تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مکہ شریف کو اس آیت میں بھی قریہ کہا گیا ہے «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِىَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:13] ’ بہت سی بستیاں اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس بستی سے (یعنی وہاں کے رہنے والوں نے) تمہیں نکالا ‘۔ اسی مکہ کے رہنے والے مسلمان کافروں کے ظلم کے شکایت بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی دعاؤں میں کہہ رہے ہیں کہ اے رب کسی کو اپنی طرف سے ہمارا ولی اور مددگار بنا کر ہماری امداد کو بھیج۔
صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما انہی کمزوروں میں تھے ۱؎ [صحیح بخاری:4587] اور روایت میں ہے کہ آپ نے «اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا» ۱؎ [4-النساء:98] پڑھ کر فرمایا میں اور میری والدہ صاحبہ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4588]
ارشاد ہے: ایماندار اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی رضا جوئی کے لیے جہاد کرتے ہیں اور کفار اطاعت شیطان میں لڑتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیئے کہ شیطان کے دوستوں سے جو اللہ کے دشمن ہیں دل کھول کر جنگ کریں اور یقین مانیں کہ شیطان کے ہتھکنڈے اور اس کے مکر و فریب سب نقش برآب ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا إخبارٌ من الله بأنَّ المؤمنين يقاتِلون في سبيله، {والذين كفروا يقاتِلونَ في سبيل الطَّاغوت} الذي هو الشيطانُ. في ضمن ذلك عدة فوائد:
منها: أنه بحَسَبِ إيمان العبد يكون جهاده في سبيل الله وإخلاصُه ومتابعته، فالجهادُ في سبيل الله من آثار الإيمان ومقتضياتِهِ ولوازمِهِ؛ كما أنَّ القتالَ في سبيل الطاغوت من شُعَبِ الكفر ومقتضياتِهِ.
ومنها: أن الذي يقاتل في سبيل الله ينبغي له ويَحْسُنُ منه من الصبر والجَلَدِ ما لا يقوم به غيره؛ فإذا كان أولياء الشيطان يصبِرون ويقاتِلون وهم على باطل؛ فأهل الحقِّ أولى بذلك؛ كما قال تعالى في هذا المعنى: {إن تكونوا تألمونَ فإنَّهم يألَمونَ كما تَألَمونَ وترجُون من اللهِ ما لا يَرجونَ ... } الآية.
ومنها: أن الذي يقاتِلُ في سبيل الله معتمداً على ركنٍ وثيقٍ، وهو الحقُّ والتوكُّل على الله؛ فصاحب القوة والرُّكن الوثيق يُطْلَبُ منه من الصبر والثَّبات والنشاط ما لا يُطْلَبُ مِمَّن يقاتِل عن الباطل الذي لا حقيقة له ولا عاقبة حميدة؛ فلهذا قال تعالى: {فقاتِلوا أولياءَ الشَّيطانِ إنَّ كيدَ الشيطانِ كان ضعيفاً}؛ والكيدُ سلوكُ الطرق الخفيَّة في ضرر العدو؛ فالشيطانُ وإن بَلَغَ مكرُهُ مهما بَلَغَ؛ فإنه في غاية الضَّعْفِ الذي لا يقوم لأدنى شيءٍ من الحقِّ ولا لكيدِ الله لعبادِهِ المؤمنين.