تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا:} یعنی مسلمانوں پر لازم ہے کہ دنیا کی زندگی پر نظر نہ رکھیں، بلکہ آخرت کی خواہش رکھیں اور سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں ہر طرح نفع ہے۔ (موضح) مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کے دو ہی نتیجے ہو سکتے ہیں، شہادت یا فتح اور دونوں مسلمانوں کے حق میں خوش کن ہیں، کیونکہ دونوں ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ }» [التوبۃ: ۵۲] ”کہہ دے تم ہمارے بارے میں دو بہترین چیزوں میں سے ایک کے سوا کس کا انتظار کرتے ہو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے اس شخص کے لیے ضمانت دی ہے جسے اس کے راستے میں جہاد اور اس کے کلمات کی تصدیق کے سوا کوئی چیز نہیں نکالتی کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، یا اس کی رہائش گاہ پر لائے گا جہاں سے وہ نکلا تھا، ساتھ وہ اجر اور غنیمت بھی ہو گی جو اس نے حاصل کی۔“ [بخاری، فرض الخمس، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : أحلت لکم الغنائم: ۳۱۲۳، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔
[بخاری، کتاب الجہاد۔ باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا۔۔ مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا فھو فی سبیل اللہ۔۔ بخاری۔ کتاب العلم۔ باب من سأال و ہو قائم عالما جالسا]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اس حال میں مرے کہ نہ اس نے اللہ کے راستے میں جنگ کی اور نہ ہی کبھی اس کے دل میں اس کا خیال گزرا ہو تو اس کی موت نفاق کی ایک شاخ پر ہو گی۔“
[مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب ذم من مات ولم یغز ولم یحدث نفسہ بالغزو]
3۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ”لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟“ فرمایا ”جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔“
[بخاری، کتاب الجہاد، باب افضل الناس مومن مجاھد بنفسہ و مالہ]
4۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میری امت پر یہ بات گرانبار نہ ہوتی تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا اور میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں۔“
[بخاری، کتاب الایمان، باب الجہاد من الایمان۔۔ مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب فضل الجہاد]
5۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے (بلندی درجات کے حساب سے) مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کیا ہے اور ہر درجے میں اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [بخاري، كتاب الجهاد۔ باب درجات المجاهدين فى سبيل الله۔۔ مسلم، كتاب الامارة۔ باب بيان ما اعد الله تعالىٰ للمجاهد فى الجنة من الدرجات]
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس بندے کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ پھر اسے آگ چھوئے“ [بخاري، كتاب الجهاد، باب من اغبرت قد ماه فى سبيل الله]
7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خوب جان لو! جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ [بخاري، كتاب الجهاد، باب الجنة تحت بارقة السيوف]
8۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام نکلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔“ [بخاري، كتاب الجهاد۔ باب الغدوة والروحة فى سبيل الله مسلم، كتاب الامارة فضل الغدوة والروحة فى سبيل الله]
9۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ کی راہ میں خالصتاً جہاد کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے نکلے اور اللہ کے ارشادات کا اسے یقین ہو تو اللہ اسے یا تو شہادت کا درجہ دے کر جنت میں داخل کرے گا یا ثواب اور مال غنیمت دلا کر بخیر و عافیت اسے اس کے گھر لوٹائے گا۔“
[بخاری، کتاب التوحید باب ولقد سبقت کلمتنا]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن لُطف الله بعباده أن لا يَقْطَعَ عنهم رحمتَه، ولا يغلقَ عنهم أبوابها، بل من حصل على غير ما يليق؛ أمرَه ودعاه إلى جبر نقصِهِ وتكميل نفسِهِ، فلهذا أمر هؤلاء بالإخلاص والخروج في سبيلهِ، فقال: {فَلْيُقاتِلْ في سبيل الله الذين يَشْرونَ الحياة الدُّنيا بالآخرة}؛ هذا أحد الأقوال في هذه الآية وهو أصحها، وقيل إن معناه فليقاتل في سبيل الله المؤمنون الكاملو الإيمان الصادقون في إيمانهم {الذين يشرون الحياة الدنيا بالآخرة}؛ أي: يبيعون الدُّنيا رغبةً عنها بالآخرة رغبةً فيها؛ فإنَّ هؤلاء [هم] الذين يوجَّه إليهم الخطاب؛ لأنهم الذين قد أعدُّوا أنفسَهم ووطَّنوها على جهاد الأعداء؛ لما معهم من الإيمان التامِّ المقتضي لذلك، وأمَّا أولئك المتثاقلون؛ فلا يُعبأ بهم خرجوا أو قعدوا، فيكون هذا نظيرَ قوله تعالى: {قل آمنوا به أو لا تؤمنوا إنَّ الذين أوتوا العلم من قبلِهِ إذا يُتْلى عليهم يَخِرُّونَ للأذقان سُجَّداً ... } إلى آخر الآيات، وقوله: {فإن يَكْفُر بها هؤلاء فقد وَكَّلْنا بها قوماً ليسوا بها بكافرينَ}.
وقيل: إن معنى الآية: فليقاتل المقاتِلُ والمجاهدُ للكفار الذين يَشْرون الحياةَ الدُّنيا بالآخرةِ، فيكون على هذا الوجه. {الذين} في محلِّ نصب على المفعولية، {ومَن يقاتِلْ في سبيل الله}: بأن يكونَ جهاداً قد أمر الله به ورسولُهُ، ويكون العبد مخلصاً لله فيه قاصداً وجه الله، {فَيُقْتَلْ أو يَغْلِبْ فسوف نُؤْتيهِ أجراً عظيماً}: زيادةً في إيمانِهِ ودينِهِ وغنيمةً وثناءً حسناً وثواب المجاهدين في سبيل الله الذين أعدَّ الله لهم في الجنة ما لا عينٌ رأتْ ولا أذنٌ سمعتْ ولا خَطَرَ على قلب بشرٍ.