اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے، اس کے بعد کہ اس کے لیے ہدایت خوب واضح ہو چکی اور مومنوں کے راستے کے سوا (کسی اور) کی پیروی کرے ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا اور ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بری لوٹنے کی جگہ ہے۔
En
اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے
جو شخص باوجود راه ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راه چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وه خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے، وه پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتا ہے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت میں آپ سے عناد رکھتا ہے ﴿ مِنْۢبَعْدِمَاتَبَیَّنَلَهُالْهُدٰؔى ﴾”سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد“ یعنی دلائل قرآنی اور براہین نبوی کے ذریعے سے ہدایت کا راستہ واضح ہو جانے کے بعد ﴿ وَیَتَّ٘بِـعْغَیْرَسَبِیْلِالْمُؤْمِنِیْنَ ﴾”اور مومنوں کے راستے کے خلاف چلے“ اہل ایمان کے راستے سے مراد ان کے عقائد و اعمال ہیں ﴿ نُوَلِّهٖمَاتَوَلّٰى ﴾”ہم اس کو پھیر دیتے ہیں اسی طرف جس طرف وہ پھرتا ہے“ یعنی ہم اسے اور اس چیز کو جو اس نے اپنے لیے اختیار کی ہے چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتے ہیں اور ہم اسے بھلائی کی توفیق سے محروم کر دیتے ہیں۔ کیونکہ اس نے حق کو جان بوجھ کر ترک کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی جزا عدل و انصاف پر مبنی ہے کہ وہ اسے اس کی گمراہی میں حیران و پریشان چھوڑ دیتا ہے۔ اور وہ اپنی گمراہی میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَلَمَّازَاغُوْۤااَزَاغَاللّٰهُقُلُوْبَهُمْ﴾ (الصف: 61؍5) ”جب انھوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُقَلِّبُاَفْــِٕدَتَهُمْوَاَبْصَارَهُمْكَمَالَمْیُؤْمِنُوْابِهٖۤاَوَّلَمَرَّةٍ﴾ (الانعام: 6؍110) ”اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہ لائے تھے (اب بھی ایمان نہ لائیں گے)۔“
اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہیں کرتا اور مومنین کے راستے کی اتباع کرتا ہے۔ اس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع، اور مسلمانوں کی جماعت کی معیت کا التزام کرنا ہے۔ تب اگر اس سے کوئی گناہ صادر ہوتا ہے یا نفس کے تقاضے اور طبیعت کے غلبے کی بنا پر گناہ کا ارادہ کر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ اپنے لطف و کرم سے اس کا تدارک کر دیتا ہے اور اسے برائی سے بچا کر اس پر احسان کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جناب یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَلِنَصْرِفَعَنْهُالسُّوْٓءَوَالْفَحْشَآءَ١ؕاِنَّهٗمِنْعِبَادِنَاالْمُخْلَصِیْنَ ﴾ (یوسف: 12؍24) ”تاکہ ہم اس طرح اس سے برائی اور بے حیائی کو روک دیں بلاشبہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔“ یعنی یوسف علیہ السلام کے اخلاص کے سبب سے ان سے برائی کو دور کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ہر چنے ہوئے بندے کے ساتھ یونہی کرتا ہے۔ جیسا کہ علت کی عمومیت اس پر دلالت کرتی ہے۔
﴿ وَنُصْلِهٖجَهَنَّمَ ﴾”اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے۔“ یعنی ہم جہنم میں اسے بہت بڑے عذاب سے دوچار کریں گے ﴿ وَسَآءَتْمَصِیْرًا﴾”اور وہ بری جگہ ہے۔“ یعنی انجام کار یہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ومن يخالِف الرسول - صلى الله عليه وسلم - ويعانِده فيما جاء به، {من بعدِ ما تبيَّن له الهدى}: بالدَّلائل القرآنيَّة والبراهين النبويَّة، {ويتَّبِع غير سبيل المؤمنين}: وسبيلُهم هو طريقُهم في عقائِدِهم وأعمالهم، {نولِّه ما تولَّى}؛ أي: نتركه وما اختاره لنفسِهِ ونخذُله؛ فلا نوفِّقُه للخير؛ لكونِهِ رأى الحق وعَلِمَهُ وتركَه؛ فجزاؤه من الله عدلاً أن يُبْقِيه في ضلاله حائراً ويزداد ضلالاً إلى ضلاله؛ كما قال تعالى: {فلمَّا زاغوا أزاغ الله قلوبَهم}، وقال تعالى: {ونقلِّب أفئِدَتهم وأبصارَهم كما لَمْ يؤمِنوا به أوَّل مرة}.
ويدلُّ مفهومها على أن من لم يشاقق الرسول {ويتَّبع غير سبيل المؤمنين}؛ بأن كان قصده وجه الله واتِّباع رسوله ولزوم جماعة المسلمين، ثم صدر منه من الذنوب أو الهمِّ بها ما هو من مقتضيات النفوس وغَلَبات الطباع؛ فإن الله لا يولِّيه نفسه وشيطانه، بل يتداركُه بلطفه ويمنُّ عليه بحفظه ويعصمه من السوء؛ كما قال تعالى عن يوسف عليه السلام: {كذلك لنصرفَ عنه السوءَ والفحشاءَ إنَّه من عبادنا المخلَصين}؛ أي: بسبب إخلاصِهِ صَرَفْنا عنه السوءَ، وكذلك كلُّ مخلص؛ كما يدلُّ عليه عموم التعليل، وقوله: {ونُصْلِهِ جهنَّم}؛ أي: نعذِّبه فيها عذاباً عظيماً. {وساءت مصيراً}؛ أي: مرجعاً له ومآلاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔