وہ جو تمھارے بارے میں انتظار کرتے ہیں، پھر اگر تمھارے لیے اللہ کی طرف سے کوئی فتح ہو جائے تو کہتے ہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو کوئی حصہ مل جائے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں ہوگئے تھے اور ہم نے تمھیں ایمان والوں سے نہیں بچایا تھا۔ پس اللہ تمھارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ کافروں کے لیے مومنوں پر ہرگز کوئی راستہ نہیں بنائے گا۔
En
جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا
یہ لوگ تمہارے انجام کار کا انتظار کرتے رہتے ہیں پھر اگر تمہیں اللہ فتح دے تو یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہیں اور اگر کافروں کو تھوڑا سا غلبہ مل جائے تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے نہ بچایا تھا؟ پس قیامت میں خود اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کافروں کو ایمان والوں پر ہرگز راه نہ دے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ منافقین کی کفار کے ساتھ موالات اور اہل ایمان کے ساتھ عداوت متحقق ہے۔ ﴿ الَّذِیْنَیَتَرَبَّصُوْنَبِكُمْ ﴾”جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔“ یعنی مستقبل میں تمھارے اچھے یا برے حالات کے منتظر ہیں انھوں نے اپنے نفاق کے مطابق ہر حالت کے بارے میں جواب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاِنْكَانَلَكُمْفَ٘تْ٘حٌمِّنَاللّٰهِقَالُوْۤااَلَمْنَؔكُ٘نْمَّعَكُمْ ﴾”پھر اگر اللہ تمھیں فتح دے تو یہ کہتے ہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہیں تھے؟“ وہ ظاہر کریں گے کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ تھے تاکہ طعن و تشنیع سے بچ سکیں نیز فے اور مال غنیمت میں سے حصہ وصول کر سکیں اور ان کے ساتھ مل کر وہ محفوظ رہیں۔
﴿ وَاِنْكَانَلِلْ٘كٰفِرِیْنَنَصِیْبٌ ﴾”اور اگر کافروں کو کچھ حصہ مل جائے“ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر کافروں کی فتح ہو کیونکہ ان کو ایسی فتح حاصل نہیں ہوتی جو ان کی دائمی نصرت کی ابتدا ہو۔ اگر ان کے لیے کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی انتہا یہ ہے کہ وہ عارضی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ چنانچہ جب یہ صورت حال ہوتی ہے ﴿ قَالُوْۤااَلَمْنَسْتَحْوِذْعَلَیْكُمْ ﴾”تو کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے“﴿ وَنَمْنَعْكُمْمِّنَالْ٘مُؤْمِنِیْنَ ﴾”اور تم کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا نہیں؟“ یعنی وہ کفار کے پاس بناوٹ اور تصنع سے کام لے کر ان سے کہتے تھے کہ قدرت اور طاقت کے باوجود انھوں نے ان سے لڑائی نہیں کی اور ان کو مسلمانوں سے بچائے رکھا اور وہ ہر لحاظ سے جنگ کے لیے گھر سے نکلنے سے رکے رہے، لڑائی سے گریز کرتے رہے اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کرتے رہے۔ اور ان کے بارے میں یہ تمام امور معروف ہیں۔
﴿ فَاللّٰهُیَحْكُمُبَیْنَكُمْیَوْمَالْقِیٰمَةِ ﴾”پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ کرے گا“ اور اہل ایمان کو، ظاہری اور باطنی طور پر، بدلے میں جنت عطا کرے گا اور منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ ﴿ وَلَ٘نْیَّجْعَلَاللّٰهُلِلْ٘كٰفِرِیْنَعَلَىالْ٘مُؤْمِنِیْنَسَبِیْلًا﴾”اور اللہ کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔“ یعنی اللہ کفار کو اہل ایمان پر کبھی تسلط اور غلبہ عطا نہیں کرے گا، بلکہ اہل ایمان کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی۔ اللہ اس جماعت کی مدد کرے گا، جو ان سے علیحدہ ہو گا اور ان کی مخالفت کرے گا وہ ان کا کوئی نقصان نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان کی فتح و نصرت کے اسباب پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ اور کفار کا تسلط ختم ہوتا چلا جائے گا اور اس کا واضح طور پر مشاہدہ ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ بعض مسلمان، جن پر کفار حکومت کرتے ہیں وہ ان کے ہاں قابل احترام ہیں وہ ان کے دین سے کوئی تعرض نہیں کرتے وہ ان کے ہاں کمزور اور ماتحت بن کر نہیں رہتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو پوری عزت عطا کی گئی ہے۔ اول و آخر اور ظاہر و باطن میں ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر تحقيق موالاة المنافقين للكافرين ومعاداتهم للمؤمنين، فقال: {الذين يتربَّصون بكم}؛ أي: ينتظِرون الحالة التي تصيرون عليها، وتنتهون إليها من خيرٍ أو شرٍّ، قد أعدُّوا لكلِّ حالةٍ جواباً بحسب نفاقهم؛ {فإن كان لكم فتحٌ من الله قالوا ألم نكن معَكُم}؛ فيظهرون أنَّهم مع المؤمنين ظاهراً وباطناً؛ لِيَسْلَموا من القَدْح والطَّعْنِ عليهم ولِيُشْرِكوهم في الغنيمة والفيء ولينْتَصرُوا بهم. {وإن كان للكافرين نصيبٌ}: ولم يقلْ: فتحٌ؛ لأنه لا يحصل لهم فتحٌ يكون مبدأ لنصرتهم المستمرة، بل غايةُ ما يكون أن يكون لهم نصيبٌ غير مستقرٍّ حكمة من الله؛ فإذا كان ذلك؛ {قالوا ألم نستَحوِذْ عليكم}؛ أي: نستولي عليكم {ونمنَعْكم من المؤمنين}؛ أي: يتصنَّعون عندهم بكفِّ أيديهم عنهم مع القدرة، ومنعهم من المؤمنين بجميع وجوه المنع من تفنيدهم وتزهيدهم في القتال ومظاهرة الأعداء عليهم وغير ذلك مما هو معروفٌ منهم. {فاللهُ يحكمُ بينكم يوم القيامة}: فيجازي المؤمنين ظاهراً وباطناً بالجنة، ويعذِّب المنافقين والمنافقات والمشركين والمشركات.
{ولَن يَجْعَلَ الله للكافرين على المؤمنين سبيلاً}؛ أي: تسلُّطاً واستيلاءً عليهم، بل لا تزال طائفة من المؤمنين على الحق منصورة، لا يضرهم من خذلهم ولا مَن خالفهم، ولا يزال الله يحدِثُ من أسباب النصر للمؤمنين ودفع تسليط الكافرين ما هو مشهودٌ بالعيان، حتى أنَّ بعض المسلمين الذين تحكمهم الطوائف الكافرة قد بقوا محترمين، لا يتعرَّضون لأديانهم ولا يكونون مستصغَرين عندهم، بل لهم العزُّ التامُّ من الله، فلله الحمد أولاً وآخراً وظاهراً وباطناً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔