ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 114

لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰىہُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍۭ بَیۡنَ النَّاسِ ؕ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ فَسَوۡفَ نُؤۡتِیۡـہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۱۱۴﴾
ان کی بہت سی سر گوشیوں میں کوئی خیر نہیں، سوائے اس شخص کے جو کسی صدقے یا نیک کام یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا حکم دے اور جو بھی یہ کام اللہ کی رضا کی طلب کے لیے کرے گا تو ہم جلد ہی اسے بہت بڑا اجر دیں گے۔ En
ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے
En
ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی خیر نہیں، ہاں! بھلائی اس کے مشورے میں ہے جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے اور جو شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادے سے یہ کام کرے اسے ہم یقیناً بہت بڑا ﺛواب دیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 114) ➊ {لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ …: نَجْوَی } کچھ لوگوں سے علیحدہ ہو کر صلاح مشورہ کو کہتے ہیں، یہ مصدر ہے اور مبالغہ کے طور پر { عَدْلٌ } اور { رِضًي} کی طرح جمع پر بھی بولا جاتا ہے اور { اِلَّا } کے بعد { نَجْوَي} محذوف ہے، یعنی { إِلاَّ نَجْوَي مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ } یعنی ان کی بہت سی سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں، سوائے اس شخص کی سر گوشی کے جو صدقے کا حکم دے۔
{ بِصَدَقَةٍ } صدقہ اس مال کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے کے لیے خرچ کیا جائے۔ یہ اصل میں نفل پر بولا جاتا ہے لیکن بعض اوقات فرض پر بھی بول دیتے ہیں، جیسے: «{ اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ [التوبۃ: ۶۰] مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ عمل دل کے صدق سے ادا ہو رہا ہے۔ (راغب) { مَعْرُوْفٍ } یہ لفظ نیکی کے تمام کاموں کو شامل ہے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھارا اپنے بھائی کو کھلے چہرے سے ملنا بھی معروف میں سے ہے۔ [ترمذی، البر والصلۃ، باب ما جاء فی طلاقۃ الوجہ …: ۱۹۷۰، عن جابر رضی اللہ عنہ و صححہ الألبانی]
{اِصْلَاحٍۭ بَيْنَ النَّاسِ} کے الفاظ مسلمانوں کے درمیان ہر قسم کے اختلافات ختم کرنے کو شامل ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ [الأنفال: ۱] سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔
ام کلثوم رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کرتا ہے اور (اس مقصد کے لیے) کوئی اچھی بات دوسرے تک پہنچاتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔ [بخاری، الصلح، باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس: ۲۶۹۲]
➋ منافق لوگ جو راتوں کو الگ بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں، وہ اکثر اوقات بری باتیں ہی سوچتے ہیں، جو خیر سے خالی ہوتی ہیں، کیونکہ بھلائی کی بات اور صاف ستھری بات کو چھپانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ البتہ کچھ کام چھپا کر کرنا بہتر ہوتے ہیں، مثلاً کسی کو صدقہ دے تو چھپا کر دے، تاکہ لینے والا شرمندہ نہ ہو، یا صدقہ دینے سے متعلق الگ مشورہ بھی اچھا کام ہے۔ اسی طرح بھلائی کے کاموں اور بالخصوص لوگوں کے درمیان صلح کرانے سے متعلق اگر خفیہ مشورہ بھی کیا جائے تو یہ بھی ایک نیکی کا عمل ہے، لیکن افسوس ہے کہ یہ لوگ ان امور میں سے تو کسی بات کا مشورہ نہیں کرتے، بلکہ ایسے مشورے کرتے ہیں جن سے شر پیدا ہو اور دوسروں کو نقصان پہنچے اور جو شخص مذکورہ بالا امور سے متعلق محض اللہ کی رضا کے لیے مشورہ کرے تو یہ بڑی نیکی کے کام ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

114۔ 1 نَجْوَیٰ (سرگوشی) سے مراد وہ باتیں ہیں جو منافقین آپس میں مسلمانوں کے خلاف یا ایک دوسرے کے خلاف کرتے تھے۔ 114۔ 2 یعنی صدقہ خیرات معروف (جو ہر قسم کی نیکی میں شامل ہے) اور اصلاح بین الناس کے بارے میں مشورے، خیر پر مبنی ہیں جیسا کہ احادیث میں بھی ان امور کی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے۔ 114۔ 3 کیونکہ اگر اخلاص (یعنی رضائے الٰہی کا مقصد) نہیں ہوگا تو بڑے سے بڑا عمل بھی نہ صرف ضائع ہوجائے گا بلکہ وبال جان بن جائے گا۔ 114۔ 4 احادیث میں اعمال مزکورہ کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ اللہ کی راہ میں حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ بھی احد پہاڑ جتنا ہوجائے گا، نیک بات کی اشاعت بھی بڑی فضیلت ہے۔ اسی رشتہ داروں دوستوں اور باہم ناراض دیگر لوگوں کے درمیان صلح کرا دینا بہت بڑا عمل ہے۔ ایک حدیث میں اسے نفلی روزوں نمازوں اور نفلی صدقات و خیرات سے بھی افضل بتلایا گیا ہے۔ فرمایا (الا اخبرکم بأفضل من درجۃ الصیام والصلاۃ والصدقۃ؟ قالوابلیٰ (اصلاح ذات البین،۔ قال۔: وفسادذات البینھی الحالقۃ) (ابوداود کتاب الأدب۔ ترمذی، کتاب البرومسند أحمد 6/445، 444) حتیٰ کہ صلح کرانے والے کو جھوٹ تک بولنے کی اجازت دے دی گئی تاکہ اسے ایک دوسرے کو قریب لانے کے لئے دروغ مصلحت آمیز کی ضرورت پڑے تو وہ اس میں بھی تامل نہ کرے (لیس الکذاب الذی یصلح بین الناس، فینمی خیرا اور یقول خیرا) (بخاری) وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے اچھی بات پھیلاتا اچھی بات کرتا ہے۔،

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

114۔ ان کی اکثر سرگوشیوں میں خیر نہیں [152] ہوتی۔ الا یہ کہ کوئی شخص پوشیدہ طور پر لوگوں کو صدقہ کرنے یا بھلے کام کرنے یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا حکم دے۔ اور جو شخص ایسے کام اللہ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے تو ہم اسے بہت بڑا اجر عطا کریں گے
[152] کون سے خفیہ مشورے بہتر ہیں؟
منافق لوگ جو راتوں کو الگ بیٹھ کر مشورے کرتے ہیں۔ وہ بسا اوقات بری باتیں ہی سوچتے ہیں، جو خیر سے خالی ہوتی ہیں۔ کیونکہ بھلائی کی اور صاف ستھری سچی بات کو چھپانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی البتہ کچھ امور ایسے ہیں جو چھپا کر کرنا بہتر ہوتے ہیں مثلاً کسی کو صدقہ دے تو چھپا کر دے تاکہ لینے والا شرمندہ نہ ہو۔ یا صدقہ دینے کے متعلق الگ مشورہ کرنا بھی اچھا کام ہے۔ اسی طرح بھلائی کے کاموں اور بالخصوص لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے متعلق اگر خفیہ مشورہ بھی کیا جائے تو بھی یہ ایک نیکی کا کام ہے لیکن افسوس ہے کہ یہ لوگ ان امور میں سے تو کسی بات کا مشورہ نہیں کرتے۔ وہ ایسے مشورے کرتے ہیں جن سے شر پیدا ہو اور دوسروں کو نقصان پہنچے۔ اور جو شخص مذکورہ بالا امور کے متعلق محض اللہ کی رضا کے لیے مشورہ کرے تو یہ بڑے نیکی کے کام ہیں۔ لوگوں میں اصلاح کے لئے اپنی طرف سے کوئی اچھی بات کہہ دینا جھوٹ نہیں: چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ کرام سے فرمایا ”کیا میں تمہیں ایسے کام کی خبر نہ دوں جو نماز، روزہ اور صدقہ سے بھی افضل ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا ''بتائیے '' تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو شخصوں کے درمیان صلح کرانا۔ کیونکہ دو آدمیوں کے درمیان فساد ڈالنا (دین کو) مونڈنے والا (برباد کرنے والا) کام ہے۔“ [ترمذي، ابواب صفة القيامة] نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے اگر کوئی شخص (اپنی طرف سے) کوئی اچھی بات کسی فریق کی طرف منسوب کر دے یا کوئی اچھی بات کہہ دے تو وہ جھوٹا نہیں ہے۔“
[بخاری، کتاب الصلح، باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس) النسآء]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اچھے کاموں کی دعوت اور برے کاموں سے روکنے کے علاوہ تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں ٭٭
لوگوں کے اکثر کلام بے معنی ہوتے ہیں سوائے ان کے جن کی باتوں کا مقصد دوسروں کی بھلائی اور لوگوں میں میل ملاپ کرانا ہو، سیدنا سفیان ثوری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے لوگ جاتے ہیں ان میں سعید بن حسان رحمہ اللہ بھی ہیں تو آپ فرماتے ہیں سعید رحمہ اللہ تم نے ام صالح کی روایت سے جو حدیث بیان کی تھی آج اسے پھر سناؤ، آپ سند بیان کر کے فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں بجز اللہ کے ذکر اور اچھے کاموں کے بتانے اور برے کاموں سے روکنے کے۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2412،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
سفیان رحمہ اللہ نے کہا یہی مضمون اس آیت میں ہے، یہی مضمون آیت «يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ صَفًّا ٷ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:38]‏‏‏‏ میں ہے یہی مضمون سورۃ والعصر میں ہے «وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ» [103-العصر:1-2]‏‏‏‏
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی آپس میں محبت بڑھانے اور صلح صفائی کے لیے جو بھی بات کہے اِدھر اُدھر سے کہے یا قسم اٹھائے وہ جھوٹوں میں داخل نہیں،} سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِدھر کی بات اُدھر کہنے کی تین صورتوں میں اجازت دیتے ہوئے سنا ہے جہاد کی ترغیب میں، لوگوں میں صلح کرانے اور میاں بیوی کو ملانے کی صورت میں } یہ ہجرت کرنے والیوں اور بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں۔۱؎ [صحیح بخاری:6292]‏‏‏‏
ایک اور حدیث میں ہے { کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاؤں؟ جو روزہ نماز اور صدقہ سے بھی افضل ہے لوگوں نے خواہش کی تو آپ نے فرمایا وہ آپس میں اصلاح کرانا ہے فرماتے ہیں اور آپس کا فساد نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے } (‏‏‏‏ابو داود وغیرہ)‏‏‏‏‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:444/6:قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
بزار میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے فرمایا آ میں تجھے ایک تجارت بتاؤں لوگ جب لڑ جھگڑ رہے ہوں تو ان میں مصالحت کرا دے جب ایک دوسرے سے رنجیدہ ہوں تو انہیں ملا دے۔ } ۱؎ [مسند بزار:2060:ضعیف]‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی بھلی باتیں رب کی رضا مندی خلوص اور نیک نیتی سے جو کرے وہ اجر عظیم پائے گا۔
جو شخص غیر شرعی طریق پر چلے یعنی شرع ایک طرف ہو اور اس کی راہ ایک طرف ہو۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ہو اور اس کا مقصد عمل اور ہو۔ حالانکہ اس پر حق واضح ہو چکا ہو دلیل دیکھ چکا ہو پھر بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کر کے مسلمانوں کی صاف راہ سے ہٹ جائے تو ہم بھی اسے ٹیڑھی اور بری راہ پر ہی لگا دیتے ہیں اسے وہی غلط راہ اچھی اور بھلی معلوم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ بیچوں بیچ جہنم میں جا پہنچتا ہے۔
مومنوں کی راہ کے علاوہ راہ اختیار کرنا دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی کے مترادف ہے جو کبھی تو شارع علیہ السلام کی صاف بات کے خلاف اور کبھی اس چیز کے خلاف ہوتا ہے جس پر ساری امت محمدیہ متفق ہے جس میں انہیں اللہ نے بوجہ ان کی شرافت وکرامت کے محفوظ کر رکھا ہے۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں بھی ہیں اور ہم نے بھی احادیث اصول میں ان کا بڑا حصہ بیان کر دیا ہے، بعض علماء تو اس کے تواتر معنی کے قائل ہیں،
امام شافعی رحمہ اللہ غورو فکر کے بعد اس آیت سے امت کے اتفاق کی دلیل ہونے پر استدلال کیا ہے حقیقتاً یہی موقف بہترین اور قوی تر ہے، بعض دیگر ائمہ نے اس دلالت کو مشکل اور دور از آیت بھی بتایا ہے، غرض ایسا کرنے والے کی رسی اللہ میاں بھی ڈھیلی چھوڑ دیتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [68-القلم:44]‏‏‏‏ یعنی ’ ہم ان کی بیخبری میں آہستہ آہستہ مہلت بڑھاتے رہتے ہیں، ان کے بہکتے ہی ہم ان کے دلوں کو ٹیڑہ کر دیتے ہیں ‘ «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» ۱؎ [61-الصف:5]‏‏‏‏ ’ ہم بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیتے ہیں، ہم انہیں ان کی سرکشی میں گم چھوڑ دیتے ہیں۔ بالآخر ان کی جائے بازگشت جہنم بن جاتی ہے۔ ‘
جیسے فرمان ہے «وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:110]‏‏‏‏ ’ ظالموں کو ان کے ساتھیوں کے ساتھ قبروں سے اٹھائیں گے۔‘
اور جیسے فرمایا «وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [18-الكهف:53]‏‏‏‏ ’ ظالم آگ کو دیکھ کر جان لے گا کہ اس میں کودنا پڑے گا لیکن کوئی صورت چھٹکارے کی نہ پائے گا۔‘

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی بہت سی ایسی سرگوشیاں جو لوگ آپس میں کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں ان میں کوئی بھلائی نہیں۔ اور جس کلام میں کوئی بھلائی نہ ہو تو وہ یا تو بے فائدہ کلام ہوتا ہے مثلاً فضول مگر مباح بات چیت۔ یا وہ محض شر ہوتا ہے مثلاً محرم کلام کی تمام اقسام۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ ہاں وہ شخص جو صدقہ کا حکم دے۔ یعنی اس میں سے وہ شخص مستثنی ہے جو مال، علم یا کسی اور منفعت میں صدقہ کا حکم دیتا ہے۔ بلکہ شاید بعض چھوٹی عبادات بھی اس زمرے میں شمار ہوتی ہیں۔ مثلاً تسبیح و تحمید وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، ہر تہلیل صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی کے پاس جانا بھی صدقہ ہے۔ الحدیث۔ (صحیح مسلم، الزکاۃ، حدیث:1006،صحیح مسلم، الزکاۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف، ح: 1006)
﴿ اَوْ مَعْرُوْفٍ یا نیک بات معروف سے مراد بھلائی اور نیکی ہے اور ہر وہ کام، جسے شریعت نے نیکی قرار دیا اور عقل نے اس کی تحسین کی، معروف کے زمرے میں آتا ہے جب اَمَر بِالْمَعْرُوف کا لفظ نَہْیِ عَنِ الْمُنْکَر کے ساتھ ملائے بغیر استعمال کیا جائے تو برائی سے روکنا اس میں شامل ہوتا ہے کیونکہ منہیات کو ترک کرنا بھی نیکی ہے، نیز بھلائی اس وقت تک تکمیل نہیں پاتی جب تک کہ برائی کو ترک نہ کر دیا جائے اور جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک ساتھ ذکر ہو تو، معروف سے مراد ہر وہ کام ہے جس کا شریعت میں حکم دیا گیا ہو منکر سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے شریعت میں روکا گیا ہو۔
﴿ اَوْ اِصْلَاحٍ ۭ بَیْنَ النَّاسِ یا لوگوں کے مابین صلح کرانے کا حکم کرے اور اصلاح صرف دو جھگڑنے والوں کے درمیان ہی ہوتی ہے۔ نزاع، جھگڑا، مخاصمت اور آپس میں ناراضی اس قدر شر اور تفرقہ کا باعث بنتے ہیں جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ پس اسی لیے شارع نے لوگوں کو ان کے قتل، مال، اور عزت ناموس کے جھگڑوں میں اصلاح کی ترغیب دی ہے بلکہ تمام ادیان میں اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آل عمران: 3؍103) سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ فرمایا ﴿ وَاِنْ طَآىِٕفَتٰ٘نِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰؔىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَ٘بْغِیْ حَتّٰى تَ٘فِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ (الحجرات: 49؍9) اگر مومنوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَالصُّلْ٘حُ خَیْرٌ (النساء: 4؍128) اور صلح اچھی چیز ہے۔
لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا اس شخص سے بہتر ہے جو کثرت سے (نفلی) نماز روزے اور صدقہ کا اہتمام کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والے کے عمل اور کوشش کی اصلاح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے والے کے عمل اور کوشش کی اصلاح نہیں کرتا اور نہ اس کا مقصد پورا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ (یونس: 10؍81) اللہ فساد کرنے والوں کے کام کی اصلاح نہیں کرتا۔
یہ تمام افعال جہاں کہیں بھی بجا لائے جائیں گے۔ بھلائی کے زمرے میں آئیں گے، جیسا کہ یہ استثناء دلالت کرتا ہے۔ مگر پورا اور کامل اجر بندے کی نیت پر منحصر ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَؔ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا اور جو شخص اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادہ سے یہ کام کرے اسے ہم یقینا بہت بڑا ثواب دیں گے بنابریں بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھے اور ہر وقت چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے تاکہ اسے اجر عظیم حاصل ہو، تاکہ اس میں اخلاص کی عادت راسخ ہو اور وہ اہل اخلاص کے زمرے میں شمار ہو اور اس کے اجر کی تکمیل ہو خواہ اس کے مقصد کی تکمیل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو کیونکہ اس نے اس نیک مقصد کی نیت کی تھی اور امکان بھر اس پر عمل بھی کیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لا خير في كثير مما يتناجى به الناس ويتخاطبون، وإذا لم يكنْ فيه خيرٌ؛ فإمّا لا فائدة فيه؛ كفضول الكلام المباح، وإما شرٌّ ومضرَّة محضةٌ؛ كالكلام المحرَّم بجميع أنواعه. ثم استثنى تعالى فقال: {إلاَّ من أمر بصدقةٍ}: من مال أو علم أو أيِّ نفع كان، بل لعلَّه يدخُل فيه العباداتُ القاصرةُ؛ كالتسبيح والتحميد ونحوِهِ؛ كما قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -: «إنَّ بكلِّ تسبيحةٍ صدقة، وكلِّ تكبيرة صدقة، وكلِّ تهليلة صدقة، وأمر بالمعروف صدقة، ونهي عن المنكر صدقة، وفي بضع أحدكم صدقة .... » الحديث. {أو معروفٍ}: وهو الإحسان والطاعة وكلُّ ما عُرِف في الشرع والعقل حسنُه، وإذا أُطلِقَ الأمرُ بالمعروف من غير أن يُقْرَنَ بالنَّهي عن المنكر؛ دخلَ فيه النهي عن المنكر؛ وذلك لأنَّ ترك المنهيّات من المعروف، وأيضاً لا يتمُّ فعل الخير إلا بترك الشرِّ، وأما عند الاقتران؛ فيفسَّر المعروف بفعل المأمور والمنكَر بترك المنهيِّ.

{أو إصلاح بين الناس}: والإصلاحُ لا يكون إلاَّ بين متنازعينِ متخاصمينِ، والنِّزاع والخصام والتغاضُب يوجِب من الشَّرِّ والفرقة ما لا يمكن حصرُه؛ فلذلك حثَّ الشارع على الإصلاح بين الناس في الدِّماء والأموال والأعراض، بل وفي الأديان؛ كما قال تعالى: {واعتَصِموا بحبل الله جميعاً ولا تفرَّقوا}، وقال تعالى: {وإن طائفتان من المؤمنين اقْتَتَلوا فأصلحوا بينَهما، فإن بَغَتْ إحداهما على الأخرى فقاتِلوا التي تبغي حتَّى تفيءَ إلى أمر الله ... } الآية، وقال تعالى: {والصُّلْحُ خيرٌ}، والساعي في الإصلاح بين الناس أفضل من القانتِ بالصلاة والصيام والصدقة، والمصلِح لا بدَّ أن يُصْلِحَ الله سعيَه وعمله؛ كما أنَّ الساعي في الإفساد لا يُصْلِحُ الله عمله ولا يتم له مقصوده؛ كما قال تعالى: {إنَّ الله لا يُصْلِحُ عملَ المفسدين}؛ فهذه الأشياء حيثما فعلت؛ فهي خيرٌ؛ كما دلَّ على ذلك الاستثناء، ولكن كمال الأجر وتمامه بحسب النيَّة والإخلاص. ولهذا قال: {ومن يفعل ذلك ابتغاءَ مرضاةِ الله فسوف نؤتيه أجراً عظيماً}؛ فلهذا ينبغي للعبد أن يقصدَ وجه الله تعالى ويُخْلِصَ العمل لله في كلِّ وقت وفي كلِّ جزء من أجزاء الخير؛ ليحصلَ له بذلك الأجر العظيم، وليتعوَّد الإخلاص، فيكون من المخلصين. وليتمَّ له الأجر، سواءٌ تمَّ مقصودُه أم لا؛ لأنَّ النيَّة حصلت، واقترن بها ما يمكنُ من العمل.