تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستے کی پیروی کرنا در حقیقت دین اسلام ہی سے نکل جانا ہے، جس پر یہاں جہنم کی وعید بیان فرمائی گئی ہے۔ مومنین سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں جو دین اسلام کے سب سے پہلے پیرو کار اور اس کی تعلیم کا مکمل نمونہ تھے اور ان آیات کے نزول کے وقت جن کے سوا کوئی اور گروہ مومنین کا موجود نہ تھا، جو یہاں مراد ہو سکے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور غیر سبیل المومنین کی پیروی دونوں حقیقت میں ایک ہی چیز کا نام ہے اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے راستے سے ہٹنا بھی کفر اور گمراہی ہے۔ بعض علماء نے {” سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ“ } سے مراد اجماع امت لیا ہے، یعنی پوری امت کے اجماع سے انحراف بھی کفر ہے۔ اجماع امت کا مطلب ہے کسی مسئلے میں امت کے تمام علماء و فقہاء کا اتفاق، یا کسی مسئلے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا اتفاق ہو، یہ دونوں صورتیں اجماع امت کی ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا اتفاق تو بہت سے مسائل میں ملتا ہے، یعنی اجماع کی یہ صورت تو ملتی ہے لیکن اجماع صحابہ کے بعد کسی مسئلے میں پوری امت کے اجماع و اتفاق کے دعوے تو بہت مسائل میں کیے گئے ہیں، لیکن ایسے اجماعی مسائل بہت کم ہیں جن میں فی الواقع امت کے تمام علماء و فقہاء میں اتفاق ہو، پھر ایسے مسائل پر سب علماء و فقہاء کے اتفاق کا پتا چلانا اور بھی مشکل ہے۔ پھر امت میں بہت سے فرقوں کے بن جانے نے یہ نتیجہ دکھایا ہے کہ ہر گروہ اپنی بات کو مضبوط بنانے کے لیے اجماع کا دعویٰ کر دیتا ہے، خواہ وہ صریحاً قرآن و حدیث کے خلاف ہو، مثلاً قبروں پر عمارت بنانا، ان پر غلاف چڑھانا، چراغ جلانا، غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا، تعزیہ نکالنا، انبیاء کو انسان نہ سمجھنا، انھیں خدائی اوصاف دینا، میلاد، گیارھویں، تیجہ، ساتواں، دسواں، چالیسواں، عرس، میلے، پیر کا تصور باندھنا، اس کی ہر صحیح و غلط بات ماننا، الغرض! صریح شرک و بدعت کے کاموں کو اجماع کا نام دے دیا گیا ہے۔ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسے مسائل جن پر فی الواقع پوری امت کے علماء و فقہاء کا اجماع ہو ان کا انکار بھی صحابہ کے اجماع کے انکار کی طرح کفر ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر اکٹھا نہیں کرے گا اور جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے۔“ [ترمذی، الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ: ۲۱۶۷، و صححہ الألبانی]
➌ {وَ سَآءَتْ مَصِيْرًا:} اس آیت میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور سلف صالحین کے مسلک سے منہ موڑ کر دوسروں کی پیروی کرتے ہیں اور آئے دن نئی بدعات ایجاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ تقلید کی ایجاد بھی بعد کی صدیوں میں ہوئی، سلف صالحین کے دور میں اس کا قطعاً کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ کتاب و سنت کی دلیل سے اس کی کوئی گنجائش نکلتی ہے۔ ـ
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[153۔ 1]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سفیان رحمہ اللہ نے کہا یہی مضمون اس آیت میں ہے، یہی مضمون آیت «يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ صَفًّا ٷ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:38] میں ہے یہی مضمون سورۃ والعصر میں ہے «وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ» [103-العصر:1-2]
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی آپس میں محبت بڑھانے اور صلح صفائی کے لیے جو بھی بات کہے اِدھر اُدھر سے کہے یا قسم اٹھائے وہ جھوٹوں میں داخل نہیں،} سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِدھر کی بات اُدھر کہنے کی تین صورتوں میں اجازت دیتے ہوئے سنا ہے جہاد کی ترغیب میں، لوگوں میں صلح کرانے اور میاں بیوی کو ملانے کی صورت میں } یہ ہجرت کرنے والیوں اور بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں۔۱؎ [صحیح بخاری:6292]
بزار میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے فرمایا آ میں تجھے ایک تجارت بتاؤں لوگ جب لڑ جھگڑ رہے ہوں تو ان میں مصالحت کرا دے جب ایک دوسرے سے رنجیدہ ہوں تو انہیں ملا دے۔ } ۱؎ [مسند بزار:2060:ضعیف] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی بھلی باتیں رب کی رضا مندی خلوص اور نیک نیتی سے جو کرے وہ اجر عظیم پائے گا۔
مومنوں کی راہ کے علاوہ راہ اختیار کرنا دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی کے مترادف ہے جو کبھی تو شارع علیہ السلام کی صاف بات کے خلاف اور کبھی اس چیز کے خلاف ہوتا ہے جس پر ساری امت محمدیہ متفق ہے جس میں انہیں اللہ نے بوجہ ان کی شرافت وکرامت کے محفوظ کر رکھا ہے۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں بھی ہیں اور ہم نے بھی احادیث اصول میں ان کا بڑا حصہ بیان کر دیا ہے، بعض علماء تو اس کے تواتر معنی کے قائل ہیں،
امام شافعی رحمہ اللہ غورو فکر کے بعد اس آیت سے امت کے اتفاق کی دلیل ہونے پر استدلال کیا ہے حقیقتاً یہی موقف بہترین اور قوی تر ہے، بعض دیگر ائمہ نے اس دلالت کو مشکل اور دور از آیت بھی بتایا ہے، غرض ایسا کرنے والے کی رسی اللہ میاں بھی ڈھیلی چھوڑ دیتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [68-القلم:44] یعنی ’ ہم ان کی بیخبری میں آہستہ آہستہ مہلت بڑھاتے رہتے ہیں، ان کے بہکتے ہی ہم ان کے دلوں کو ٹیڑہ کر دیتے ہیں ‘ «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» ۱؎ [61-الصف:5] ’ ہم بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیتے ہیں، ہم انہیں ان کی سرکشی میں گم چھوڑ دیتے ہیں۔ بالآخر ان کی جائے بازگشت جہنم بن جاتی ہے۔ ‘
جیسے فرمان ہے «وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ’ ظالموں کو ان کے ساتھیوں کے ساتھ قبروں سے اٹھائیں گے۔‘
اور جیسے فرمایا «وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53] ’ ظالم آگ کو دیکھ کر جان لے گا کہ اس میں کودنا پڑے گا لیکن کوئی صورت چھٹکارے کی نہ پائے گا۔‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ومن يخالِف الرسول - صلى الله عليه وسلم - ويعانِده فيما جاء به، {من بعدِ ما تبيَّن له الهدى}: بالدَّلائل القرآنيَّة والبراهين النبويَّة، {ويتَّبِع غير سبيل المؤمنين}: وسبيلُهم هو طريقُهم في عقائِدِهم وأعمالهم، {نولِّه ما تولَّى}؛ أي: نتركه وما اختاره لنفسِهِ ونخذُله؛ فلا نوفِّقُه للخير؛ لكونِهِ رأى الحق وعَلِمَهُ وتركَه؛ فجزاؤه من الله عدلاً أن يُبْقِيه في ضلاله حائراً ويزداد ضلالاً إلى ضلاله؛ كما قال تعالى: {فلمَّا زاغوا أزاغ الله قلوبَهم}، وقال تعالى: {ونقلِّب أفئِدَتهم وأبصارَهم كما لَمْ يؤمِنوا به أوَّل مرة}.
ويدلُّ مفهومها على أن من لم يشاقق الرسول {ويتَّبع غير سبيل المؤمنين}؛ بأن كان قصده وجه الله واتِّباع رسوله ولزوم جماعة المسلمين، ثم صدر منه من الذنوب أو الهمِّ بها ما هو من مقتضيات النفوس وغَلَبات الطباع؛ فإن الله لا يولِّيه نفسه وشيطانه، بل يتداركُه بلطفه ويمنُّ عليه بحفظه ويعصمه من السوء؛ كما قال تعالى عن يوسف عليه السلام: {كذلك لنصرفَ عنه السوءَ والفحشاءَ إنَّه من عبادنا المخلَصين}؛ أي: بسبب إخلاصِهِ صَرَفْنا عنه السوءَ، وكذلك كلُّ مخلص؛ كما يدلُّ عليه عموم التعليل، وقوله: {ونُصْلِهِ جهنَّم}؛ أي: نعذِّبه فيها عذاباً عظيماً. {وساءت مصيراً}؛ أي: مرجعاً له ومآلاً.