تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ:} یعنی دنیا میں تو ان منافقین نے بظاہر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو بچا لیا، لیکن آخرت میں ان کی حقیقت کھول دی جائے گی اور پتا چل جائے گا کہ کون مومن تھا اور کون منافق؟
➌ {وَ لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ …:} اگر کوئی کہے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ کافروں کے لیے مومنوں پر ہر گز کوئی راستہ نہیں بنائے گا، مگر اس وقت معاملہ اس کے برعکس ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ تاریخ شاہد ہے کہ ان مومنوں پر جن کا یہاں ذکر ہے، کفار کو کبھی غلبہ حاصل نہیں ہوا، اب اگر مومن ہی وہ مومن نہ رہیں اور جہاد چھوڑ بیٹھیں تو اس میں اللہ کے وعدے کا کیا قصور ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[188] اسی مضمون کو متعدد آیات میں دوسرے الفاظ سے دہرایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کافر اور منافق اللہ کے نور کو بجھانے کی جتنی بھی سر توڑ کوششیں کر سکتے ہیں، کر کے دیکھ لیں، اللہ اپنے اس ہدایت کے نور کو پورا کر کے رہے گا۔ بالآخر تمام ادیان پر اللہ کا دین ہی غالب ہو کر رہے گا۔ ایسی صورت نا ممکن ہے کہ کافر مسلمانوں پر غالب آجائیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ ہیں ان کے کرتوت کہ دو کشتیوں میں پاؤں رکھ چھوڑتے ہیں“دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا“ گو یہ اپنی اس مکاری کو اپنے لیے باعث فخر جانتے ہوں لیکن دراصل یہ سراسر ان کی بےایمانی اور کم یقینی کی دلیل ہے بھلا کچا رنگ کب تک رہتا ہے؟ گاجر کی پونگی کب تک بجے گی؟ کاغذ کی ناؤ کب تک چلے گی؟
وقت آ رہا ہے کہ اپنے کئے پر نادم ہوں گے اپنی بیوقوفی پر ہاتھ ملیں گے اپنے شرمناک کرتوت پر ٹسوے بہائیں گے اللہ کا سچا فیصلہ سن لیں گے اور تمام بھلائیوں سے ناامید ہو جائیں گے۔ بھرم کھل جائے گا ہر راز فاش ہو جائے گا اندر کا باہر آ جائے گا یہ پالیسی اور حکمت عملی یہ مصلحت وقت اور مقتضائے موقعہ نہایت ڈراؤنی صورت سے سامنے آ جائے گا اور عالم الغیب کے بےپناہ عذابوں کا شکار بن جائیں گے ناممکن ہے کہ کافروں کو اللہ تعالیٰ مومنوں پر غالب کر دے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے اس کا مطلب پوچھا تو آپ نے اول جملے کے ساتھ ملا کر پڑھ دیا۔ مطلب یہ تھا کہ قیامت کے دن ایسا نہ ہو گا، یہ بھی مروی ہے کہ سبیل سے مراد حجت ہے، لیکن تاہم اس کے ظاہری معنی مراد لینے میں بھی کوئی مانع نہیں یعنی یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اب سے لے کر قیامت تک کوئی ایسا وقت لائے کہ کافر اس قدر غلبہ حاصل کر لیں کہ مسلمانوں کا نام مٹا دیں یہ اور بات ہے کہ کسی جگہ کسی وقت دنیاوی طور پر انہیں غلبہ مل جائے لیکن انجام کار مسلمانوں کے حق میں ہی مفید ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
اسی مطلب کی وضاحت «فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ» ۱؎ [5-المائدة:52] میں کر دی ہے۔
اس آیت کریمہ سے حضرات علماء کرام نے اس امر پر بھی استدلال کیا ہے کہ مسلمان غلام کو کافر کے ہاتھ بیچنا جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں ایک کافر کو ایک مسلمان پر غالب کر دینا ہے اور اس میں مسلمان کی ذلت ہے جن بعض ذی علم حضرات نے اس سودے کو جائز رکھا ہے ان کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنی ملک سے اس کو اسی وقت آزاد کر دے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر تحقيق موالاة المنافقين للكافرين ومعاداتهم للمؤمنين، فقال: {الذين يتربَّصون بكم}؛ أي: ينتظِرون الحالة التي تصيرون عليها، وتنتهون إليها من خيرٍ أو شرٍّ، قد أعدُّوا لكلِّ حالةٍ جواباً بحسب نفاقهم؛ {فإن كان لكم فتحٌ من الله قالوا ألم نكن معَكُم}؛ فيظهرون أنَّهم مع المؤمنين ظاهراً وباطناً؛ لِيَسْلَموا من القَدْح والطَّعْنِ عليهم ولِيُشْرِكوهم في الغنيمة والفيء ولينْتَصرُوا بهم. {وإن كان للكافرين نصيبٌ}: ولم يقلْ: فتحٌ؛ لأنه لا يحصل لهم فتحٌ يكون مبدأ لنصرتهم المستمرة، بل غايةُ ما يكون أن يكون لهم نصيبٌ غير مستقرٍّ حكمة من الله؛ فإذا كان ذلك؛ {قالوا ألم نستَحوِذْ عليكم}؛ أي: نستولي عليكم {ونمنَعْكم من المؤمنين}؛ أي: يتصنَّعون عندهم بكفِّ أيديهم عنهم مع القدرة، ومنعهم من المؤمنين بجميع وجوه المنع من تفنيدهم وتزهيدهم في القتال ومظاهرة الأعداء عليهم وغير ذلك مما هو معروفٌ منهم. {فاللهُ يحكمُ بينكم يوم القيامة}: فيجازي المؤمنين ظاهراً وباطناً بالجنة، ويعذِّب المنافقين والمنافقات والمشركين والمشركات.
{ولَن يَجْعَلَ الله للكافرين على المؤمنين سبيلاً}؛ أي: تسلُّطاً واستيلاءً عليهم، بل لا تزال طائفة من المؤمنين على الحق منصورة، لا يضرهم من خذلهم ولا مَن خالفهم، ولا يزال الله يحدِثُ من أسباب النصر للمؤمنين ودفع تسليط الكافرين ما هو مشهودٌ بالعيان، حتى أنَّ بعض المسلمين الذين تحكمهم الطوائف الكافرة قد بقوا محترمين، لا يتعرَّضون لأديانهم ولا يكونون مستصغَرين عندهم، بل لهم العزُّ التامُّ من الله، فلله الحمد أولاً وآخراً وظاهراً وباطناً.