تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ لَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ:} ہاں، وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور ناشکری کو پسند نہیں کرتا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ {”وَلَا يَرْضٰي لَكُمُ الْكُفْرَ“} (وہ تمھارے لیے ناشکری کو پسند نہیں کرتا) یہ فرمایا کہ وہ اپنے عباد (بندوں) کے لیے ناشکری کو پسند نہیں کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مالک اپنے غلاموں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتا، تم اپنے متعلق سوچ لو، کیا تم اپنے کسی غلام کی ناشکری اور بغاوت کو پسند کرو گے، حالانکہ غلام تمھارے جیسے انسان ہیں، تو اللہ اپنے غلاموں کی ناشکری اور کفر کو کیسے پسند فرمائے گا، جب کہ وہ اس کے پیدا کیے ہوئے اور ہر طرح سے اس کے محتاج ہیں؟
➌ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور ارادہ اور چیز ہے اور اس کی رضا اور پسند دوسری چیز ہے۔ دنیا میں کوئی بھی کام اس کی مشیّت اور ارادے کے بغیر نہیں ہو سکتا، مگر اس نے انسانوں کو اور جنّوں کو ایک حد تک اختیار دیا ہے، وہ چاہیں تو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اس پر ایمان لائیں اور اس کے احکام پر عمل کریں، یا چاہیں تو ناشکری کرتے ہوئے اس کے ساتھ کفر کریں اور اس کے احکام کی نافرمانی کریں۔ یہ اختیار دینے میں اس کی بے شمار حکمتیں ہیں، جن میں سے ایک بندوں کی آزمائش ہے، مگر وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے بندے ہو کر وہ اس کی ناشکری اور نافرمانی کریں۔ مثلاً ابلیس اور تمام کفار کا کفر اس کی مشیّت اور ارادے کے ساتھ ہی ہے، وہ اللہ سے زبردست ہو کر نہیں بلکہ اس کے دیے ہوئے اختیار ہی کی وجہ سے کفر کر رہے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کو ان کا کفر کرنا پسند نہیں ہے۔
➍ {وَ اِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ: ” يَرْضَهُ “} اصل میں {”يَرْضَاهُ“} ہے، {” اِنْ تَشْكُرُوْا “} شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے اس پر جزم آئی، جس سے ”الف“ گر گیا۔{ ”هٗ“} ضمیر {” تَشْكُرُوْا “} کے ضمن میں پائے جانے والے شکر کی طرف جا رہی ہے، یعنی اگر تم شکر کرو تو اللہ تعالیٰ اس شکر کو تمھارے لیے پسند فرمائے گا۔
➎ { وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى:} یعنی تم میں سے ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، کسی دوسرے شخص کے کہنے پر یا اسے راضی رکھنے کے لیے اگر کفر اختیار کرے گا تو کوئی اس کے کفر کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ {” وَازِرَةٌ “} کے مؤنث ہونے کی وجہ جاننے اور مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ فاطر کی آیت (۱۸) کی تفسیر۔
➏ { ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ …:} یعنی دنیا میں تمھیں شکر یا کفر کا اختیار ہے، مگر آخر کار تم سب کو واپس اللہ کے پاس جانا ہے، جس نے تمھیں شروع میں پیدا فرمایا۔ وہ تمھیں تمھارے انھی اعمال کی خبر اور جزا دے گا جو تم کرتے رہے، یہ نہیں ہوگا کہ کسی اور کے عمل تمھارے ذمے ڈال دیے جائیں، یا تمھارے نیک یا بد اعمال غائب کر دیے جائیں۔
➐ { اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ:} یہ اس سے پہلے جملے کی علت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کو تم میں سے ہر شخص کے اعمال اس کے سامنے پیش کرنا کچھ مشکل نہیں، کیونکہ وہ تو سینوں کی باتوں تک کو پوری طرح جاننے والا ہے، پھر کوئی قول یا عمل اس سے کس طرح مخفی رہ سکتا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[16] یعنی اگر آج تم کسی کو راضی رکھنے کے لئے یا اس کی ناراضگی سے بچنے کے لئے کفر یا گمراہی کی راہ اختیار کرو گے تو قیامت کے دن وہ تمہارا بوجھ اٹھا نہیں لے گا۔ اس کے تو اپنے گناہوں کا بوجھ اس کے لئے وبال جان بنا ہو گا وہ تمہارا بوجھ کیسے اٹھائے گا۔؟ لہٰذا اللہ سے شرک اور کفران نعمت کے بارے میں انتہائی محتاط روش اختیار کرو۔ دوسروں کے بہکاوے میں نہ آؤ۔ اور خود سیدھی سی بات اور سیدھی راہ کو پہچاننے اور سمجھنے کی کوشش کرو۔ جن لوگوں کو آج تم نے اپنا پیشوا سمجھ رکھا ہے وہ کل تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اے میرے بندو! تمہارے سب اول و آخر انسان و جن مل ملا کر بدترین شخص کا سا دل بنا لو تو میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آئے گی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2577]
ہاں اللہ تمہاری ناشکری سے خوش نہیں نہ وہ اس کا تمہیں حکم دیتا ہے اور اگر تم اس کی شکر گزاری کرو گے تو وہ اس پر تم سے رضامند ہو جائے گا اور تمہیں اپنی اور نعمتیں عطا فرمائے گا۔ ہر شخص وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو ایک کے بدلے دوسرا پکڑا نہ جائے گا اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ انسان کو دیکھو کہ اپنی حاجت کے وقت تو بہت ہی عاجزی انکساری سے اللہ کو پکارتا ہے اور اس سے فریاد کرتا رہتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:67]، یعنی ’ جب دریا اور سمندر میں ہوتے ہیں اور وہاں کوئی آفت آتی دیکھتے ہیں تو جن جن کو اللہ کے سوا پکارتے تھے سب کو بھول جاتے ہیں اور خالص اللہ کو پکارنے لگتے ہیں لیکن نجات پاتے ہی منہ پھیر لیتے ہیں انسان ہے ہی ناشکرا ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُ» ۱؎ [10-يونس:12]، یعنی ’ تکلیف کے وقت تو انسان ہمیں اٹھتے بیٹھتے لیٹتے ہر وقت بڑی حضور قلبی سے پکارتا رہتا ہے لیکن اس تکلیف کے ہٹتے ہی وہ بھی ہم سے ہٹ جاتا ہے گویا اس نے دکھ درد کے وقت ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ بلکہ عافیت کے وقت اللہ کے ساتھ شریک کرنے لگتا ہے ‘۔
پس اللہ فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگ اپنے کفر سے گو کچھ یونہی سا فائدہ اٹھا لیں ‘۔ اس میں ڈانٹ ہے اور سخت دھمکی ہے جیسے فرمایا «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:30] ’ کہدیجئیے کہ فائدہ حاصل کر لو آخری جگہ تو تمہاری جہنم ہی ہے ‘،اور فرمان ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ ہم انہیں کچھ فائدہ دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إن تَكْفُروا فإنَّ الله غنيٌّ عنكم}: لا يضرُّه كفرُكم كما لا ينتفع بطاعتكم، ولكنْ أمرُهُ ونهيُهُ لكم محضُ فضلِهِ وإحسانِهِ عليكم. {ولا يرضى لعباده الكفر}: لكمال إحسانِهِ بهم وعلمِهِ أنَّ الكفر يُشقيهم شقاوةً لا يسعدون بعدها، ولأنَّه خَلَقَهم لعبادتِهِ؛ فهي الغاية التي خَلَقَ لها الخلق؛ فلا يرضى أن يَدَعوا ما خلقهم لأجله.
{وإن تشكروا}: لله تعالى بتوحيدِهِ وإخلاص الدين له {يَرْضَهُ لكم}: لرحمته بكم ومحبَّته للإحسانِ عليكم ولِفعْلِكُم ما خَلَقَكُم لأجله، وكما أنَّه لا يَتَضَرَّر بشِرْككم ولا يَنْتَفِعُ بأعمالكم وتوحيدكم؛ كذلك كلُّ أحدٍ منكم له عملُه من خير وشرٍّ. {ولا تزِرُ وازرةٌ وِزْرَ أخرى ثم إلى ربِّكم مرجِعُكُم}: في يوم القيامة، {فينبِّئُكُم بما كنتُم تعملون}: إخباراً أحاط به علمُه وجرى عليه قلمُه وكتبتْه عليكم الحفظةُ الكرامُ وشهدتْ به عليكم الجوارحُ، فيجازي كلًّا منكم ما يستحقُّه. {إنَّه عليمٌ بذات الصدور}؛ أي: بنفس الصدور وما فيها من وصفِ بِرٍّ أو فجورٍ. والمقصود من هذا الإخبار بالجزاء بالعدل التامِّ.