وَ تَرَی الۡمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ ۚ وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ قِیۡلَ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۷۵﴾
اور تو فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہو ئے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا ا ور کہا جائے گا کہ سب تعریف ا للہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
En
تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد گھیرا باندھے ہوئے ہیں (اور) اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو سارے جہان کا مالک ہے
En
اور تو فرشتوں کو اللہ کے عرش کے اردگرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے دیکھے گا اور ان میں انصاف کا فیصلہ کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ساری خوبی اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 75) ➊ { وَ تَرَى الْمَلٰٓىِٕكَةَ حَآفِّيْنَ …:} یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نزول فرمائے گا اس وقت فرشتے عرش کو اردگرد سے گھیرے ہوئے ہوں گے۔ اس منظر کو دوسرے مقام پر کچھ تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے: «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ (13) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً (14) فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ (15) وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ (16) وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآىِٕهَا وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ (17) يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ» [الحآقۃ: ۱۳ تا ۱۸] ”پس جب صور میں پھونکا جائے گا، ایک بار پھونکنا۔ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔ تو اس دن ہونے والی ہو جائے گی۔ اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن کمزور ہو گا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمھاری کوئی چھپی ہوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔“ سورۂ حاقہ میں ان آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
➋ { مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنا ہی کافی تھا {”حَافِّيْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ“} کہ وہ عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہوں گے، پھر لفظ {” مِنْ “} لانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا جواب بعض مفسرین نے دیا ہے کہ یہ {” مِنْ “ } زائد ہے۔ بقاعی نے فرمایا کہ یہ {” مِنْ “ } تبعیض کے لیے ہے، یعنی فرشتے کتنی بھی تعداد میں ہوں عرش اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی مخلوق ہے کہ سب فرشتے مل کر بھی اس کے اردگرد کے کچھ حصے ہی پر گھیرا ڈال سکیں گے۔
➌ { وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ:} یعنی ایسے پر جلال اور پر ہیبت ماحول میں اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔
➍ {وَ قِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} یعنی لوگوں کے فیصلے کا اختتام اللہ رب العالمین کی حمد پر ہو گا۔ حمد کرنے والوں کے عام ہونے کی وجہ سے {” قِيْلَ “} (کہا جائے گا) میں کہنے والے کا ذکر نہیں فرمایا۔ مطلب یہ کہ جب فیصلہ ہو چکے گا تو کائنات کا ذرہ ذرہ ان سراسر عدل اور رحم والے فیصلوں پر اللہ رب العالمین کی حمد کرے گا اور ہر طرف سے آواز آئے گی: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ” سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ طبری نے صحیح سند کے ساتھ قتادہ کا قول ذکر کیا ہے، انھوں نے فرمایا: ”مخلوق کی پیدائش کی ابتدا بھی حمد کے ساتھ ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ» [الأنعام: ۱] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو بنایا۔“ اور مخلوق کی انتہا بھی حمد ہے، فرمایا: «وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [الزمر: ۷۵] ”اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ سب تعریف ا للہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ (طبری) ہمارے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ ہر کام کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہونی چاہیے، جیسا کہ اہلِ جنت کے متعلق فرمایا: «دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [یونس: ۱۰] ”ان کی دعا ان میں یہ ہوگی”پاک ہے تو اے اللہ!“ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“ حمد کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ فاتحہ کی تفسیر۔
➋ { مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنا ہی کافی تھا {”حَافِّيْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ“} کہ وہ عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہوں گے، پھر لفظ {” مِنْ “} لانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا جواب بعض مفسرین نے دیا ہے کہ یہ {” مِنْ “ } زائد ہے۔ بقاعی نے فرمایا کہ یہ {” مِنْ “ } تبعیض کے لیے ہے، یعنی فرشتے کتنی بھی تعداد میں ہوں عرش اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی مخلوق ہے کہ سب فرشتے مل کر بھی اس کے اردگرد کے کچھ حصے ہی پر گھیرا ڈال سکیں گے۔
➌ { وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ:} یعنی ایسے پر جلال اور پر ہیبت ماحول میں اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔
➍ {وَ قِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} یعنی لوگوں کے فیصلے کا اختتام اللہ رب العالمین کی حمد پر ہو گا۔ حمد کرنے والوں کے عام ہونے کی وجہ سے {” قِيْلَ “} (کہا جائے گا) میں کہنے والے کا ذکر نہیں فرمایا۔ مطلب یہ کہ جب فیصلہ ہو چکے گا تو کائنات کا ذرہ ذرہ ان سراسر عدل اور رحم والے فیصلوں پر اللہ رب العالمین کی حمد کرے گا اور ہر طرف سے آواز آئے گی: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ” سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ طبری نے صحیح سند کے ساتھ قتادہ کا قول ذکر کیا ہے، انھوں نے فرمایا: ”مخلوق کی پیدائش کی ابتدا بھی حمد کے ساتھ ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ» [الأنعام: ۱] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو بنایا۔“ اور مخلوق کی انتہا بھی حمد ہے، فرمایا: «وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [الزمر: ۷۵] ”اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ سب تعریف ا للہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ (طبری) ہمارے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ ہر کام کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہونی چاہیے، جیسا کہ اہلِ جنت کے متعلق فرمایا: «دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [یونس: ۱۰] ”ان کی دعا ان میں یہ ہوگی”پاک ہے تو اے اللہ!“ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“ حمد کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ فاتحہ کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
75۔ 1 قضائے الٰہی کے بعد جب اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے، آیت میں اس کے بعد کا نقشۃ بیان کیا گیا ہے کہ فرشتے عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے تسبیح وتحمید میں مصروف ہوں گے۔ 75۔ 2۔ یہاں حمد کی نسبت کسی ایک مخلوق کی طرف نہیں کی گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز (ناطق و غیر ناطق) کی زبان پر حمد الٰہی کے ترانے ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
75۔ نیز (اس دن) آپ دیکھیں گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ باندھے، اپنے پروردگار کی تعریف [96] کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ اور لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور سب کہیں گے کہ: ”سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“
[96] دربار برخواست ہونے پر ﴿الحمد لله﴾ رب العالمین کی صدائیں :۔
یعنی جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے میدان محشر میں نزول اجلال فرمائے گا اس وقت فرشتے اللہ تعالیٰ کے عرش کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوں گے۔ اور جب اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان علی رؤس الاشہاد مبنی بر انصاف فیصلہ فرما چکے گا تو ہر طرف سے جوش و خروش کے ساتھ ﴿ألْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ﴾ کا نعرہ بلند ہو گا۔ اسی نعرہ تحسین پر اللہ تعالیٰ کا دربار برخاست ہو گا۔ پھر تمام لوگوں کو ان کے فیصلہ کے مطابق ان کے ٹھکانوں پر بھیج دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ دن موجودہ دن رات کے حساب سے پچاس ہزار برس کا ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
روز قیامت انصاف کے ساتھ فیصلہ ہو گا ٭٭
جبکہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم کا فیصلہ سنا دیا اور انہیں ان کے ٹھکانے پہنچائے جانے کا حال بھی بیان کر دیا۔ اور اس میں اپنے عدل و انصاف کا ثبوت بھی دے دیا، تو اس آیت میں فرمایا کہ ’ قیامت کے روز اس وقت تو دیکھے گا کہ فرشتے اللہ کے عرش کے چاروں طرف کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح بزرگی اور بڑائی بیان کر رہے ہوں گے ‘۔
ساری مخلوق میں عدل و حق کے ساتھ فیصلے ہو چکے ہوں گے۔ اس سراسر عدل اور بالکل رحم والے فیصلوں پر کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی ثنا خوانی کرنے لگے گا اور جاندار چیز سے آواز آئے گی کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» چونکہ اس وقت ہر اک تر و خشک چیز اللہ کی حمد بیان کرے گی اس لیے یہاں مجہول کا صیغہ لا کر فاعل کو عام کر دیا گیا۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں خلق کی پیدائش کی ابتداء بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» ۱؎ [6-الأنعام:1] اور مخلوق کی انتہا بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:75]۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الزمر کی تفسیر ختم ہوئی۔
ساری مخلوق میں عدل و حق کے ساتھ فیصلے ہو چکے ہوں گے۔ اس سراسر عدل اور بالکل رحم والے فیصلوں پر کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی ثنا خوانی کرنے لگے گا اور جاندار چیز سے آواز آئے گی کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» چونکہ اس وقت ہر اک تر و خشک چیز اللہ کی حمد بیان کرے گی اس لیے یہاں مجہول کا صیغہ لا کر فاعل کو عام کر دیا گیا۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں خلق کی پیدائش کی ابتداء بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» ۱؎ [6-الأنعام:1] اور مخلوق کی انتہا بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:75]۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الزمر کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَتَرَى الْمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ اے دیکھنے والے! تو اس عظیم دن، فرشتوں کو دیکھے گا کہ ﴿حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْ٘عَرْشِ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے سرافگندہ، اس کے جمال میں مستغرق ہو کر اور اس کے کمال کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے عرش کے اردگرد اس کی خدمت میں جمع ہوں گے۔ ﴿یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ﴾ یعنی وہ اپنے رب کی ہر اس وصف سے تنزیہ و تقدیس کریں گے جو اس کے جلال کے لائق نہیں، جو مشرکین نے اس کی طرف منسوب کیے ہیں یا نہیں کیے۔
﴿وَقُ٘ضِیَ بَیْنَهُمْ ﴾ یعنی اولین و آخرین تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ﴿بِالْحَقِّ ﴾ ” حق کے ساتھ۔“ جس میں کوئی اشتباہ ہو گا نہ وہ شخص انکار کر سکے گا جس کے ذمہ یہ حق ہو گا۔ ﴿وَقِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴾ ”اور کہا جائے گا: ہر طرح کی حمد و تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ یہاں قائل کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام مخلوق اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں اس کی حکمت پر اس کی حمد بیان کرے گی یعنی فضل و احسان کی حمد اور عدل و حکمت کی حمد۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وترى الملائكةَ}: أيُّها الرائي ذلك اليوم العظيم {حافِّينَ من حول العرشِ}؛ أي: قد قاموا في خدمةِ ربِّهم واجتمعوا حولَ عرشِهِ خاضعين لجلالِهِ معترِفين بكمالِهِ مستغرِقين بجمالِهِ، {يسبِّحونَ بحمدِ ربِّهم}؛ أي: ينزِّهونه عن كلِّ ما لا يَليقُ بجلالِهِ مما نَسَبَ إليه المشركون وما لم يَنْسبوا. {وقُضِيَ بينَهم}؛ أي: بين الأوَّلين والآخرين من الخلق {بالحقِّ}: الذي لا اشْتِباه فيه ولا إنْكارَ ممَّنْ عليه الحقُّ. {وقيلَ الحمدُ لله ربِّ العالمينَ}: لم يَذْكُرِ القائلَ مَنْ هو؛ ليدلَّ ذلك على أنَّ جميعَ الخلق نَطَقوا بحمد ربِّهم وحكمتِهِ على ما قضى به على أهل الجنةِ وأهل النارِ، حَمْدَ فضل وإحسانٍ، وحَمْدَ عدل وحكمةٍ.