تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى …:} اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین کو اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرنے کے لیے مسجد میں آنا پڑتا تھا۔ اگر کوئی مسجد میں نماز نہ پڑھتا تو مسلمان شمار نہیں ہوتا تھا، منافقین کی یہ نمازیں صرف مسلمانوں کے دکھلاوے کے لیے تھیں، اس لیے جن نمازوں میں چھپنے کی گنجائش ہوتی اس میں وہ غیر حاضر رہتے، جیسے صبح اور عشاء کی نماز۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافقین پر صبح اور عشاء کی نماز تمام نمازوں سے زیادہ بھاری ہے، حالانکہ اگر وہ جانتے کہ ان کا کیا ثواب ہے تو وہ ان میں حاضر ہوتے، چاہے انھیں ان میں گھسٹ کر آنا پڑتا۔“ [بخاری، الأذان، باب فضل فی صلوۃ العشاء…: ۶۵۷۔ مسلم: 652،651]
➌ {لَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا:} یعنی جلدی جلدی، جیسے کوئی بیگار ٹالنا مقصود ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ منافق کی نماز ہے، بیٹھا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان (یعنی غروب کے بالکل قریب) ہو جاتا ہے، تو اٹھتا ہے اور چار ٹھونگے مار لیتا ہے، ان میں اللہ کو یاد نہیں کرتا مگر بہت کم۔“ [مسلم، المساجد، باب استحباب التبکیر: ۶۲۲] معلوم ہوا کہ عصر کی نماز دیر سے پڑھنا بھی نفاق ہے اور جلدی جلدی اکٹھے دو سجدے بھی، جن میں وقفہ نہ ہو، ایک ہی سجدہ ہوتے ہیں، ورنہ آپ چار کے بجائے آٹھ ٹھونگے فرماتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[مسلم، کتاب الصلٰوۃ۔ باب استحباب التبکیر بالعصر]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”منافقوں پر کوئی نماز صبح اور عشاء کی نماز سے زیادہ بھاری نہیں۔ اور اگر لوگ اس ثواب کو جانتے جو ان نمازوں میں ہے تو گھسٹ کر بھی پہنچتے۔ اور میں نے ارادہ کیا کہ مؤذن سے کہوں وہ تکبیر کہے اور کسی کو لوگوں کی امامت کا حکم دوں اور آگ کا شعلہ لے کر ان لوگوں (کے گھروں) کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلتے۔“
[بخاری، کتاب الاذان، باب فضل صلوۃ العشاء فی الجماعۃ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ قرآن میں ہے کہ قیامت کے دن بھی یہ لوگ اللہ خبیر و علیم کے سامنے اپنی یک رنگی کی قسمیں کھائیں گے جیسے یہاں کھاتے ہیں لکین اس عالم الغیب کے سامنے یہ ناکارہ قسمیں ہرگز کارآمد نہیں ہو سکتیں۔ اللہ بھی انہیں دھوکے میں رکھ رہا ہے وہ ڈھیل دیتا ہے حوصلہ افزائی کرتا ہے یہ پھولے نہیں سماتے خوش ہوتے ہیں اور اپنے لیے اسے اچھائی سمجھتے ہیں، قیامت میں بھی ان کا یہی حال ہو گا مسلمانوں کے نور کے سہارے میں ہوں گے وہ آگے نکل جائیں گے یہ آوازیں دیں گے کہ ٹھہرو ہم بھی تمہاری روشنی میں چلیں جواب ملے گا کہ پیچھے مڑ جاؤ اور روشنی تلاش کر لاؤ یہ مڑیں گے ادھر حجاب حائل ہو جائے گا۔
مسلمانوں کی جانب رحمت اور ان کے لیے زحمت، حدیث شریف میں ہے { جو سنائے گا اللہ بھی اسے سنائے گا اور جو ریا کاری کرے گا اللہ بھی اسے ویسا ہی دکھائے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6499] ایک اور حدیث میں ہے { ان منافقوں میں وہ بھی ہوں گے کہ لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ ان کی نسبت فرمائے گا کہ انہیں جنت میں لے جاؤ فرشتے لے جا کر دوزخ میں ڈال دیں گے } اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔
یہ تو ہوئی ان منافقوں کی ظاہری حالت کہ تھکے ہارے تنگ دلی کے ساتھ بطور بیگار ٹالنے کے نماز کے لیے آئے پھر اندرونی حالت یہ ہے کہ اخلاص سے کوسوں دور ہیں رب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے نمازی مشہور ہونے کے لیے لوگوں میں اپنے ایمان کو ظاہر کرنے کے لیے نماز پڑھ رہے ہیں، بھلا ان صنم آشنا دل والوں کو نماز میں کیا ملے گا؟ یہی وجہ ہے کہ ان نمازوں میں جن میں لوگ ایک دوسرے کو کم دیکھ سکیں یہ غیر حاضر رہتے ہیں مثلاً عشاء کی نماز اور فجر کی نماز۔
ایک روایت میں ہے { اللہ تعالیٰ کی قسم اگر انہیں ایک چرب ہڈی یا دو اچھے کھر ملنے کی امید ہو تو دوڑے چلے آئیں لیکن آخرت کی اور اللہ کے ثوابوں کی انہیں اتنی بھی قدر نہیں۔ اگر بال بچوں اور عورتوں کا جو گھروں میں رہتی ہیں مجھے خیال نہ ہوتا تو قطعاً میں ان کے گھر جلا دیتا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:644]
پھر فرمایا یہ لوگ ذکر اللہ بھی بہت ہی کم کرتے ہیں یعنی نماز میں ان کا دل نہیں لگتا، یہ اپنی کہی ہوئی بات سمجھتے بھی نہیں، بلکہ غافل دل اور بےپرواہ نفس سے نماز پڑھ لیتے ہیں، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ نماز منافق کی ہے یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کی طرف دیکھ رہا ہے یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا اور شیطان نے اپنے دونوں سینگ اس کے اردگرد لگا دیئے تو یہ کھڑا ہوا اور جلدی جلدی چار رکعت پڑھ لیں جن میں اللہ کا ذکر برائے نام ہی کیا } ۱؎ [صحیح مسلم:622]
رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { منافق کی مثال ایسی ہے جیسی دو ریوڑ کے درمیان کی بکری کہ کبھی تو وہ میں میں کرتی اس ریوڑ کی طرف دوڑتی ہے کبھی اس طرف اس کے نزدیک ابھی طے نہیں ہوا کہ ان میں جائے یا اس کے پیچھے لگے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2784]
ایک روایت میں ہے کہ اس معنی کی حدیث سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی میں کچھ الفاظ کے ہیر پھیر سے بیان کی تو عبداللہ نے اپنے سنے ہوئے الفاظ دوہرا کر کہا یوں نہیں بلکہ دراصل حدیث یوں ہے جس پر عبید ناراض ہوئے۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:264:حسن لغیرہ]
(ممکن ہے ایک بزرگ نے ایک طرح کے الفاظ سنے ہوں دوسرے نے دوسری قسم کے)
اور حدیث میں ہے { منافق کی مثال اس بکری جیسی ہے جو ہرے بھرے ٹیلے پر بکریوں کو دیکھ کر آئی اور سونگھ کر چل دی، پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھی اور سونگھ کر آ گئی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10737]
پھر فرمایا جسے اللہ ہی راہ حق سے پھیر دے اس کا ولی و مرشد کون ہے؟ اس کے گمراہ کردہ کو کون راہ دکھا سکے؟ اللہ نے منافقوں کو ان کی بدترین بدعملی کے باعث راستی سے دھکیل دیا ہے اب نہ کوئی انہیں راہ راست پر لا سکے نہ چھٹکارا دلا سکے، اللہ کی مرضی کے خلاف کون کر سکتا ہے وہ سب پر حاکم ہے اس پر کسی کی حکومت نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن المنافقين بما كانوا عليه من قبيح الصفات وشنائع السمات، وأن طريقَتَهم مخادعة الله تعالى؛ أي: بما أظهروه من الإيمان، وأبطنوه من الكفران؛ ظنُّوا أنه يروجُ على الله ولا يعلمه ولا يُبديه لعباده، والحال أنَّ الله خادِعُهم؛ فمجرَّد وجود هذه الحال منهم ومشيهم عليها خداعٌ لأنفسهم، وأيُّ خداع أعظمُ ممَّن يسعى سعياً يعود عليه بالهوانِ والذُّلِّ والحرمانِ، ويدلُّ بمجرَّده على نقص عقل صاحبه؛ حيث جمع بين المعصية ورآها حسنةً وظنَّها من العقل والمكر؟! فلله ما يصنع الجهلُ والخِذلانُ بصاحبه! ومن خداعه لهم يوم القيامة ما ذَكَرَهُ الله في قوله: {يوم يقول المنافقون والمنافقات للذين آمنوا انظُرونا نَقْتَبِسْ من نورِكُم قيلَ ارجِعوا وراءكم فالْتَمِسوا نوراً فضُرِبَ بينَهم بسورٍ له بابٌ باطِنُهُ فيه الرحمةُ وظاهرهُ من قِبَلِهِ العذابُ ينادونهم ألم نكن معكم ... } إلى آخر الآيات. ومن صفاتِهم أنَّهم {إذا قاموا إلى الصلاة} إن قاموا، التي هي أكبر الطاعات العملية {قاموا كسالى}: متثاقلين لها متبَرِّمين من فعلها، والكسل لا يكون إلاَّ مِن فَقْدِ الرغبة من قلوبهم؛ فلولا أنَّ قلوبهم فارغةٌ من الرغبة إلى الله وإلى ما عنده عادمةٌ للإيمان؛ لم يصدر منهم الكسل. {يراؤون الناس}؛ أي: هذا الذي انطوت عليه سرائرُهُم، وهذا مصدرُ أعمالهم، مراءاة الناس، يقصِدون رؤية الناس وتعظيمَهم، واحترامَهم، ولا يُخلصِون لله؛ فلهذا {لا يذكرونَ الله إلا قليلاً}؛ لامتلاء قلوبِهِم من الرِّياء؛ فإنَّ ذكر الله تعالى وملازمته لا يكون إلاَّ من مؤمن ممتلئٍ قلبُه بمحبَّة الله وعظمته.