تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { دَعَا رَبَّهٗ مُنِيْبًا اِلَيْهِ:} یعنی تکلیف اور مصیبت کے وقت وہ پورے خلوص کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس وقت اسے کوئی دوسرا معبود یاد نہیں رہتا، وہ سب سے مایوس ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ دلیل ہے کہ اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ بات موجود ہے کہ وہ تکلیف اس کا کوئی حاجت روا یا مشکل کُشا یا داتا یا دستگیر دور نہیں کر سکتا، اسے دور کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ {” مُنِيْبًا “} کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے غیروں کو پکارتا تھا، مصیبت کے وقت سب کو چھوڑ کر واپس اللہ کی طرف آجاتا ہے۔
➌ { ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ:} نعمت عطا فرمانے سے مراد اس تکلیف کا دور کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی نعمت مراد ہو سکتی ہے۔
➍ {نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوْۤا اِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ: ” اِلَيْهِ “} میں ضمیر {”هٗ“} سے مراد {” ضُرٌّ “} ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے: «وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآىِٕمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ» [یونس: ۱۲] ”اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر یا بیٹھا ہوا یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کی طرف، جو اسے پہنچی ہو، پکارا ہی نہیں۔“
➎ { وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ:} یعنی اللہ کی راہ (اسلام و توحید) سے وہ نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ ہمیں تو فلاں آستانے سے شفا نصیب ہوئی تھی، فلاں بزرگ کی نظر کرم سے ہم مصیبت سے نکل آئے اور فلاں حضرت جی کی توجہ سے ہماری کشتی کنارے آ لگی۔ اس طرح یہ جاہل جھوٹی کہانیاں گھڑ کر بے بس اور بے اختیار مخلوق کو اللہ کا شریک بتا کر لوگوں کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔
➏ {قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيْلًا …:} فرمایا، اس مشرک انسان کو کہہ دے کہ اپنے کفر و شرک کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہ کر کے حاصل ہونے والی لذتوں سے معمولی فائدہ اٹھا لے، مگر یہ بالکل تھوڑی مدت کے لیے ہے، بہت جلد یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اور تو آگ والوں میں شامل ہو کر ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنے والا ہے۔ آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۱۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[18] پھر وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دوسروں سے یوں کہنے لگتا ہے کہ ہمیں تو فلاں آستانے سے شفا نصیب ہوئی تھی۔ اور فلاں بزرگ کی نظر کرم کی وجہ سے ہم اس مصیبت سے بچ نکلے تھے اور فلاں بزرگ کی بارگاہ سے ہماری فلاں حاجت پوری ہوئی تھی اور ہمارے دن پھرے تھے اسی طرح دوسرے بہت سے لوگ بھی ان حضرتوں کے معتقد بن جاتے ہیں اور ہر جاہل اپنے اسی طرح کے تجربے بیان کر کر کے عوام میں گمراہی پھیلاتا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اے میرے بندو! تمہارے سب اول و آخر انسان و جن مل ملا کر بدترین شخص کا سا دل بنا لو تو میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آئے گی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2577]
ہاں اللہ تمہاری ناشکری سے خوش نہیں نہ وہ اس کا تمہیں حکم دیتا ہے اور اگر تم اس کی شکر گزاری کرو گے تو وہ اس پر تم سے رضامند ہو جائے گا اور تمہیں اپنی اور نعمتیں عطا فرمائے گا۔ ہر شخص وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو ایک کے بدلے دوسرا پکڑا نہ جائے گا اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ انسان کو دیکھو کہ اپنی حاجت کے وقت تو بہت ہی عاجزی انکساری سے اللہ کو پکارتا ہے اور اس سے فریاد کرتا رہتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:67]، یعنی ’ جب دریا اور سمندر میں ہوتے ہیں اور وہاں کوئی آفت آتی دیکھتے ہیں تو جن جن کو اللہ کے سوا پکارتے تھے سب کو بھول جاتے ہیں اور خالص اللہ کو پکارنے لگتے ہیں لیکن نجات پاتے ہی منہ پھیر لیتے ہیں انسان ہے ہی ناشکرا ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُ» ۱؎ [10-يونس:12]، یعنی ’ تکلیف کے وقت تو انسان ہمیں اٹھتے بیٹھتے لیٹتے ہر وقت بڑی حضور قلبی سے پکارتا رہتا ہے لیکن اس تکلیف کے ہٹتے ہی وہ بھی ہم سے ہٹ جاتا ہے گویا اس نے دکھ درد کے وقت ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ بلکہ عافیت کے وقت اللہ کے ساتھ شریک کرنے لگتا ہے ‘۔
پس اللہ فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگ اپنے کفر سے گو کچھ یونہی سا فائدہ اٹھا لیں ‘۔ اس میں ڈانٹ ہے اور سخت دھمکی ہے جیسے فرمایا «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:30] ’ کہدیجئیے کہ فائدہ حاصل کر لو آخری جگہ تو تمہاری جہنم ہی ہے ‘،اور فرمان ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ ہم انہیں کچھ فائدہ دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن كرمه بعبده وإحسانه وبرِّه وقلَّةِ شُكْرِ عبدِهِ، وأنَّه حين يمسُّه الضُّرُّ من مرض أو فقرٍ أو وقوع في كُربةِ بحرٍ أو غيره؛ أنَّه يعلم أنَّه لا يُنَجِّيهِ في هذه الحال إلاَّ الله، فيدعوه متضرِّعاً منيباً، ويستغيثُ به في كَشْفِ ما نزل به ويلحُّ في ذلك. {ثم إذا خَوَّلَه}: الله {نعمةً منه}: بأن كشف ما به من الضُّرِّ والكربةِ، {نَسِيَ ما كان يدعو إليه مِن قَبْلُ}؛ أي: نسي ذلك الضُّرَّ الذي دعا الله لأجله، ومرَّ كأنَّه ما أصابه ضرٌّ، واستمرَّ على شركه، {وجعل لله أنداداً ليضلَّ عن سبيلِهِ}؛ أي: لِيَضِلَّ بنفسِهِ ويُضِلَّ غيرَه؛ لأنَّ الإضلال فرعٌ عن الضلال، فأتى بالملزوم ليدلَّ على اللازم. {قل}: لهذا العاتي الذي بدَّلَ نعمة الله كفراً: {تمتَّعْ بكفرِكَ قليلاً إنَّك من أصحابِ النار}: فلا يغنيكَ ما تتمتَّعُ به إذا كان المآل النار، {أفرأيتَ إن متَّعْناهم سنينَ ثم جاءَهُم ما كانوا يوعدونَ. ما أغنى عنهُم ما كانوا يُمَتَّعونَ}.