تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[مسلم، کتاب الایمان، باب کون النہی عن المنکر من الایمان]
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگر دل میں بھی برا نہ جانے تو سمجھ لے کہ اس میں رائی برابر بھی ایمان نہیں۔ واضح رہے کہ سورۃ انعام مکہ میں نازل ہوئی تھی اور مکہ میں اللہ کی آیات کا تمسخر اڑانے والے کفار مکہ تھے اور یہ سورۃ نساء مدینہ میں نازل ہوئی، یہاں اللہ کی آیات کا تمسخر اڑانے والے یہود مدینہ اور منافقین تھے گویا اللہ کے رسولوں، اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا ہر طرح کے کافروں کا پرانا دستور ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت میں جس ممانعت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ سورۃ الانعام کی آیت جو مکیہ ہے یہ «وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ» ۱؎ [6-الأنعام:68] ’ جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں میں غوطے لگانے بیٹھ جاتے ہیں تو تو ان سے منہ موڑ لے۔ ‘
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت کا یہ حکم «اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْكٰفِرِيْنَ فِيْ جَهَنَّمَ جَمِيْعَۨا» ۱؎ [4-النساء:140]
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «وَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّلٰكِنْ ذِكْرٰي لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:69] سے منسوخ ہو گیا ہے یعنی متقیوں پر ان کے احسان کا کوئی بوجھ نہیں لیکن نصیحت ہے کیا عجب کہ وہ بچ جائیں۔
پھر فرمان باری ہے اللہ تعالیٰ تمام منافقوں کو اور سارے کافروں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔ یعنی جس طرح یہ منافق ان کافروں کے کفر میں یہاں شریک ہیں قیامت کے دن جہنم میں بھی اور ہمیشہ رہنے والے وہاں کے سخت تر دل ہلا دینے والے عذابوں کے سہنے میں بھی ان کے شریک حال رہیں گے۔ وہاں کی سزاؤں میں وہاں کی قید و بند میں طوق و زنجیر میں گرم پانی کے کڑوے گھونٹ اتارنے میں اور پیپ کے لہو کے زہر مار کرنے میں بھی ان کے ساتھ ہوں گے اور دائمی سزا کا اعلان سب کو ساتھ سنا دیا جائے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وقد بيَّن الله لكم فيما أنزل عليكم حكمه الشرعيَّ عند حضور مجالس الكفر والمعاصي، {أن إذا سمعتُم آياتِ الله يُكْفَرُ بها ويستهزَأ بها}؛ أي: يُستهان بها، وذلك أن الواجب على كل مكلَّف في آيات الله الإيمانُ بها وتعظيمُها وإجلالها وتفخيمها، وهذا المقصود بإنزالها، وهو الذي خَلَقَ الله الخَلْق لأجله؛ فضدُّ الإيمان الكفر بها، وضدُّ تعظيمها الاستهزاء بها واحتقارها، ويدخل في ذلك مجادلة الكفار والمنافقين لإبطال آيات الله ونصر كفرهم، وكذلك المبتدعون على اختلاف أنواعهم؛ فإن احتجاجَهم على باطلهم يتضمَّن الاستهانة بآيات الله؛ لأنها لا تدل إلاَّ على الحقِّ ولا تستلزمُ إلاَّ صدقاً، بل وكذلك يدخل فيه حضور مجالس المعاصي والفسوق التي يُستهان فيها بأوامر الله ونواهيه، وتقتحم حدودُه التي حدَّها لعباده. ومنتهى هذا النهي عن القعود معهم {حتى يخوضوا في حديثٍ غيره}؛ أي: غير الكفر بآيات الله والاستهزاء بها. {إنَّكم إذاً}؛ أي: إن قعدتُم معهم في الحال المذكور {مثلُهم}: لأنكم رضيتُم بكفرِهم واستهزائِهِم، والراضي بالمعصية كالفاعل لها، والحاصل أنَّ مَن حَضَرَ مجلساً يُعصى الله به؛ فإنه يتعيَّن عليه الإنكار عليهم مع القدرة أو القيام مع عدمها.
{إنَّ الله جامع المنافقين والكافرين في جهنَّم جميعاً}؛ كما اجتمعوا على الكفر والموالاة، ولا ينفع المنافقين مجرَّد كونِهم في الظاهر مع المؤمنين؛ كما قال تعالى: {يوم يقولُ المنافقون والمنافقاتُ للَّذين آمنوا انظُرونا نَقْتَبِسْ من نورِكم ... } إلى آخر الآيات.