ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 74

فَلۡیُقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یَشۡرُوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا بِالۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ مَنۡ یُّقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیُقۡتَلۡ اَوۡ یَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۷۴﴾
پس لازم ہے کہ اللہ کے راستے میں وہ لوگ لڑیں جو دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے بیچتے ہیں اور جو شخص اللہ کے راستے میں لڑے، پھر قتل کر دیا جائے، یا غالب آجائے تو ہم جلد ہی اسے بہت بڑا اجر دیں گے۔ En
تو جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں اُن کو چاہیئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے اور شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے
En
پس جو لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ چکے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد کرتے ہوئے شہادت پا لے یا غالب آجائے، یقیناً ہم اسے بہت بڑا ﺛواب عنایت فرمائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 74) ➊ {فَلْيُقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} اوپر کی دو آیتوں میں جہاد سے پیچھے رہنے والوں اور دوسروں کو روکنے والوں، یعنی { مُبَطِّئِيْنَ} کی مذمت کے بعد اب مخلصین کو ترغیب دی جا رہی ہے۔{ شَرَي يَشْرِيْ } کے معنی بیچنا اور خریدنا دونوں آتے ہیں، یہاں ترجمہ بیچنے کا کیا گیا ہے اور اکثر مفسرین نے اسے ترجیح دی ہے، لیکن اگر اسے خریدنے کے معنی میں لیا جائے تو آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ جو منافق گھر میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے آخرت کے بدلے دنیا خرید رہے ہیں ان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں اور آخرت کا نقصان کر کے دنیا حاصل نہ کریں۔ (فتح القدیر، طبری)
➋ { فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا:} یعنی مسلمانوں پر لازم ہے کہ دنیا کی زندگی پر نظر نہ رکھیں، بلکہ آخرت کی خواہش رکھیں اور سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں ہر طرح نفع ہے۔ (موضح) مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کے دو ہی نتیجے ہو سکتے ہیں، شہادت یا فتح اور دونوں مسلمانوں کے حق میں خوش کن ہیں، کیونکہ دونوں ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ [التوبۃ: ۵۲] کہہ دے تم ہمارے بارے میں دو بہترین چیزوں میں سے ایک کے سوا کس کا انتظار کرتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے اس شخص کے لیے ضمانت دی ہے جسے اس کے راستے میں جہاد اور اس کے کلمات کی تصدیق کے سوا کوئی چیز نہیں نکالتی کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، یا اس کی رہائش گاہ پر لائے گا جہاں سے وہ نکلا تھا، ساتھ وہ اجر اور غنیمت بھی ہو گی جو اس نے حاصل کی۔ [بخاری، فرض الخمس، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : أحلت لکم الغنائم: ۳۱۲۳، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

74۔ 1 شَرَیٰ یشٰریٰ، کے معنی بیچنے کے بھی آتے ہیں اور خریدنے کے بھی۔ متن میں پہلا ترجمہ اختیار کیا گیا ہے اس اعتبار سے (فلیقاتل) کا فاعل (الَّذِيْنَ يَشْرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا) 4:74 اگر اس کے معنی خریدنے کے کئے جائیں تو اس صورت میں الذین مفعول بنے گا اور فلیقاتل کا فاعل المومن النافر (راہ جہاد میں کوچ کرنے والے مومن) محذوف ہوگا۔ مومن ان لوگوں سے لڑیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا خرید لی۔ یعنی جنہوں نے دنیا کے تھوڑے سے مال کی خاطر اپنے دین کو فروخت کردیا۔ مراد منافقین اور کافرین ہونگے (ابن کثیر نے یہی مفہوم بیان کیا ہے)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ لہٰذا جن لوگوں نے آخرت کے عوض دنیا کی زندگی کو بیچ دیا ہے، انہیں [103] اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں لڑتا ہے پھر خواہ وہ شہید ہو جائے یا غالب آ جائے۔ جلد ہی (دونوں صورتوں میں) ہم اسے بہت بڑا اجر عطا کریں گے
[103] اس آیت میں مسلمانوں کو محض اللہ کی رضا اور اسلام کی سربلندی کی خاطر لڑنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسلمان خواہ لڑائی میں شہید ہو جائے یا بچ کر گھر واپس آ جائے اسے دونوں صورتوں میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
جہاد کی ترغیب، اہمیت اور فوائد:۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ”کوئی شخص مال غنیمت کے لیے لڑتا ہے، کوئی شہرت اور ناموری کے لیے اور کوئی اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے اور کوئی غصے اور قومی حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے۔ ان میں سے کون اللہ کی راہ میں لڑتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کی راہ میں لڑنے والا صرف وہ ہے جس کا مقصد یہ ہو کہ اس سے اللہ کا کلمہ بلند ہو۔“
[بخاری، کتاب الجہاد۔ باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا۔۔ مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا فھو فی سبیل اللہ۔۔ بخاری۔ کتاب العلم۔ باب من سأال و ہو قائم عالما جالسا]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اس حال میں مرے کہ نہ اس نے اللہ کے راستے میں جنگ کی اور نہ ہی کبھی اس کے دل میں اس کا خیال گزرا ہو تو اس کی موت نفاق کی ایک شاخ پر ہو گی۔“
[مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب ذم من مات ولم یغز ولم یحدث نفسہ بالغزو]
3۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ”لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟“ فرمایا ”جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔“
[بخاری، کتاب الجہاد، باب افضل الناس مومن مجاھد بنفسہ و مالہ]
4۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میری امت پر یہ بات گرانبار نہ ہوتی تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا اور میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں۔“
[بخاری، کتاب الایمان، باب الجہاد من الایمان۔۔ مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب فضل الجہاد]
5۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے (بلندی درجات کے حساب سے) مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کیا ہے اور ہر درجے میں اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [بخاري، كتاب الجهاد۔ باب درجات المجاهدين فى سبيل الله۔۔ مسلم، كتاب الامارة۔ باب بيان ما اعد الله تعالىٰ للمجاهد فى الجنة من الدرجات]
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس بندے کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ پھر اسے آگ چھوئے“ [بخاري، كتاب الجهاد، باب من اغبرت قد ماه فى سبيل الله]
7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خوب جان لو! جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ [بخاري، كتاب الجهاد، باب الجنة تحت بارقة السيوف]
8۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام نکلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔“ [بخاري، كتاب الجهاد۔ باب الغدوة والروحة فى سبيل الله مسلم، كتاب الامارة فضل الغدوة والروحة فى سبيل الله]
9۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ کی راہ میں خالصتاً جہاد کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے نکلے اور اللہ کے ارشادات کا اسے یقین ہو تو اللہ اسے یا تو شہادت کا درجہ دے کر جنت میں داخل کرے گا یا ثواب اور مال غنیمت دلا کر بخیر و عافیت اسے اس کے گھر لوٹائے گا۔“
[بخاری، کتاب التوحید باب ولقد سبقت کلمتنا]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ بندوں پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ ان پر اپنی رحمت کا سلسلہ منقطع کرتا ہے، نہ اپنی رحمت کے دروازے ان پر بند کرتا ہے بلکہ اگر کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اس کے حکم کے مطابق نہیں ہوتا تو وہ اسے اپنے نقصان کی تلافی کرنے اور اپنے نفس کی تکمیل کی دعوت دیتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اخلاص اور اللہ کی راہ میں نکلنے کا حکم دیا ہے۔
فرمایا ﴿ فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ پس چاہیے کہ وہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑیں جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچتے ہیں یہ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں چند اقوال میں سے ایک قول ہے اور سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ ان مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا چاہیے جو اپنے ایمان میں کامل اور صدق کے حامل ہیں۔
﴿ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ یعنی آخرت میں رغبت رکھتے ہیں دنیا کو آخرت کے بدلے بیچ دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ ہے کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے تیار کر کے عادی بنا لیا ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان کامل کے حامل ہیں جو جہاد کا تقاضا کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو جہاد کے لیے نہیں اٹھتے تو یہ لوگ جہاد کے لیے نکلیں یا گھر بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ قُ٘لْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖ٘ۤ اِذَا یُتْ٘لٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا (بنی اسرائیل: 17؍107) کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ آیات کے آخر تک۔ نیز اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَؔكَّؔلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ (الانعام: 6؍89) اگر یہ کفار اس کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے اس پر ایمان لانے کے لیے کچھ ایسے لوگوں کومقرر کر دیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں۔
بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ لڑائی کرنے والے مجاہد کو کفار کے خلاف لڑنا چاہیے جنھوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ تب اس صورت میں آیت کریمہ میں موجود لفظ (اَلَّذِیْنَ) مفعول ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔
فرمایا: ﴿ وَمَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اور جو لڑتا ہے اللہ کے راستے میں یعنی یہ جہاد ہو جس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اور بندہ اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور اس کی رضا کا قصد رکھتا ہو ﴿ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا پس وہ قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے، ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے یعنی یہ اجر ان کے دین و ایمان میں اضافہ، مال غنیمت اور ثنائے حسن کی صورت میں عطا ہو گا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ ثواب تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کا کبھی گزر ہوا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن لُطف الله بعباده أن لا يَقْطَعَ عنهم رحمتَه، ولا يغلقَ عنهم أبوابها، بل من حصل على غير ما يليق؛ أمرَه ودعاه إلى جبر نقصِهِ وتكميل نفسِهِ، فلهذا أمر هؤلاء بالإخلاص والخروج في سبيلهِ، فقال: {فَلْيُقاتِلْ في سبيل الله الذين يَشْرونَ الحياة الدُّنيا بالآخرة}؛ هذا أحد الأقوال في هذه الآية وهو أصحها، وقيل إن معناه فليقاتل في سبيل الله المؤمنون الكاملو الإيمان الصادقون في إيمانهم {الذين يشرون الحياة الدنيا بالآخرة}؛ أي: يبيعون الدُّنيا رغبةً عنها بالآخرة رغبةً فيها؛ فإنَّ هؤلاء [هم] الذين يوجَّه إليهم الخطاب؛ لأنهم الذين قد أعدُّوا أنفسَهم ووطَّنوها على جهاد الأعداء؛ لما معهم من الإيمان التامِّ المقتضي لذلك، وأمَّا أولئك المتثاقلون؛ فلا يُعبأ بهم خرجوا أو قعدوا، فيكون هذا نظيرَ قوله تعالى: {قل آمنوا به أو لا تؤمنوا إنَّ الذين أوتوا العلم من قبلِهِ إذا يُتْلى عليهم يَخِرُّونَ للأذقان سُجَّداً ... } إلى آخر الآيات، وقوله: {فإن يَكْفُر بها هؤلاء فقد وَكَّلْنا بها قوماً ليسوا بها بكافرينَ}.

وقيل: إن معنى الآية: فليقاتل المقاتِلُ والمجاهدُ للكفار الذين يَشْرون الحياةَ الدُّنيا بالآخرةِ، فيكون على هذا الوجه. {الذين} في محلِّ نصب على المفعولية، {ومَن يقاتِلْ في سبيل الله}: بأن يكونَ جهاداً قد أمر الله به ورسولُهُ، ويكون العبد مخلصاً لله فيه قاصداً وجه الله، {فَيُقْتَلْ أو يَغْلِبْ فسوف نُؤْتيهِ أجراً عظيماً}: زيادةً في إيمانِهِ ودينِهِ وغنيمةً وثناءً حسناً وثواب المجاهدين في سبيل الله الذين أعدَّ الله لهم في الجنة ما لا عينٌ رأتْ ولا أذنٌ سمعتْ ولا خَطَرَ على قلب بشرٍ.