تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اوپر سے منافقوں کا ذکر آ رہا ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو پسند نہ کرتے اور جدا راستے پر چلتے تھے۔ اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں بخشتا، تو معلوم ہوا کہ اسلام کے سوا کسی دوسرے دین (طریقہ) کو محبوب رکھا جائے اور اس کو معمول بنایا جائے تو یہ شرک ہے، کیونکہ اسلام کے سوا جو دین بھی ہے شرک ہے، اگرچہ پرستش کا شرک نہ بھی کیا جائے۔ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ شرک ناقابل معافی جرم ہے جسے اللہ کسی صورت میں بھی معاف نہیں کرے گا۔
2۔
3۔ اور تیسری بات یہ کہ شرک ہی سب سے بڑی گمراہی ہے۔ شرک کو ہی ایک دوسرے مقام پر ’ظلم عظیم‘ کہا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہو جاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہو جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کر لیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جننی عورت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں «اِنَاثًا» سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے۔
ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی لڑکیاں مانتے تھے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:209/9] اور کہتے تھے کہ ان کی عبادت سے- ہماری اصل غرض اللہ عزوجل کی نزدیکی حاصل کرنا ہے اور ان کی تصویریں عورتوں کی شکل پر بناتے تھے پھر حکم کرتے تھے اور تقلید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ صورتیں فرشتوں کی ہیں جو اللہ کی لڑکیاں ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «اناث» مراد مردے ہیں، حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر بے روح چیز «اناث» ہے خواہ خشک لکڑی ہو خواہ پتھر ہو، لیکن یہ قول غریب ہے۔
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کو جہنم میں اپنے ساتھ لے جائے گا، ایک بچ رہے گا جو جنت کا مستحق ہو گا، شیطان نے کہا ہے کہ میں انہیں حق سے بہکاؤں گا اور انہیں اُمید دلاتا رہوں گا یہ توبہ ترک کر بیٹھیں گے، خواہشوں کے پیچھے پڑ جائیں گے موت کو بھول بیٹھیں گے نفس پروری اور آخرت سے غافل ہو جائیں گے، جانوروں کے کان کاٹ کر یا سوراخ دار کر کے اللہ کے سوا دوسروں کے نام کرنے کی انہیں تلقین کروں گا، اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑنا سکھاؤں گا جیسے جانوروں کو خصی کرنا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے مروی ہے کہ ’ گود نے والیوں اور گدوانے والیوں، پیشانی کے بال نوچنے والیوں اور نچوانے والیوں اور دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر جو حسن و خوبصورتی کے لیے اللہ کی بناوٹ کو بگاڑتی ہیں اللہ کی لعنت ہے ‘ میں ان پر لعنت کیوں نہ بھیجوں؟ جن پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ میں موجود ہے پھر آپ نے «وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [59-الحشر:7] پڑھی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5931]
بعض اور مفسرین کرام سے مروی ہے کہ مراد اللہ کے دین کو بدل دینا ہے جیسے اور آیت میں ہے «فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:30] ’ یعنی اپنا چہرہ قائم رکھ کر اللہ کے یکطرفہ دین کا رخ اختیار کرنا یہ اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو اس نے پیدا کیا ہے اللہ کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ ‘ اس سے پچھلے (آخری) جملے کو اگر امر کے معنی میں لیا جائے تو یہ تفسیر ٹھیک ہو جاتی ہے یعنی اللہ کی فطرف کو نہ بدلو لوگوں کو میں نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اسی پر رہنے دو۔
صحیح مسلم میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے ’ میں نے اپنے بندوں کو یکسوئی والے دین پر پیدا کیا لیکن شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا پھر میں نے اپنے حلال کو ان پر حرام کر دیا۔‘ ۱؎ [صحیح مسلم:2865] شیطان کو دوست بنانے والا اپنا نقصان کرنے والا ہے جس نقصان کی کبھی تلافی نہ ہو سکے۔ کیونکہ شیطان انہیں سبز باغ دکھاتا رہتا ہے غلط راہوں میں ان کی فلاح وبہود کا یقین دلاتا ہے دراصل وہ بڑا فریب اور صاف دھوکا ہوتا ہے۔
چنانچہ شیطان قیامت کے دن صاف کہے گا اللہ کے وعدے سچے تھے اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی میرا کوئی زور تم پر تھا ہی نہیں میری پکار کو سنتے ہی کیوں تم مست و بےعقل بن گئے؟ اب مجھے کیوں کوستے ہو؟ اپنے آپ کو برا کہو۔ شیطانی وعدوں کو صحیح جاننے والے اس کی دلائی ہوئی اُمیدوں کو پوری ہونے والی سمجھنے والے آخر جہنم واصل ہو نگے جہاں سے چھٹکارا محال ہو گا۔
’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے سب سے زیادہ سچی بات اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہتر ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور تمام کاموں میں سب سے برا کام دین میں نئی بات نکالنا ہے اور ہر ایسی نئی بات کا نام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں ہے۔ ‘ ۱؎ [صحیح مسلم:867]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الوعيد المترتِّب على الشقاق ومخالفة المؤمنين مراتب لا يحصيها إلا الله بحسب حالة الذنب صغراً وكبراً؛ فمنه ما يخلد في النار ويوجب جميع الخذلان، ومنه ما هو دون ذلك؛ فلعلَّ الآية الثانية كالتفصيل لهذا المطلق، وهو أن الشرك لا يغفره الله تعالى؛ لتضمُّنه القدح في ربِّ العالمين و [في] وحدانيَّته، وتسوية المخلوق الذي لا يملك لنفسه ضرًّا ولا نفعاً بمن هو مالك النفعِ والضرِّ، الذي ما من نعمة إلاَّ منه، ولا يدفع النقم إلاَّ هو، الذي له الكمال المطلق من جميع الوجوه والغنى التامُّ بجميع وجوه الاعتبارات؛ فمن أعظم الظُّلم وأبعد الضَّلال عدم إخلاص العبادة لمن هذا شأنه وعظمته، وصرف شيء منها للمخلوق الذي ليس له من صفات الكمال شيء ولا له من صفات الغنى شيءٌ، بل ليس له إلاَّ العدم: عدم الوجود وعدم الكمال وعدم الغنى، والفقر من جميع الوجوه. وأما ما دون الشرك من الذنوب والمعاصي؛ فهو تحت المشيئة: إن شاء الله غَفَرَهُ برحمتِهِ وحكمتِهِ، وإن شاء عذَّب عليه وعاقب بعدلِهِ وحكمتِهِ.
وقد استدلَّ بهذه الآية الكريمة على أن إجماع هذه الأمة حجة، وأنها معصومةٌ من الخطأ، ووجه ذلك أنَّ الله توعَّد من خالف سبيل المؤمنين بالخِذلان والنار، وسبيل المؤمنين مفردٌ مضاف يشمل سائر ما المؤمنون عليه من العقائد والأعمال؛ فإذا اتَّفقوا على إيجاب شيء أو استحبابه أو تحريمه أو كراهته أو إباحته؛ فهذا سبيلهم فمن خالفهم في شيء من ذلك بعد انعقاد إجماعهم عليه؛ فقد اتّبَعَ غير سبيلهم.
ويدلُّ على ذلك قوله تعالى: {كنتُم خير أمةٍ أخْرِجَتْ للناس تأمرون بالمعروفِ وتَنْهَوْنَ عن المنكرِ}، ووجهُ الدِّلالة منها أنَّ الله تعالى أخبر أن المؤمنين من هذه الأمة لا يأمُرون إلا بالمعروف؛ فإذا اتَّفقوا على إيجاب شيءٍ أو استحبابِهِ؛ فهو مما أمروا به، فيتعيَّن بنصِّ الآية أن يكون معروفاً، ولا شيء بعد المعروف غير المنكر، وكذلك إذا اتَّفقوا على النهي عن شيء؛ فهو مما نهوا عنه، فلا يكون إلاَّ منكراً.
ومثلُ ذلك قولُه تعالى: {وكذلك جعلناكم أمة وسطاً لتكونوا شهداءَ على الناس}، فأخبر تعالى أنَّ هذه الأمة جعلها الله وسطاً؛ أي: عدلاً خياراً؛ ليكونوا شهداء على الناس؛ أي: في كل شيء؛ فإذا شهدوا على حكم بأنَّ الله أمر به أو نهى عنه أو أباحه؛ فإنَّ شهادتهم معصومةٌ؛ لكونِهِم عالمين بما شهدوا به عادلين في شهادتهم؛ فلو كان الأمرُ بخلاف ذلك؛ لم يكونوا عادلين في شهادتِهم ولا عالمين بها.
ومثلُ ذلك قوله تعالى: {فإنْ تنازَعْتُم في شيءٍ فرُدُّوه إلى الله والرسول}؛ يُفهم منها أنَّ ما لم يَتَنازعوا فيه بل اتَّفقوا عليه أنهم غير مأمورين بردِّه إلى الكتاب والسنة، وذلك لا يكون إلاَّ موافقاً للكتاب والسُّنة، لا يكون مخالفاً.
فهذه الأدلة ونحوها تفيدُ القطع أنَّ إجماع هذه الأمة حجَّةٌ قاطعةٌ.