تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری، کتاب الادب، باب تسمیۃ الولید]
اور سیدنا عبد اللہ ابن عباسؓ جب یہ آیت پڑھا کرتے تو کہا کرتے کہ ”میں اور میری ماں (دونوں مکہ میں) ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے معذور رکھا۔“ [بخاري، كتاب التفسير] اس آیت میں مسلمانوں کو ایسے ہی کمزور و ناتواں مسلمانوں کی مدد کو پہنچنے اور ایسے ظالموں سے جہاد کر کے انہیں ان کے ظلم سے بچانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مکہ شریف کو اس آیت میں بھی قریہ کہا گیا ہے «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِىَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:13] ’ بہت سی بستیاں اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس بستی سے (یعنی وہاں کے رہنے والوں نے) تمہیں نکالا ‘۔ اسی مکہ کے رہنے والے مسلمان کافروں کے ظلم کے شکایت بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی دعاؤں میں کہہ رہے ہیں کہ اے رب کسی کو اپنی طرف سے ہمارا ولی اور مددگار بنا کر ہماری امداد کو بھیج۔
صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما انہی کمزوروں میں تھے ۱؎ [صحیح بخاری:4587] اور روایت میں ہے کہ آپ نے «اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا» ۱؎ [4-النساء:98] پڑھ کر فرمایا میں اور میری والدہ صاحبہ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4588]
ارشاد ہے: ایماندار اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی رضا جوئی کے لیے جہاد کرتے ہیں اور کفار اطاعت شیطان میں لڑتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیئے کہ شیطان کے دوستوں سے جو اللہ کے دشمن ہیں دل کھول کر جنگ کریں اور یقین مانیں کہ شیطان کے ہتھکنڈے اور اس کے مکر و فریب سب نقش برآب ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا حثٌّ من الله لعبادِهِ المؤمنين وتهييجٌ لهم على القتال في سبيله، وأنَّ ذلك قد تعيَّن عليهم وتوجَّه اللوم العظيم عليهم بتركِهِ، فقال: {وما لكم لا تقاتِلون في سبيل اللهِ}؛ والحالُ أنَّ المستضعفين من الرجال والنساءِ والولدان الذين لا يستطيعونَ حيلةً ولا يهتدونَ سبيلاً، ومع هذا فقد نالهم أعظم الظُّلم من أعدائهم؛ فهم يدعون الله أن يخرِجَهم من هذه القريةِ الظالم أهلُها لأنفسهم بالكفرِ والشركِ، وللمؤمنينَ بالأذى والصدِّ عن سبيل الله، ومنعِهِم من الدعوة لدينهم والهجرة، ويدعونَ الله أن يجعلَ لهم وليًّا ونصيراً يستنقِذُهم من هذه القرية الظالم أهلُها، فصار جهادُكم على هذا الوجه من باب القتال والذَّبِّ عن عَيْلاتِكم وأولادِكم ومحارِمِكم؛ لأنَّ بابَ الجهادِ الذي هو الطمعُ في الكفارِ؛ فإنه وإن كان فيه فضلٌ عظيمٌ ويُلامُ المتخلِّفُ عنه أعظم اللوم ؛ فالجهادُ الذي فيه استنقاذُ المستضعفينَ منكُم أعظمُ أجراً وأكبرُ فائدةً بحيث يكونُ من باب دفع الأعداءِ.