تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{ ”بِصَدَقَةٍ“ } صدقہ اس مال کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے کے لیے خرچ کیا جائے۔ یہ اصل میں نفل پر بولا جاتا ہے لیکن بعض اوقات فرض پر بھی بول دیتے ہیں، جیسے: «{ اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ }» [التوبۃ: ۶۰] مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ عمل دل کے صدق سے ادا ہو رہا ہے۔ (راغب) { ”مَعْرُوْفٍ“ } یہ لفظ نیکی کے تمام کاموں کو شامل ہے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارا اپنے بھائی کو کھلے چہرے سے ملنا بھی معروف میں سے ہے۔“ [ترمذی، البر والصلۃ، باب ما جاء فی طلاقۃ الوجہ …: ۱۹۷۰، عن جابر رضی اللہ عنہ و صححہ الألبانی]
{”اِصْلَاحٍۭ بَيْنَ النَّاسِ“} کے الفاظ مسلمانوں کے درمیان ہر قسم کے اختلافات ختم کرنے کو شامل ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ }» [الأنفال: ۱] ”سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔“
ام کلثوم رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کرتا ہے اور (اس مقصد کے لیے) کوئی اچھی بات دوسرے تک پہنچاتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔“ [بخاری، الصلح، باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس: ۲۶۹۲]
➋ منافق لوگ جو راتوں کو الگ بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں، وہ اکثر اوقات بری باتیں ہی سوچتے ہیں، جو خیر سے خالی ہوتی ہیں، کیونکہ بھلائی کی بات اور صاف ستھری بات کو چھپانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ البتہ کچھ کام چھپا کر کرنا بہتر ہوتے ہیں، مثلاً کسی کو صدقہ دے تو چھپا کر دے، تاکہ لینے والا شرمندہ نہ ہو، یا صدقہ دینے سے متعلق الگ مشورہ بھی اچھا کام ہے۔ اسی طرح بھلائی کے کاموں اور بالخصوص لوگوں کے درمیان صلح کرانے سے متعلق اگر خفیہ مشورہ بھی کیا جائے تو یہ بھی ایک نیکی کا عمل ہے، لیکن افسوس ہے کہ یہ لوگ ان امور میں سے تو کسی بات کا مشورہ نہیں کرتے، بلکہ ایسے مشورے کرتے ہیں جن سے شر پیدا ہو اور دوسروں کو نقصان پہنچے اور جو شخص مذکورہ بالا امور سے متعلق محض اللہ کی رضا کے لیے مشورہ کرے تو یہ بڑی نیکی کے کام ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری، کتاب الصلح، باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس) النسآء]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سفیان رحمہ اللہ نے کہا یہی مضمون اس آیت میں ہے، یہی مضمون آیت «يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ صَفًّا ٷ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:38] میں ہے یہی مضمون سورۃ والعصر میں ہے «وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ» [103-العصر:1-2]
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی آپس میں محبت بڑھانے اور صلح صفائی کے لیے جو بھی بات کہے اِدھر اُدھر سے کہے یا قسم اٹھائے وہ جھوٹوں میں داخل نہیں،} سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِدھر کی بات اُدھر کہنے کی تین صورتوں میں اجازت دیتے ہوئے سنا ہے جہاد کی ترغیب میں، لوگوں میں صلح کرانے اور میاں بیوی کو ملانے کی صورت میں } یہ ہجرت کرنے والیوں اور بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں۔۱؎ [صحیح بخاری:6292]
بزار میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے فرمایا آ میں تجھے ایک تجارت بتاؤں لوگ جب لڑ جھگڑ رہے ہوں تو ان میں مصالحت کرا دے جب ایک دوسرے سے رنجیدہ ہوں تو انہیں ملا دے۔ } ۱؎ [مسند بزار:2060:ضعیف] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی بھلی باتیں رب کی رضا مندی خلوص اور نیک نیتی سے جو کرے وہ اجر عظیم پائے گا۔
مومنوں کی راہ کے علاوہ راہ اختیار کرنا دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی کے مترادف ہے جو کبھی تو شارع علیہ السلام کی صاف بات کے خلاف اور کبھی اس چیز کے خلاف ہوتا ہے جس پر ساری امت محمدیہ متفق ہے جس میں انہیں اللہ نے بوجہ ان کی شرافت وکرامت کے محفوظ کر رکھا ہے۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں بھی ہیں اور ہم نے بھی احادیث اصول میں ان کا بڑا حصہ بیان کر دیا ہے، بعض علماء تو اس کے تواتر معنی کے قائل ہیں،
امام شافعی رحمہ اللہ غورو فکر کے بعد اس آیت سے امت کے اتفاق کی دلیل ہونے پر استدلال کیا ہے حقیقتاً یہی موقف بہترین اور قوی تر ہے، بعض دیگر ائمہ نے اس دلالت کو مشکل اور دور از آیت بھی بتایا ہے، غرض ایسا کرنے والے کی رسی اللہ میاں بھی ڈھیلی چھوڑ دیتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [68-القلم:44] یعنی ’ ہم ان کی بیخبری میں آہستہ آہستہ مہلت بڑھاتے رہتے ہیں، ان کے بہکتے ہی ہم ان کے دلوں کو ٹیڑہ کر دیتے ہیں ‘ «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» ۱؎ [61-الصف:5] ’ ہم بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیتے ہیں، ہم انہیں ان کی سرکشی میں گم چھوڑ دیتے ہیں۔ بالآخر ان کی جائے بازگشت جہنم بن جاتی ہے۔ ‘
جیسے فرمان ہے «وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ’ ظالموں کو ان کے ساتھیوں کے ساتھ قبروں سے اٹھائیں گے۔‘
اور جیسے فرمایا «وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53] ’ ظالم آگ کو دیکھ کر جان لے گا کہ اس میں کودنا پڑے گا لیکن کوئی صورت چھٹکارے کی نہ پائے گا۔‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لا خير في كثير مما يتناجى به الناس ويتخاطبون، وإذا لم يكنْ فيه خيرٌ؛ فإمّا لا فائدة فيه؛ كفضول الكلام المباح، وإما شرٌّ ومضرَّة محضةٌ؛ كالكلام المحرَّم بجميع أنواعه. ثم استثنى تعالى فقال: {إلاَّ من أمر بصدقةٍ}: من مال أو علم أو أيِّ نفع كان، بل لعلَّه يدخُل فيه العباداتُ القاصرةُ؛ كالتسبيح والتحميد ونحوِهِ؛ كما قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -: «إنَّ بكلِّ تسبيحةٍ صدقة، وكلِّ تكبيرة صدقة، وكلِّ تهليلة صدقة، وأمر بالمعروف صدقة، ونهي عن المنكر صدقة، وفي بضع أحدكم صدقة .... » الحديث. {أو معروفٍ}: وهو الإحسان والطاعة وكلُّ ما عُرِف في الشرع والعقل حسنُه، وإذا أُطلِقَ الأمرُ بالمعروف من غير أن يُقْرَنَ بالنَّهي عن المنكر؛ دخلَ فيه النهي عن المنكر؛ وذلك لأنَّ ترك المنهيّات من المعروف، وأيضاً لا يتمُّ فعل الخير إلا بترك الشرِّ، وأما عند الاقتران؛ فيفسَّر المعروف بفعل المأمور والمنكَر بترك المنهيِّ.
{أو إصلاح بين الناس}: والإصلاحُ لا يكون إلاَّ بين متنازعينِ متخاصمينِ، والنِّزاع والخصام والتغاضُب يوجِب من الشَّرِّ والفرقة ما لا يمكن حصرُه؛ فلذلك حثَّ الشارع على الإصلاح بين الناس في الدِّماء والأموال والأعراض، بل وفي الأديان؛ كما قال تعالى: {واعتَصِموا بحبل الله جميعاً ولا تفرَّقوا}، وقال تعالى: {وإن طائفتان من المؤمنين اقْتَتَلوا فأصلحوا بينَهما، فإن بَغَتْ إحداهما على الأخرى فقاتِلوا التي تبغي حتَّى تفيءَ إلى أمر الله ... } الآية، وقال تعالى: {والصُّلْحُ خيرٌ}، والساعي في الإصلاح بين الناس أفضل من القانتِ بالصلاة والصيام والصدقة، والمصلِح لا بدَّ أن يُصْلِحَ الله سعيَه وعمله؛ كما أنَّ الساعي في الإفساد لا يُصْلِحُ الله عمله ولا يتم له مقصوده؛ كما قال تعالى: {إنَّ الله لا يُصْلِحُ عملَ المفسدين}؛ فهذه الأشياء حيثما فعلت؛ فهي خيرٌ؛ كما دلَّ على ذلك الاستثناء، ولكن كمال الأجر وتمامه بحسب النيَّة والإخلاص. ولهذا قال: {ومن يفعل ذلك ابتغاءَ مرضاةِ الله فسوف نؤتيه أجراً عظيماً}؛ فلهذا ينبغي للعبد أن يقصدَ وجه الله تعالى ويُخْلِصَ العمل لله في كلِّ وقت وفي كلِّ جزء من أجزاء الخير؛ ليحصلَ له بذلك الأجر العظيم، وليتعوَّد الإخلاص، فيكون من المخلصين. وليتمَّ له الأجر، سواءٌ تمَّ مقصودُه أم لا؛ لأنَّ النيَّة حصلت، واقترن بها ما يمكنُ من العمل.