اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مدد گار بنا۔
En
اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما
بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راه میں اور ان ناتواں مردوں، عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لئے جہاد نہ کرو؟ جو یوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ﻇالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خود اپنے پاس سے حمایتی مقرر کر دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے اس کی راہ میں جہاد کی ترغیب ہے نیز یہ کہ جہاد ان پر فرض کر دیا گیا ہے اور ترک جہاد ان کے لیے بہت بڑی ملامت کا باعث ہو گا۔ ﴿ وَمَالَكُمْلَاتُقَاتِلُوْنَفِیْسَبِیْلِاللّٰهِ ﴾”تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں لڑتے نہیں؟“ اور حال یہ ہے کہ مستضعفین مرد، عورتیں اور بچے جن کے پاس کوئی چارہ ہے نہ ان کے پاس آزادی حاصل کرنے کا کوئی راستہ اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں دشمنوں کے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ وہ ان کو اس بستی سے نکالے جس کے باشندے کفر و شرک کے ارتکاب کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اہل ایمان کو اذیتیں دے کر، ان کو اللہ کے راستے سے روک کر اور انھیں دعوت دین اور ہجرت سے منع کر کے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کا کوئی ولی اور مددگار مقرر فرما دے جو انھیں اس ظالم بستی سے نکال لے جائے۔ تب اس صورت میں جہاد تمھارے بچوں، عورتوں اور تمھاری عزت و ناموس کے دفاع کے زمرے میں شمار ہو گا۔ کیونکہ جہاد تو وہ ہے جس میں کفار کے مقابلے کی خواہش ہو۔ جہاد کی اگرچہ بہت بڑی فضیلت ہے اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اس سے بڑھ کر ملامت ہے۔ تاہم وہ جہاد جس کے ذریعے سے اہل ایمان مستضعفین کو کفار سے نجات دلائی جاتی ہے اجر و ثواب کے اعتبار سے سب سے عظیم اور فائدے کے لحاظ سے سب سے بڑا جہاد ہے کیونکہ یہ دشمنوں سے دفاع کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا حثٌّ من الله لعبادِهِ المؤمنين وتهييجٌ لهم على القتال في سبيله، وأنَّ ذلك قد تعيَّن عليهم وتوجَّه اللوم العظيم عليهم بتركِهِ، فقال: {وما لكم لا تقاتِلون في سبيل اللهِ}؛ والحالُ أنَّ المستضعفين من الرجال والنساءِ والولدان الذين لا يستطيعونَ حيلةً ولا يهتدونَ سبيلاً، ومع هذا فقد نالهم أعظم الظُّلم من أعدائهم؛ فهم يدعون الله أن يخرِجَهم من هذه القريةِ الظالم أهلُها لأنفسهم بالكفرِ والشركِ، وللمؤمنينَ بالأذى والصدِّ عن سبيل الله، ومنعِهِم من الدعوة لدينهم والهجرة، ويدعونَ الله أن يجعلَ لهم وليًّا ونصيراً يستنقِذُهم من هذه القرية الظالم أهلُها، فصار جهادُكم على هذا الوجه من باب القتال والذَّبِّ عن عَيْلاتِكم وأولادِكم ومحارِمِكم؛ لأنَّ بابَ الجهادِ الذي هو الطمعُ في الكفارِ؛ فإنه وإن كان فيه فضلٌ عظيمٌ ويُلامُ المتخلِّفُ عنه أعظم اللوم ؛ فالجهادُ الذي فيه استنقاذُ المستضعفينَ منكُم أعظمُ أجراً وأكبرُ فائدةً بحيث يكونُ من باب دفع الأعداءِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔