيَّتوا ودبَّروا غير طاعتِك ولا ثمَّ إلا المعصية. وفي قوله: {بَيَّتَ طائفةٌ منهم غيرَ الذي تقول}: دليلٌ على أنَّ الأمر الذي استقرُّوا عليه غيرُ الطاعة؛ لأنَّ التبييت تدبيرُ الأمر ليلاً على وجهٍ يستقرُّ عليه الرأي. ثم توعَّدهم على ما فَعلوا، فقال: {والله يكتُبُ ما يُبَيِّتونَ}؛ أي: يحفظه عليهم وسيجازيهم عليه أتمَّ الجزاء؛ ففيه وعيدٌ لهم. ثم أمر رسوله بمقابلتهم بالإعراض وعدم التعنيف؛ فإنهم لا يضرُّونه شيئاً إذا توكَّل على الله واستعان به في نصر دينِهِ وإقامة شرعِهِ، ولهذا قال: {فأعرِضْ عنهم وتوكَّل على الله وكفى باللهِ وكيلاً}.