ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 141

الَّذِیۡنَ یَتَرَبَّصُوۡنَ بِکُمۡ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ فَتۡحٌ مِّنَ اللّٰہِ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَکُنۡ مَّعَکُمۡ ۫ۖ وَ اِنۡ کَانَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ نَصِیۡبٌ ۙ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَیۡکُمۡ وَ نَمۡنَعۡکُمۡ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ فَاللّٰہُ یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ لَنۡ یَّجۡعَلَ اللّٰہُ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ سَبِیۡلًا ﴿۱۴۱﴾٪
وہ جو تمھارے بارے میں انتظار کرتے ہیں، پھر اگر تمھارے لیے اللہ کی طرف سے کوئی فتح ہو جائے تو کہتے ہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو کوئی حصہ مل جائے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں ہوگئے تھے اور ہم نے تمھیں ایمان والوں سے نہیں بچایا تھا۔ پس اللہ تمھارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ کافروں کے لیے مومنوں پر ہرگز کوئی راستہ نہیں بنائے گا۔ En
جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا
En
یہ لوگ تمہارے انجام کار کا انتظار کرتے رہتے ہیں پھر اگر تمہیں اللہ فتح دے تو یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہیں اور اگر کافروں کو تھوڑا سا غلبہ مل جائے تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے نہ بچایا تھا؟ پس قیامت میں خود اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کافروں کو ایمان والوں پر ہرگز راه نہ دے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 141) ➊ { الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ …: } یعنی یہ منافقین تمھارے بارے میں تاک اور انتظار میں رہتے ہیں، اگر اللہ کی طرف سے تمھیں فتح مل جائے توکہتے ہیں، کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، یعنی اس فتح میں ہمارا بھی حصہ ہے اور اگر کسی وقت کافروں کو کوئی حصہ مل جائے تو ان سے کہتے ہیں، کیا ہم تم پر غالب نہیں آ گئے تھے، پھر یہ ہمارا ہی کام تھا کہ ہم نے ایسے وسائل اختیار کیے جن سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہو گئے اور ہم نے تمھیں مسلمانوں سے بچا لیا، یعنی منافقین دونوں طرف اپنا احسان چڑھاتے رہتے تھے۔
➋ { فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ:} یعنی دنیا میں تو ان منافقین نے بظاہر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو بچا لیا، لیکن آخرت میں ان کی حقیقت کھول دی جائے گی اور پتا چل جائے گا کہ کون مومن تھا اور کون منافق؟
➌ {وَ لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ …:} اگر کوئی کہے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ کافروں کے لیے مومنوں پر ہر گز کوئی راستہ نہیں بنائے گا، مگر اس وقت معاملہ اس کے برعکس ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ تاریخ شاہد ہے کہ ان مومنوں پر جن کا یہاں ذکر ہے، کفار کو کبھی غلبہ حاصل نہیں ہوا، اب اگر مومن ہی وہ مومن نہ رہیں اور جہاد چھوڑ بیٹھیں تو اس میں اللہ کے وعدے کا کیا قصور ہے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

141۔ 1 یعنی ہم تم پر غالب آنے لگے تھے لیکن تمہیں اپنا ساتھی سمجھ کر چھوڑ دیا اور مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا۔ مطلب یہ کہ تمہیں غلبہ ہماری اس دوغلی پولیسی کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ جو ہم نے مسلمانوں کو ظاہری طور پر شامل ہو کر اپنائے رکھی۔ لیکن درپردہ ان کو نقصان پہنچانے میں ہم نے کوئی کوتاہی اور کمی نہیں کی تاآنکہ تم ان پر غالب آگئے۔ یہ منافقین کا قول ہے جو انہوں نے کافروں سے کہا۔ 141۔ 1 یعنی دنیا میں تم نے دھوکے اور فریب سے وقتی طور پر کچھ کامیابی حاصل کرلی۔ لیکن قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ان باطنی جذبات و کیفیات کی روشنی میں ہوگا جنہیں تم سینوں میں چھپائے ہوئے تھے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تو سینوں کے رازوں کو بھی خوب جانتا ہے اور پھر اس پر جو وہ سزا دے گا تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں منافقت اختیار کر کے نہایت خسارے کا سودا کیا تھا جس پر جہنم کا دائمی عذاب بھگتنا ہوگا۔ 141۔ 2 یعنی غلبہ نہ دے گا۔ اس کے مختلف مفہوم بیان کئے گئے ہیں (1) اہل اسلام کا غلبہ قیامت والے دن ہوگا (2) حجت اور دلائل کے اعتبار سے کافر مسلمانوں پر غالب نہیں آسکتے (3) کافروں کا ایسا غلبہ نہیں ہوگا کہ مسلمانوں کی دولت و شوکت کا بالکل ہی خاتمہ ہوجائے گا اور حرف غلط کی طرح دنیا کے نقشے سے ہی محو ہوجائیں گے۔ ایک حدیث صحیحہ سے بھی اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے (4) جب تک مسلمان اپنے دین کے عامل، باطل سے غیر راضی اور منکرات سے روکنے والے رہیں گے، کافر ان پر غالب نہ آسکیں گے۔ امام ابن العربی فرماتے ہیں ' یہ سب سے عمدہ معنی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (وَمَا اَصَابَکُمْ مُّصِیبَۃٍ فَبَمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ) 42:30 جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے تمہارے اپنے فعلوں کی وجہ سے (فتح القدیر) گویا مسلمانوں کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

141۔ وہ منافقین جو آپ کے بارے میں ہر وقت منتظر رہتے ہیں، اگر اللہ کی مہربانی سے تمہیں فتح نصیب ہو تو کہتے ہیں: کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کا پلہ بھاری رہے تو انہیں کہتے ہیں: ”کیا ہم تم پر قابو پانے کی قدرت [187] نہ رکھتے تھے اور (اس کے باوجود) ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچا نہیں لیا؟“ پس اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر (غالب آنے کی) ہرگز [188] کوئی گنجائش نہیں رکھی
[187] منافقوں کی مفاد پرستی:۔
منافقین کا طبقہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی موجود تھا اور ہر دور میں موجود رہتا ہے اور آج بھی موجود ہے۔ ان میں ایمان نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ ان کا ایمان صرف مفاد کا حاصل کرنا ہوتا ہے اور اصول، جھوٹ اور مکر و فریب ہوتا ہے۔ ایسے لوگ بس ہوا کا رخ دیکھتے رہتے ہیں۔ جدھر سے مفاد حاصل ہونے کی توقع ہو فوراً باتیں بنا کر ادھر لڑھک جاتے ہیں۔ اس آیت میں دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے منافقوں کا حال بیان کیا گیا ہے اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہو تو مال غنیمت میں سے حصہ لینے کی غرض سے کہتے ہیں کہ آخر ہم بھی تو مسلمان اور تمہارے ساتھی ہیں لہٰذا ہمیں بھی حصہ ملنا چاہیے۔ اور کافروں کو فتح ہو تو ان سے جا ملتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تمہارے ساتھ ہماری ہمدردیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ تمہیں فتح حاصل ہو گئی۔ ورنہ اگر ہم دل جمعی سے مسلمانوں کا ساتھ دیتے تو فتح پانا تو درکنار مسلمان تمہارا کچومر نکال دیتے لہٰذا ہمیں تم کیسے نظر انداز کر سکتے ہو۔ اس طرح وہ دونوں طرف سے مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور آج کل ہمارے یہاں مفاد پرستوں کی ایک کثیر جماعت دو سیاسی پارٹیوں کے درمیان پھرتی رہتی ہے۔ ہوا کا رخ دیکھتے ہی فوراً اپنی پارٹی بدل کر ایسی پارٹی میں جا شامل ہوتے ہیں جو برسراقتدار ہو یا اس کے برسراقتدار آنے کی توقع ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ’لوٹا‘ کی سیاسی اصطلاح وضع کی گئی ہے جو ’بے پیندا لوٹا‘ کے محاورہ کا اختصار ہے جو ہر طرف لڑھکتا رہتا ہے۔ ان لوگوں کا دین و ایمان صرف پیسہ اور دوسرے مفادات ہوتے ہیں، جدھر سے زیادہ مل جائیں ادھر چلے جاتے ہیں۔
[188] اسی مضمون کو متعدد آیات میں دوسرے الفاظ سے دہرایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کافر اور منافق اللہ کے نور کو بجھانے کی جتنی بھی سر توڑ کوششیں کر سکتے ہیں، کر کے دیکھ لیں، اللہ اپنے اس ہدایت کے نور کو پورا کر کے رہے گا۔ بالآخر تمام ادیان پر اللہ کا دین ہی غالب ہو کر رہے گا۔ ایسی صورت نا ممکن ہے کہ کافر مسلمانوں پر غالب آجائیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عمل میں صفر دعویٰ میں اصلی مسلمان ٭٭
منافقوں کی بد باطنی کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کی بربادی اس کی پستی کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ٹوہ لیتے رہتے ہیں، اگر کسی جہاد میں مسلمان کامیاب و کامران ہو گئے اللہ کی مدد سے یہ غالب آ گئے تو ان کے پیٹ میں گھسنے کے لیے آ آ کر کہتے ہیں کیوں جی ہم بھی تو تمہارے ساتھی ہیں اور اگر کسی وقت مسلمانوں کی آزمائش کے لیے اللہ جل شانہ نے کافروں کو غلبہ دے دیا جیسے احد میں ہوا تھا گو انجام کار حق ہی غالب رہا تو یہ ان کی طرف لپکتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھو پوشیدہ طور پر تو ہم تمہاری تائید ہی کرتے رہے اور انہیں نقصان پہنچاتے رہے یہ ہماری ہی چالاکی تھی جس کی بدولت آج تم نے ان پر فتح پا لی۔
یہ ہیں ان کے کرتوت کہ دو کشتیوں میں پاؤں رکھ چھوڑتے ہیںدھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا گو یہ اپنی اس مکاری کو اپنے لیے باعث فخر جانتے ہوں لیکن دراصل یہ سراسر ان کی بےایمانی اور کم یقینی کی دلیل ہے بھلا کچا رنگ کب تک رہتا ہے؟ گاجر کی پونگی کب تک بجے گی؟ کاغذ کی ناؤ کب تک چلے گی؟
وقت آ رہا ہے کہ اپنے کئے پر نادم ہوں گے اپنی بیوقوفی پر ہاتھ ملیں گے اپنے شرمناک کرتوت پر ٹسوے بہائیں گے اللہ کا سچا فیصلہ سن لیں گے اور تمام بھلائیوں سے ناامید ہو جائیں گے۔ بھرم کھل جائے گا ہر راز فاش ہو جائے گا اندر کا باہر آ جائے گا یہ پالیسی اور حکمت عملی یہ مصلحت وقت اور مقتضائے موقعہ نہایت ڈراؤنی صورت سے سامنے آ جائے گا اور عالم الغیب کے بےپناہ عذابوں کا شکار بن جائیں گے ناممکن ہے کہ کافروں کو اللہ تعالیٰ مومنوں پر غالب کر دے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے اس کا مطلب پوچھا تو آپ نے اول جملے کے ساتھ ملا کر پڑھ دیا۔ مطلب یہ تھا کہ قیامت کے دن ایسا نہ ہو گا، یہ بھی مروی ہے کہ سبیل سے مراد حجت ہے، لیکن تاہم اس کے ظاہری معنی مراد لینے میں بھی کوئی مانع نہیں یعنی یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اب سے لے کر قیامت تک کوئی ایسا وقت لائے کہ کافر اس قدر غلبہ حاصل کر لیں کہ مسلمانوں کا نام مٹا دیں یہ اور بات ہے کہ کسی جگہ کسی وقت دنیاوی طور پر انہیں غلبہ مل جائے لیکن انجام کار مسلمانوں کے حق میں ہی مفید ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
فرمان الٰہی ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40۔غافر:51]‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں اور ایماندار بندوں کو مدد دنیا میں بھی ضرور دیں گے ‘ اور یہ معنی لینے میں ایک لطافت یہ بھی ہے کہ منافقوں کے دلوں میں مسلمانوں کو ذلت اور بربادی کا شکار دیکھنے کا جو انتظار تھا مایوس کر دیا گیا کہ کفار کو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ اس طرح غالب نہیں کرے گا کہ تم پھولے نہ سماؤ اور کچھ لوگ جس ڈر سے مسلمانوں کا ساتھ کھلے طور پر نہ دیتے تھے ان کے ڈر کو بھی زائل کر دیا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ کسی وقت بھی مسلمان مٹ جائیں گے۔
اسی مطلب کی وضاحت «فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ» ۱؎ [5-المائدة:52]‏‏‏‏ میں کر دی ہے۔
اس آیت کریمہ سے حضرات علماء کرام نے اس امر پر بھی استدلال کیا ہے کہ مسلمان غلام کو کافر کے ہاتھ بیچنا جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں ایک کافر کو ایک مسلمان پر غالب کر دینا ہے اور اس میں مسلمان کی ذلت ہے جن بعض ذی علم حضرات نے اس سودے کو جائز رکھا ہے ان کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنی ملک سے اس کو اسی وقت آزاد کر دے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ منافقین کی کفار کے ساتھ موالات اور اہل ایمان کے ساتھ عداوت متحقق ہے۔ ﴿ الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔ یعنی مستقبل میں تمھارے اچھے یا برے حالات کے منتظر ہیں انھوں نے اپنے نفاق کے مطابق ہر حالت کے بارے میں جواب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَ٘تْ٘حٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَؔكُ٘نْ مَّعَكُمْ پھر اگر اللہ تمھیں فتح دے تو یہ کہتے ہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہیں تھے؟ وہ ظاہر کریں گے کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ تھے تاکہ طعن و تشنیع سے بچ سکیں نیز فے اور مال غنیمت میں سے حصہ وصول کر سکیں اور ان کے ساتھ مل کر وہ محفوظ رہیں۔
﴿ وَاِنْ كَانَ لِلْ٘كٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ اور اگر کافروں کو کچھ حصہ مل جائے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر کافروں کی فتح ہو کیونکہ ان کو ایسی فتح حاصل نہیں ہوتی جو ان کی دائمی نصرت کی ابتدا ہو۔ اگر ان کے لیے کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی انتہا یہ ہے کہ وہ عارضی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ چنانچہ جب یہ صورت حال ہوتی ہے ﴿ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ تو کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے ﴿ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْ٘مُؤْمِنِیْنَ اور تم کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا نہیں؟ یعنی وہ کفار کے پاس بناوٹ اور تصنع سے کام لے کر ان سے کہتے تھے کہ قدرت اور طاقت کے باوجود انھوں نے ان سے لڑائی نہیں کی اور ان کو مسلمانوں سے بچائے رکھا اور وہ ہر لحاظ سے جنگ کے لیے گھر سے نکلنے سے رکے رہے، لڑائی سے گریز کرتے رہے اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کرتے رہے۔ اور ان کے بارے میں یہ تمام امور معروف ہیں۔
﴿ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اور اہل ایمان کو، ظاہری اور باطنی طور پر، بدلے میں جنت عطا کرے گا اور منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ ﴿ وَلَ٘نْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْ٘كٰفِرِیْنَ عَلَى الْ٘مُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا اور اللہ کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔ یعنی اللہ کفار کو اہل ایمان پر کبھی تسلط اور غلبہ عطا نہیں کرے گا، بلکہ اہل ایمان کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی۔ اللہ اس جماعت کی مدد کرے گا، جو ان سے علیحدہ ہو گا اور ان کی مخالفت کرے گا وہ ان کا کوئی نقصان نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان کی فتح و نصرت کے اسباب پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ اور کفار کا تسلط ختم ہوتا چلا جائے گا اور اس کا واضح طور پر مشاہدہ ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ بعض مسلمان، جن پر کفار حکومت کرتے ہیں وہ ان کے ہاں قابل احترام ہیں وہ ان کے دین سے کوئی تعرض نہیں کرتے وہ ان کے ہاں کمزور اور ماتحت بن کر نہیں رہتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو پوری عزت عطا کی گئی ہے۔ اول و آخر اور ظاہر و باطن میں ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر تحقيق موالاة المنافقين للكافرين ومعاداتهم للمؤمنين، فقال: {الذين يتربَّصون بكم}؛ أي: ينتظِرون الحالة التي تصيرون عليها، وتنتهون إليها من خيرٍ أو شرٍّ، قد أعدُّوا لكلِّ حالةٍ جواباً بحسب نفاقهم؛ {فإن كان لكم فتحٌ من الله قالوا ألم نكن معَكُم}؛ فيظهرون أنَّهم مع المؤمنين ظاهراً وباطناً؛ لِيَسْلَموا من القَدْح والطَّعْنِ عليهم ولِيُشْرِكوهم في الغنيمة والفيء ولينْتَصرُوا بهم. {وإن كان للكافرين نصيبٌ}: ولم يقلْ: فتحٌ؛ لأنه لا يحصل لهم فتحٌ يكون مبدأ لنصرتهم المستمرة، بل غايةُ ما يكون أن يكون لهم نصيبٌ غير مستقرٍّ حكمة من الله؛ فإذا كان ذلك؛ {قالوا ألم نستَحوِذْ عليكم}؛ أي: نستولي عليكم {ونمنَعْكم من المؤمنين}؛ أي: يتصنَّعون عندهم بكفِّ أيديهم عنهم مع القدرة، ومنعهم من المؤمنين بجميع وجوه المنع من تفنيدهم وتزهيدهم في القتال ومظاهرة الأعداء عليهم وغير ذلك مما هو معروفٌ منهم. {فاللهُ يحكمُ بينكم يوم القيامة}: فيجازي المؤمنين ظاهراً وباطناً بالجنة، ويعذِّب المنافقين والمنافقات والمشركين والمشركات.

{ولَن يَجْعَلَ الله للكافرين على المؤمنين سبيلاً}؛ أي: تسلُّطاً واستيلاءً عليهم، بل لا تزال طائفة من المؤمنين على الحق منصورة، لا يضرهم من خذلهم ولا مَن خالفهم، ولا يزال الله يحدِثُ من أسباب النصر للمؤمنين ودفع تسليط الكافرين ما هو مشهودٌ بالعيان، حتى أنَّ بعض المسلمين الذين تحكمهم الطوائف الكافرة قد بقوا محترمين، لا يتعرَّضون لأديانهم ولا يكونون مستصغَرين عندهم، بل لهم العزُّ التامُّ من الله، فلله الحمد أولاً وآخراً وظاهراً وباطناً.